محمد علوی ۔۔۔ سکھانے بال ہی کوٹھے پہ آ گئے ہوتے

سکھانے بال ہی کوٹھے پہ آ گئے ہوتے اسی بہانے ذرا منہ دکھا گئے ہوتے تمہیں بھی وقت کی رفتار کا پتہ چلتا نکل کے گھر سے گلی تک تو آ گئے ہوتے گلا بھگو کے کہیں اور صدا لگا لیتا ذرا فقیر کو پانی پلا گئے ہوتے ارے یہ ٹھیک ہوا ہونٹ سی لیے ہم نے وگرنہ لوگ تجھے کب کا پا گئے ہوتے بھلا ہو چاند کا آتے ہی نور پہنچایا ستارے ہوتے تو آنکھیں چرا گئے ہوتے جوان جسموں کو ٹھنڈا نہ کر سکے لیکن ہوا کے…

Read More

جوش ملیح آبادی ۔۔۔ ادھر مذہب ادھر انساں کی فطرت کا تقاضا ہے

ادھر مذہب ادھر انساں کی فطرت کا تقاضا ہے وہ دامانِ مہِ کنعاں ہے یہ دستِ زلیخا ہے ادھر تیری مشیت ہے ادھر حکمت رسولوں کی الٰہی آدمی کے باب میں کیا حکم ہوتا ہے یہ مانا دونوں ہی دھوکے ہیں رندی ہو کہ درویشی مگر یہ دیکھنا ہے کون سا رنگین دھوکا ہے کھلونا تو نہایت شوخ و رنگیں ہے تمدن کا معرف میں بھی ہوں لیکن کھلونا پھر کھلونا ہے مرے آگے تو اب کچھ دن سے ہر آنسو محبت کا کنارِ آب رکنا باد و گلگشتِ مصلےٰ…

Read More

گلزار بخاری ۔۔۔ رباعیات

اللہ کے ہی اسم سے آغاز کریں اکرام و عنایات کا در باز کریں وہ ذات ازل سے ہے جو رحمان و کریم اس کے ہی کرم سے سُخن اعجاز کریں حق ہم سرائی کا ادا کیسے ہو عاجز کو یہ توفیق عطا کیسے ہو ہم وصف محمدؐ کے نہیں گن سکتے محمود کی توصیف و ثنا کیسے ہو ٹھہرے ہیں ولّی قبیلۂ ارباب سُخن کہنا ہے وہی محرم آداب سخن دَر تازہ مضامیں کا نہیں بند کبھی تا روزِ قیامت ہے کُھلا باب سُخن کہہ دو دل و جان…

Read More

اعجاز دانش ۔۔۔ جو مادرِ گیتی کا وفادار نہیں ہے

جو مادرِ گیتی کا وفادار نہیں ہے وہ شخص ہے فنکار ، قلمکار نہیں ہے دعویٰ ہے اگر مجھ سے محبت کا تجھے بھی مجھ کو بھی ترے پیار سے انکار نہیں ہے یہ غم کی کہانی میں کسے جا کے سناؤں دشمن ہیں بہت کوئی مرا یار نہیں ہے عاشق تو بنا پھرتا ہے ہر شخص یہاں پر جاں دینے کو لیکن کوئی تیار نہیں ہے میں جانتا ہوں میرے خدا تیرے علاوہ دینا میں مرا کوئی بھی غمخوار نہیں ہے بے خوف گزر جاؤں گا اس راہ گزر…

Read More

خاور اعجاز ۔۔۔ زیرِ تعمیر ہے دُنیا کے ستائے کا مکاں

زیرِ تعمیر ہے دُنیا کے ستائے کا مکاں ڈھونڈتا پھرتا ہُوں جنت میں کرائے کا مکاں یوں تو مِلتی ہیں ہزاروں ہی مقلد گاہیں شہر بھر میں نہیں اِک صاحبِ رائے کا مکاں اپنی پرچھائیں میں بھی سر نہ چھپائیں لیکن دھوپ میں دیکھنا پڑ جاتا ہے سائے کا مکاں اُس کی آنکھوں میں بہت دیر رہے ہیں لیکن راس آیا نہ کبھی ہم کو پرائے کا مکاں ہم سے گمناموں کو رہتی ہے یہ حسرت خاور ہو میسر ہمیں شہرت علی رائے کا مکاں

Read More