فرحت پروین ۔۔۔ تمھیں آزاد کرتی ہوں

تمھیں آزاد کرتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہ کوئی عُذر ڈھونڈواور نہ اب نظریں چرائو تممجھے معلوم ہےمیں سب سمجھتی ہوںتمھارے عہدِ الفت سے تمھیں آزاد کرتی ہوںاب ایسا ہے کہ پتھرکا زمانہ پھر سے لوٹ آیاوہی قانون جنگل کا، جبلت کا غلام انساںفرازِ عرش سے پاتال تک کا ہے سفر یعنیفراق و ہجر کے موسم ہوئے پارینہ قصے اببکثرت ہیں میسر اب تو معشوقانِ شیریں لبمیں ہوں حیرت زدہ اب تکوہ کیسے لوگ تھے آخرلہو سے کر گئے رنگین جو الفت کے قصوں کوعجب ہی رہ نکالی تھیوفا کی رسم ڈالی تھیمیں قصہ…

Read More