اُس پار ۔۔۔ جہاں تصویر بنواتے ہوئے جو مسکراہٹ ہے وہی چہرے پہ سچ مچ ہو جہاں یہ سر مئی شامیں پہاڑوں سے الجھتی ہوں جہاں یہ چاندنی شبنم کے سائے میں ٹہلتی ہو جہاں امید کی سب کشتیاں دل کے سمندر میں اترتی ہوں جہاں آنکھوں کے خوابوں کو حسیں تعبیر ملتی ہو جہاں خاموشیوں نے آسماں کے راز کھولے ہوں جہاںان موسموں پہ دھوپ کا پہرا نہیں ہوتا جہاں سینے میں کوئی درد اُٹھتا ہو مگر گہرا…
Read Moreطارق بٹ ۔۔۔ گزرے گی کیسے شوق کو اَرزاں کیے ہوئے
(نذرِ غالب) گزرے گی کیسے شوق کو اَرزاں کیے ہوئے اس طور خود کو بے سر و ساماں کیے ہوئے بے زور ہیں، پہ رہتے ہیں، ہر آن خود سے ہم صد حیلہ ہائے دست و گریباں کیے ہوئے کیا اصلِ مدعا ہے کوئی جانتا نہیں یہ ہم جو لغزشوں کو ہیں عریاں کیے ہوئے فرصت جو دے یہ دنیا ، تو آئیں اِدھر کو بھی مدت ہوئی ہے ، آپ سے پیماں کیے ہوئے نشتر سے کم نہیں ہے ، جو نکلے ہے منہ سے بات رکھتے ہو، حرف…
Read Moreاحمد مشتاق
عجب کیا اس قرینے سے کوئی صورت نکل آئے تری باتوں کو خوابوں سے ملا کر دیکھ لیتا ہوں
Read Moreشکیل بدایونی
نہ جانے کس کے سہارے رکا ہوا ہے فلک ہمیں تو فرشِ زمیں پر کوئی ستوں نہ ملا
Read Moreفیض احمد فیض
وہ مرے ہو کے بھی مرے نہ ہوئے ان کو اپنا بنا کے دیکھ لیا
Read Moreغلام حسین ساجد
اس بار جب اجل سے مرا سامنا ہوا کشتی سے خواب، ہاتھ سے پتوار گر پڑے
Read Moreمحمد اشفاق بیگ ۔۔۔ رہنے کو جو اک دشت میں گھر ڈھونڈ رہے ہیں
رہنے کو جو اک دشت میں گھر ڈھونڈ رہے ہیں ہم خود میں اذیت کا ہنر ڈھونڈ رہے ہیں کل تک تھا جنھیں آبلہ پائی پہ بہت ناز وہ لوگ بھی صحرا میں شجر ڈھونڈ رہے ہیں ہر سمت محبت کے گلابوں کی مہک ہو آشائوں کا اک ایسا نگر ڈھونڈ رہے ہیں دیوار تو دونوں نے ہی مل کر تھی اٹھائی اب دونوں ہی دیوار میں در ڈھونڈ رہے ہیں تا عمر جفائوں کے جو بوتے رہے کانٹے وہ اپنی وفائوں کا ثمر ڈھونڈ رہے ہیں ہر کوچہ و…
Read Moreساقی فاروقی
دریا ہوں کسی روز معاون کی طرح مل یہ کیا کہ ہم اک لہر میں بہہ بھی نہیں سکتے
Read Moreمحسن اسرار
تم اپنے رزق کو ہم سے چھپا کے مت رکھنا گزر بسر کا طریقہ الگ ہمارا ہے
Read Moreانور شعور
سڑک پہ سوئے ہوئے آدمی کو سونے دو وہ خواب میں تو پہنچ جائے گا بسیرے تک
Read More