Category: Uncategorized
کوکی گل ۔۔۔ حبس ہی حبس ہے ہوا بھی نہیں
حبس ہی حبس ہے ہوا بھی نہیں اور وہ کھڑکی وہ در کھلا بھی نہیں وہ مسافت کہ پیر زخمی ہیں چاک دامن سلا ہوا بھی نہیں کشتی طوفاں میں گھر گئی میری اور مرے ساتھ ناخدا بھی نہیں وقت کے بھی عجیب چکر ہیں مجھ کو یہ وقت پر ملا بھی نہیں ماں تو بچپن میں مر گئی میری اب مرے ساتھ اک دعا بھی نہیں ہائے! یہ زیست کا سفر کوکی! کٹ گیا ہے مگر کٹا بھی نہیں
Read Moreعلی حسین عابدی ۔۔۔ شمار کرتے نہیں مجھ کو خاندان میں تم
شمار کرتے نہیں مجھ کو خاندان میں تم مجھے یہ ڈال رہے ہو کس امتحان میں تم یہ لگ رہا ہے نہیں مطمئن نشانے سے رکھو گے تیر بھلا کب تلک کمان میں تم یہ مانا حُسن میں رکھتے نہیں تم اپنا جواب کہ کامیاب نہیں عشق کی اُڑان میں تم تمہاری بندگی کرتا ہوں دیکھنا کیسے! حروف اپنے نہ ڈالو مری زبان میں تم محبتوں کے خزانے بکھیرتے ہی رہیں زمیں کی گود میں ہم اور آسمان میں تم ہوا میں اُڑتے پرندوں کو دیکھتے کیوں ہو اکیلے ہی…
Read Moreخاور اعجاز ۔۔۔ دو غزلیں
عیشِ دُنیا سے مجھے کوئی سروکار نہیں فقر منزل ہے مِری ، درہم و دینار نہیں زین کَس رکھی ہے اور باگ پکڑ رکھی ہے کون کہتا ہے کہ مَیں چلنے کو تیّار نہیں کس لیے پھرتی ہے دُنیا مِرے آگے پیچھے اِس سے مَیں بات بھی کرنے کا روادار نہیں رحلِ دل پر مجھے رکھیے نہ کہ طاقِ در پر مصحفِ شوق ہُوں مَیں پرزۂ اخبار نہیں میرے لفظوں کے دیے کچھ بھی نہ کام آ پائے لوگ کہتے رہے تقریر دھواں دھار نہیں ہاں میں ہاں روز مِلانے…
Read Moreآفتاب محمود شمس ۔۔۔ پھر کسی نے وہ کہاں شاداب دیکھے
پھر کسی نے وہ کہاں شاداب دیکھے پھولوں نے جب تتلیوں کے خواب دیکھے جن کی لہریں اپنی جاں میں گم گئی تھیں ہم نے دریا ایسے بھی پایاب دیکھے اس وجہ سے ہم نے آنکھیں موند لی ہیں کس کو فرصت اِن میں ڈوبے ، آب دیکھے کرگسوں کو تھی میسر بادشاہی جھونپڑی میں پلتے یاں سرخاب دیکھے وہ نہیں ہوں جو زمانہ کہہ رہا ہے مجھ کو دیکھے ، پھر وہ سب ، القاب دیکھے رات سوتی ہے سکوں سے اِس نگر میں شمس ہم کو کون اب…
Read Moreمحمد انیس انصاری ۔۔۔ اس کنول فام کو پہلو سے گزرتے دیکھا
اس کنول فام کو پہلو سے گزرتے دیکھا پھر وہ دن آیا ، ان آنکھوں میں اُترتے دیکھا آخری بار ، یہ دل اُس کی پناہوں میں ملا پھر افق پر نہ یہ سورج سا اُبھرتے دیکھا شہرِ آذر میں نہ تھا ہم سے وصال آسودہ روز پتھر پہ تجھے ہنستے ، سنورتے دیکھا زندگی اُڑ گئی جنگل کی ہوا کی مانند اِس نے مجھ آبلہ پا کو نہ ٹھہرتے دیکھا شام کے پہلے ستارے کی تمنا میں انیس! بارہا قافلۂ شوق بکھرتے دیکھا
Read Moreسیّد مجاور حسین رضوی ۔۔۔ غالب اور اٹھارہ سو ستاون
غالب اور اٹھارہ سو ستاون ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علامہ اقبال نے کہا تھا: قوم گویا جسم ہے، افراد ہیں اعضاےقوم منزلِ صنعت کے رہ پیما ہیں دست د پاےقوم محفلِ نظمِ حکومت، چہرۂ زیباےقوم شاعر ِرنگیں نوا ہے دیدہ بیناےقوم مبتلاےدرد کوئی عضو ہو،روتی ہے آنکھ کس قدر ہم درد سارے جسم کی ہوتی ہے آنکھ اردو کا شعری مزاج پہ رہا ہے کہ قوم کے تلوے میں کوئی کانٹا چبھا تو اس کی کھٹک اور چبھن شاعر نے اپنے دل میں محسوس کی۔اردو کا شاعر اس دیس کی مٹی سے کبھی…
Read Moreشوکت محمود شوکت ۔۔۔ دو غزلیں
نگاہِ نم میں طوفانوں کا منظر رقص کرتا ہے بھنور میں ساتھ اپنے تو سمندر رقص کرتا ہے ہمیں تو خرقہ پوشی راس آئی ہے جہاں والو! ہُما ، ورنہ فقیروں ہی کے سر پر رقص کرتا ہے تصور میں لیے ہر دم ، کوئی مہتاب سا چہرہ سرِ دشتِ جنوں اک خاک پیکر رقص کرتا ہے نگاہِ مست سے پیتے ہیں ، محو رقص رہتے ہیں زمانہ بھی ہمارے ساتھ ، اکثر رقص کرتا ہے غرورِ حسن سے کوئی ، ہوائوں میں اُڑے ایسے کہ جیسے شاخِ گُل پر…
Read Moreفرحت پروین ۔۔۔ تمھیں آزاد کرتی ہوں
تمھیں آزاد کرتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہ کوئی عُذر ڈھونڈواور نہ اب نظریں چرائو تممجھے معلوم ہےمیں سب سمجھتی ہوںتمھارے عہدِ الفت سے تمھیں آزاد کرتی ہوںاب ایسا ہے کہ پتھرکا زمانہ پھر سے لوٹ آیاوہی قانون جنگل کا، جبلت کا غلام انساںفرازِ عرش سے پاتال تک کا ہے سفر یعنیفراق و ہجر کے موسم ہوئے پارینہ قصے اببکثرت ہیں میسر اب تو معشوقانِ شیریں لبمیں ہوں حیرت زدہ اب تکوہ کیسے لوگ تھے آخرلہو سے کر گئے رنگین جو الفت کے قصوں کوعجب ہی رہ نکالی تھیوفا کی رسم ڈالی تھیمیں قصہ…
Read More