بدن بیکل نہ گردش میں لہو ہے یہ کیسا خوف میرے چار سو ہے ابھی جو دور ہے وہ روبرو ہے جو پہلو میں ہے اس کی جستجو ہے تمہارے دم سے میری زندگانی تمہارے دم سے میری آبرو ہے سمندر سے الجھتی ہے ہمیشہ یہ کتنی لا اُبالی آب جو ہے وہ تو ہے جو پسِ پردہ کھڑا ہے وہ میں ہوں سرپھرا جو کوبکو ہے ہماری بات کوئی کیا سنے گا بڑی پھیکی ہماری گفتگو ہے ہمارے دل میں ہے تصویر تیری ہماری آنکھ میں بھی تو ہی…
Read MoreTag: انصر حسن کی شاعری
انصر حسن ۔۔۔ بتانا تھا جِنھیں ان کو بتا کر میں نکل آیا (ماہنامہ بیاض لاہور 2023 )
بتانا تھا جِنھیں ان کو بتا کر میں نکل آیا کئی ہنستے ہوئے چہرے رلا کر میں نکل آیا وہ جس معصوم خواہش نے مجھے جینا سکھایا تھا اسی معصوم خواہش کو دبا کر میں نکل آیا میں جس کی مان جاتا تھا ، جو رستا روک لیتی تھی اسے بھی آج رستے سے ہٹا کر میں نکل آیا کہاں ہے ناشتہ میرا ؟ کدھر کپڑے گئے میرے ؟ ابھی چائے بناؤ گی ؟ نہا کر میں نکل آیا کسی کا آج بھی میرے دماغ و دل پہ قبضہ ہے…
Read More