بحثیں فضول تھیں، یہ کھلا حال دیر میں افسوس! عمر کٹ گئی لفظوں کے پھیر میں ………………………….. انتخابِ اکبر الہ آبادی تصیح ترتیب: ڈاکٹر صدیق الرحمٰن قدوائی مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، دریا گنج، دہلی جون ۱۹۷۳ء
Read MoreTag: الہ آبادی
اکبر الہ آبادی
عشق کے فن میں ہے اکبر کا بھی درجہ عالی عیب کچھ اُس میں نہیں ضبط نہ کرنے کے سوا
Read Moreاکبر الہ آبادی….. یار نے کچھ خبر نہ لی، دل نے جگر نے کیا کیا
یار نے کچھ خبر نہ لی، دل نے جگر نے کیا کیا نالۂ شب سے کیا ہوا، آہِ سحر نے کیا کیا دونوں کو پا کے بے خبر، کر گئے کام حسن و عشق دِل نے ہمارے کیا کیا، اُن کی نظر نے کیا کیا صاحبِ تاج و تخت بھی موت سے یاں نہ بچ سکے جاہ و حشم سے کیا ہوا، کثرتِ زَر نے کیا کیا کھل گیا سب پہ حالِ دل، ہنستے ہیں دوست برملا ضبط کیا نہ رازِ عشق، دیدۂ تر نے کیا کیا اکبرِ خستہ دِل…
Read More