سیف الدین سیف ۔۔۔ مری داستانِ حسرت وہ سنا سنا کر روئے

مری داستانِ حسرت وہ سنا سنا کر روئے
مرے آزمانے والے مجھے آزما کے روئے

کوئی ایسا اہلِ دل ہو کہ فسانۂ محبت
میں اسے سنا کے روؤں وہ مجھے سنا کے روئے

مری آرزو کی دنیا دلِ ناتواں کی حسرت
جسے کھو کے شادماں تھے اسے آج پا کے روئے

تری بے وفائیوں پر تری کج ادائیوں پر
کبھی سرجھکا کے روئے کبھی منہ چھپا کے روئے

جو سنائی انجمن میں شبِ غم کی آپ بیتی
کئی رو  کے مسکرائے کئی مسکرا  کے روئے

Related posts

Leave a Comment