انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیں وہ شاخِ گل کی صورت ناز سے بل کھائے جاتے ہیں اگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیں تو کیا اب عید ملنے کو فرشتے آئے جاتے ہیں رقیبوں سے نہ ملیے عید اتنی گرم جوشی سے تمھارے پھول سے رخ پر پسینے آئے جاتے ہیں وہ ہنس کر کہہ رہے ہیں مجھ سے سن کر غیر کے شکوے یہ کب کب کے فسانے عید میں دوہرائے جاتے ہیں نہ چھیڑ اتنا انھیں اے وعدۂ شب کی…
Read MoreTag: استاد قمر جلالوی کی تخلیقات
قمر جلالوی ۔۔۔ دونوں ہیں ان کے ہجر کا حاصل لیے ہوئے
دونوں ہیں ان کے ہجر کا حاصل لیے ہوئے دل کو ہے درد ،درد کو ہے دل لیے ہوئے دیکھا خدا پہ چھوڑ کہ کشتی کو نا خدا جیسے خود آگیا کوئی ساحل لیے ہوئے دیکھو ہمارے صبر کی ہمت نہ ٹوٹ جائے تم رات دن ستاؤ مگر دل لیے ہوئے وہ شب بھی یاد ہے کہ میں پہنچا تھا بزم میں ! اور تم اٹھے تھے رونق محفل لیے ہوئے بیٹھا جو دل تو چاند دکھا کر کہا قمر ! وہ سامنے چراغ ہے منزل لیے ہوئے
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ اگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیں
انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیں وہ شاخِ گل کی صورت ناز سے بل کھائے جاتے ہیں اگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیں تو کیا اب عید ملنے کو فرشتے آئے جاتے ہیں رقیبوں سے نہ ملیے عید اتنی گرم جوشی سے تمھارے پھول سے رخ پر پسینے آئے جاتے ہیں وہ ہنس کرکہہ رہے ہیں مجھ سے سن کر غیر کے شکوے یہ کب کب کے فسانے عید میں دوہرائے جاتے ہیں نہ چھیڑ اتنا انھیں اے وعدۂ شب کی پشیمانی…
Read Moreاستاد قمر جلالوی
اگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیں تو کیا اب عید ملنے کو فرشتے آئے جاتے ہیں
Read More