سیف الدین سیف ۔۔۔ جب تصور میں نہ پائیں گے تمہیں

جب تصور میں نہ پائیں گے تمھیں
پھر کہاں ڈھونڈنے جائیں گے تمھیں

تم نے دیوانہ بنایا مجھ کو
لوگ افسانہ بنائیں گے تمھیں

حسرتو ! دیکھو یہ ویرانۂ دل
اِس نئے گھر میں بسائیں گے تمھیں

میری وحشت، مرے غم کے قصے
لوگ کیا کیا نہ سنائیں گے تمھیں

آہ میں کتنا اثر ہوتا ہے
یہ تماشا بھی دکھائیں گے تمھیں

آج کیا بات کہی ہے تم نے
پھر کبھی یاد دلائیں گے تمھیں

سیف یوں چھوڑ چلے ہو محفل
جیسے وہ یاد نہ آئیں گے تمھیں

Related posts

Leave a Comment