مری ہر آس کے خیمے کی زینب بے رِدا کر دی یزیدِ وقت نے جوروستم کی انتہا کر دی اگر سر زد ہُوا حق مانگنے کا جرم تو اُس پر سزا کیسی مرے دستِ طلب نے کون سی ایسی خطا کر دی زمیں یا آسماں کا جو خدا تھا سامنے اُس کے جھُکایا سر، اٹھائے ہاتھ اور رو کر دعا کر دی وطن کی بد دعا پر ریزہ ریزہ ہو گیا کوئی کسی نے دیس پر جاں تک ہتھیلی پر سجا کر دی حیا آنکھوں میں اور سچّائیاں جذبات میں…
Read MoreTag: ماجد صدیقی
ماجد صدیقی ۔۔۔ جتنے کمتر ہیں یہ کہتے ہیں، خدا نے کیا کِیا
جتنے کمتر ہیں یہ کہتے ہیں، خدا نے کیا کِیا نفرتوں کی مشق ہی کو کیوں ہمیں پیدا کِیا روک ڈالے مرغزاروں، پنگھٹوں کے راستے گرگ نے کیا کیا غزالوں کا نہیں پیچھا کِیا بچ نکلنے پر بھی اُس کے ظلم سے ہم رو دئیے عمر بھر جو دھونس اپنی ہی تھا منوایا کِیا کوڑھ سی مجبوریاں تھیں لے کے ہم نکلے جنہیں نارسائی نے ہمیں کیا کیا نہیں رسوا کِیا موسموں کے وار اِس پر بھی گراں جب سے ہوئے پیڑ بھی ماجد ہمِیں سا جسم سہلایا گیا
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ تشنہ لب شاخچوں پر نئے سال کے پھول کھِلنے لگے
تشنہ لب شاخچوں پر نئے سال کے پھول کھِلنے لگے پھر بنامِ فلک عرضِ احوال کے پھول کھِلنے لگے اک ذرا سی فضائے چمن کے نکھرنے پہ بھی کیا سے کیا جسمِ واماندگاں پر خدوخال کے پھول کھِلنے لگے کھولنے کو، ضیا پاش کرنے کو پھر ظلمتوں کی گرہ مٹھیوں میں دمکتے زر و مال کے پھول کھلنے لگے پنگھٹوں کو رواں، آہوؤں کے گماں در گماں دشت میں لڑکھڑاتی ہوئی بے اماں چال کے پھول کھِلنے لگے دھند چھٹنے پہ مژدہ ہو، ترکش بہ آغوش صیّاد کو ازسرِ نو…
Read More