زعیم رشید ۔۔۔ اُس پار

اُس پار ۔۔۔ جہاں تصویر بنواتے ہوئے   جو مسکراہٹ ہے         وہی چہرے پہ سچ مچ ہو  جہاں یہ سر مئی شامیں  پہاڑوں سے الجھتی ہوں  جہاں یہ چاندنی  شبنم کے سائے میں ٹہلتی ہو  جہاں امید کی سب کشتیاں دل کے سمندر میں اترتی ہوں  جہاں آنکھوں کے خوابوں کو حسیں تعبیر ملتی ہو  جہاں خاموشیوں نے آسماں کے راز کھولے ہوں جہاںان موسموں پہ دھوپ کا پہرا نہیں ہوتا جہاں سینے میں کوئی درد اُٹھتا ہو                مگر گہرا…

Read More

طارق بٹ ۔۔۔ گزرے گی کیسے شوق کو اَرزاں کیے ہوئے

(نذرِ غالب) گزرے گی کیسے شوق کو اَرزاں کیے ہوئے اس طور خود کو بے سر و ساماں کیے ہوئے بے زور ہیں، پہ رہتے ہیں، ہر آن خود سے ہم صد حیلہ ہائے دست و گریباں کیے ہوئے کیا اصلِ مدعا ہے کوئی جانتا نہیں یہ ہم جو لغزشوں کو ہیں عریاں کیے ہوئے فرصت جو دے یہ دنیا ، تو آئیں اِدھر کو بھی مدت ہوئی ہے ، آپ سے پیماں کیے ہوئے نشتر سے کم نہیں ہے ، جو نکلے ہے منہ سے بات رکھتے ہو، حرف…

Read More

محمد اشفاق بیگ ۔۔۔ رہنے کو جو اک دشت میں گھر ڈھونڈ رہے ہیں

رہنے کو جو اک دشت میں گھر ڈھونڈ رہے ہیں ہم خود میں اذیت کا ہنر ڈھونڈ رہے ہیں کل تک تھا جنھیں آبلہ پائی پہ بہت ناز وہ لوگ بھی صحرا میں شجر ڈھونڈ رہے ہیں ہر سمت محبت کے گلابوں کی مہک ہو آشائوں کا اک ایسا نگر ڈھونڈ رہے ہیں دیوار تو دونوں نے ہی مل کر تھی اٹھائی اب دونوں ہی دیوار میں در ڈھونڈ رہے ہیں تا عمر جفائوں کے جو بوتے رہے کانٹے وہ اپنی وفائوں کا ثمر ڈھونڈ رہے ہیں ہر کوچہ و…

Read More