نئے شعری اُفق کا متلاشی :طارق بٹ طارق بٹ ایک صاحبِ اسلوب اور تخلیقی موج سے بھرپور شاعر ہیں۔لہٰذا اُن کے اب تک دو مجموعے طبع ہوچکے ہیں۔ اور تیسرے مجموعے ’’کتنے موسم خواب ہوئے‘‘ کا مسودہ میرے سامنے ہے۔ سامنے ہی نہیں بلکہ اس نے تو میری تفہیمی صلاحیتوں کو اس طرح آوازدی ہے کہ میں اس مجموعے میں شامل شاعری پر مسلسل غورکرتا رہا ہوں۔ویسے اس غوروفکر کو ان کے ایک فقرے نے مزید مہمیز کیا ہے جوانھوں نے اپنے دوسرے مجموعے کے ابتدائیہ میں درج کیا تھا…
Read Moreخالد علیم ۔۔۔ ’’کتنے موسم خواب ہوئے‘‘۔۔۔ ایک تاثر
’’کتنے موسم خواب ہوئے‘‘۔۔۔ ایک تاثر طارق بٹ کی شاعری کا ایک ہلکا سا تاثر ان کی ان غزلوں سے میرے ذہن میں اس وقت مرتب ہوا جب ماہ نامہ ’’فانوس‘‘ میں ان کی غزلیں اشاعت کے لیے آئیں اور وقتاً فوقتاً’’فانوس‘‘ کے بعض شماروں کا حصہ بنیں۔ تاہم مجموعی اور بھرپور تاثر کے لیے میرے سامنے ان کا کوئی مجموعہ نہیں تھا۔ اسے میری نارسائی کہہ لیجے یا کوتاہی کہ خواجہ رضی حیدر اور نوید صادق کے دیباچوں سے معلوم ہوا کہ ’’کتنے موسم خواب ہوئے‘‘ ان کا تیسرا مجموعہ…
Read Moreعذرا مظہر خانپوری ۔۔۔ تلمیحات راز۔۔۔۔ایک جائزہ
تلمیحات راز۔۔۔۔ایک جائزہ پروفیسر شفیق الر حمٰن الہ آبادی کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں وہ میلسی کے اولین نقاد محقق ہیں۔وہ میلسی رائٹرز فورم کے صدر ہونے کے ساتھ ساتھ گورنمنٹ کالج میلسی کے ’’بزم اقبال‘‘ کے بھی صدرہیں۔اس کے علاوہ وہ کالج میگزین (آب جو) کے مدیر کے عہدے پر بھی فائزہیں۔’’تلمیحات راز‘‘سے پہلے بھی پروفیسر شفیق الر حمٰن الہ آبادی کی چھ کتابیں منصہ شہودپر جلوہ گر ہوچکی ہیں جن میں آئینہ خیال(تحقیق و تنقید)،شاعر علی شاعر کی تخلیقی جہتیں(تحقیق و تنقید)،جاوید صدیق…
Read Moreآصف ثاقب ۔۔۔ بُرا تھا جو وہ اچھّا ہو گیا ہے
بُرا تھا جو وہ اچھّا ہو گیا ہے گھروں کا نور زندہ ہو گیا ہے تمھیں جانا تھا حسنِ گفتگو سے تمھارا بول بالا ہو گیا ہے پڑھے ہیں ہم نے دل سے میر و غالب ہمارا شوق پورا ہو گیا ہے نہیں لکھنا ہیں اب تعویذ اس کو ہمارا پیر اندھا ہو گیا ہے پرانے جاننے والے کہاں ہیں ہمارے بیچ جھگڑا ہو گیا ہے بہت اچھا ہوا ہے آج ثاقب کسی کا عشق رسوا ہو گیا ہے
Read Moreحسن نواز شاہ …. گوجر خان میں اُردو غزل کی روایت
گوجر خان میں اُردو غزل کی روایت گوجر خان میں اُردوشاعری کے رواج سے قبل چند ایک فارسی اور پنجابی زبانوں کے قدیم شعرا کے نام ملتے ہیں۔فارسی شعرا میں دس ویں اور گیارہ ویں صدی ہجری کے شیخ قطب الدین کا تعلق جلہاری بھائی خان سے تھا۔چند بندوں پر مشتمل اُن کا ایک خمسہ اُن کے اخلاف میں عبداللہ سہام نے اپنی تصنیف: اَسرار المحبت (سالِ تصنیف: ۱۱۶۰ھ)میں نقل کیا ہے ۔ گیارہ ویں اور بار ہویں صدی ہجری کے چند اور فارسی و پنجابی شعرا میں میاں محمد…
Read Moreانور شعور
سنے وہ، اور پھر کر لے یقیں بھی بڑی ترکیب سے سچ بولتا ہوں
Read Moreریاض ندیمؔ نیازی … حاضر اللہ سائیں
حاضر اللہ سائیں سیر و سیاحت کا عمل صدیوں سے جاری و ساری ہے۔ جو لوگ کسی دوسرے ملک، جگہ، شہر یا وادیِ پُرفضا کی سیر کرنے جاتے تھے وہ آ کر اپنے عزیز و اقارب، دوست احباب اور رشتے داروں کو اُس ملک، جگہ، شہر یا وادیِ پُرفضا کی عجیب و غریب، انوکھی اور ناقابلِ فراموش باتیں اور واقعات بتاتے تھے اور لوگ اُن کی باتوں اور واقعات کوسن کر حیرت زدہ رہ جاتے تھے اور کچھ لوگ تو اِن باتوں اور واقعات کو ناقابلِ یقین جانتے تھے۔ اِس…
Read Moreڈاکٹر وزیر آغا ۔۔۔۔۔ درانتی رقص کرتی ہے!
درانتی رقص کرتی ہے! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ درانتی رقص کرتی ہے زمیں پر گنگناتے انگنت خوشوں کے بادل میں درانتی کوندتی پھرتی ہے ہر خوشے کا بوسہ لے کے کہتی ہے: ’’تمھاری، بس تمھاری منتظر تھی مَیں‘‘ اُسے سینے سے چمٹاتی ہے جھولے میں جُھلاتی ہے اُسے میٹھی سی اِک لوری سناتی ہے! درانتی رقص کرتی ہے کبھی گھنگھرو، کبھی مُدرا کبھی جھک کر، کبھی اک دائرے میں گھوم کر چاروں طرف سو بار پھرتی ہے درانتی اک ہراساں نسل سے دامن چھڑا کر دوسری تک ایک یُگ کو پار کر کے…
Read Moreواجد امیر ۔۔۔ جنگِ آزادی یا غدر
جنگِ آزادی یا غدر ۔۔۔۔۔۔۔۔ صدا میرٹھ سے اُٹّھی تھی جہاں کے سرفروشوں نے یہاں کے غاصبوں اور تاجروں کے بھیس میں آئے درندوں ، کالے کوسوں ، اجنبی دیسوں سے گور ی چمڑی والے ، بے نسب ، مجہول اور مغرور، اکڑی گردنوں والوں کے آگے اِک خطِ انکار کھینچا تھا ہوا میرٹھ سے اُٹّھی تھی کہ جس نے حبس موسم ، بے ثمر لمحوں ، سُلگتی ٹوٹتی، بکھری ہوئی سانسوں کی اک ڈوری میں باندھاتھا صدا ہر دل سے اُٹھی تھی تو پھر منگل نے اک ٹوٹی ہوئی…
Read Moreمحمد نصیر زندہ ۔۔۔ رباعیات
دستار سے اوجِ عرفاں کیوں نہ ہوا سر عیب و ہنر کا عریاں کیوں نہ ہوا واعظ کی نادانی پہ رحم آتا ہے مسلم تو ہوا پر انساں کیوں نہ ہوا آوارہ خیال خواب داں میں اتر آئے نظارے پھسل کے سائباں میں اتر آئے وہ یاد کے رخسار پہ بوسے کا پھول خوشبو کے سبھی رنگ گماں میں اتر آئے قلزم کا سفیر آبلہ پا نکلا دریا بھی آرزو کا پیاسا نکلا آئینۂ رنگ میں در آئی تصویر افسانہ حقیقت کا تماشا نکلا اندیشۂ تعبیر سے ڈر جاتے ہیں…
Read More