راجہ عبدالقیوم ۔۔۔ جب مچل اٹھتے ہیں جذبات تو میں لکھتا ہوں

جب مچل اٹھتے ہیں جذبات تو میں لکھتا ہوں تپنے لگتے ہیں خیالات تو میں لکھتا ہوں حبس و گرمی سے سلگتے ہوں شب و روز کہ پھر ٹوٹ کر برسے جو برسات تو میں لکھتا ہوں دور ماضی کے کسی بند دریچے سے کبھی جھانکنے لگتے ہیں لمحات تومیں لکھتا ہوں ضبط کی حد میںاگر ہوں تو انہیں سوچتا ہوں حد سے بڑھ جاتے ہیں صدمات تو میں لکھتا ہوں بات جو کہہ نہیں پاتا ہوں کسی سے برسوں دل میںچبھتی ہے وہی بات تو میں لکھتاہوں بات کہنی…

Read More

منظور ثاقب ۔۔۔ گفتگو لاجواب بیچیں گے

گفتگو لاجواب بیچیں گے پانی کہہ کر سراب بیچیں گے یاد رکھنا سدا کے یہ بھوکے اپنا گھوڑا رکاب بیچیں گے دیکھ لینا یہ ڈالروں کے عوض بارشوں کا عذاب بیچیں گے یہ جوعالی جناب کہتے ہیں کل یہ عالی جناب بیچیں گے غم کی قیمت تو ہونے دو معلوم لوگ خوشیاں شتاب بیچیں گے حرف و دانش کے ہم امیں ثاقب خوب دیکھیں گے خواب بیچیں گے

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ واجد امیر

مرا سُخن مرا حُسنِ کلام اُن کے لیے ہُنر میں جوہے وہ سب دام دام اُن کے لیے سحر کا غلغلہ ہنگامِ شام اُن کے لیے ہے بود و ہست کا سب اہتمام اُن کے لیے شِکوہ و شان اُنہیں کس طرح کرے مرعوب جب ایک جیسے ہیں سب خاص و عام اُن کے لیے پلٹ دیا گیا رفتارِ وقت کا برتن اُلٹ دیا گیا سارا نظام اُن کے لیے چمک اُنہی کے لیے مہر وماہ میں رکھی سجایا کاہکشاؤں کا بام اُن کے لیے کسی کی مسندِ خالی پہ…

Read More

واجد امیر ۔۔۔ بُجھے ہوئے تھے کئی دل چراغ جَل رہے تھے

بُجھے ہوئے تھے کئی دل، چراغ جَل رہے تھے ہم اپنے چہرے نہیں آئینے بدل رہے تھے کوئی وہاں سے مکاں چھوڑ کر چلا گیا تھا ہم اُس گلی میں بہت دور تک نکل گئے تھے زمیں ، زمانہ ،زیاں کی زبان بولتا تھا یقیں کی ڈور میں اُلجھے گُماں پھسل رہے تھے ہوائیں مِل کے اندھیرے سے بین کررہی تھیں چراغ اپنی لَویں تھام کر سنبھل رہے تھے کسی کا حُسن بہت پاس سے بُلا رہے تھا کسی کے دِل کو کئی مسئلے مسَل رہے تھے کوئی کنویں سے…

Read More

حامد یزدانی ۔۔۔ سفر کی شاخ پر (جنابِ اختر حسین جعفری کے لیے)

سفر کی شاخ پر (جنابِ اختر حسین جعفری کے لیے) …… سفر کی شاخ پر کِھلی تھیں ملگجی بشارتیں کُشادِ حرفِ ذات سے،سوادِ زخمِ خواب تک سفید جھاڑیوں میں تھیں شفق کی خشک بیریاں کہ جگنوؤں نے روشنی کا پیرہن اتار کر قدیم آسماں کے دائروں میں دفن کر دیا نواحِ جاں میں سرمئی سی بادلوں کی ڈھیریاں فرازِ برف زار سے،نشیب ِ ماہتاب تک غروبِ شامِ رفتگاں کی جل بجھی وصیّتیں ہجومِ رنگ میں گِھرے، اُڑے اُڑے جواب تک پسِ غبارِ آئنہ کوئی سوال رہ گیا کہِیں بس ایک…

Read More

علی تاصف ۔۔۔ دو غزلیں

اس بار ہاتھ تھام کے موقع پرست کا دیکھا ہے خواب رینگنے والے نے جست کا نزدیک آ چکی ہے وہ آواز دور کی اب وقت ہی کہاں ہے کسی بندوبست کا بہتر یہی کہ خود سے کیے جاؤں میں ادھار احسان کیوں اٹھاؤں کسی چیرہ دست کا آتا ہوں اس طرف بھی تماشہ تو دیکھ لوں وعدہ ہر ایک یاد ہے یومِ الست کا اس بار آئنہ ہے مقابل سو خود کو میں عادی بنا رہا ہوں ابھی سے شکست کا سچ جس کو ناگوار ہو اٹھ جائے شوق…

Read More

صغیر احمد صغیر ۔۔۔ اتنا خراب ہو کے بھی اچھا نہیں لگا

صغیر احمد صغیر کی یہ غزل کرب کی شدت اور حسنِ بیان کی لطافت کو یوں ہم آغوش کرتی ہے کہ قاری کے دل و دماغ پر ایک دیرپا اور گہرا تاثر ثبت ہو جاتا ہے۔

Read More

فرہاد ترابی ۔۔۔ ریشم و اطلس و کم خواب نہیں دیکھتے ہیں

ریشم و اطلس و کم خواب نہیں دیکھتے ہیں ہم پہ الزام ہے ہم خواب نہیں دیکھتے ہیں جب وہ آتا ہے سرِ شام لبِ بام کبھی آسماں ہم ترا مہتاب نہیں دیکھتے ہیں آپ اسے کچھ بھی کہیں آپ کی مرضی ہے جناب ٹھان لیتے ہیں تو اسباب نہیں دیکھتے ہیں یہ الگ بات کہ ہنستے ہوئے ٹالا ہے اسے دل پہ کیا گزری ہے احباب نہیں دیکھتے ہیں بستیاں جن کی ہوں دریا کے کنارے فرہادؔ گھر بناتے ہوئے سیلاب نہیں دیکھتے ہیں

Read More