چوبِ اذیت! ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیں ساربانوں نے اونٹوں کی کَل سیدھی کرنے پہ رکھا نکیلیں کھلی چھوڑ دیں بگولے جو صر صر کی مستی میں جھکڑ بنے تو پھر ریت کے اونچے ٹیلے بھی ریگِ رواں ہو گئے شامِ صحرا بھی سیماب رُو چشمہ سے آبِ شب تاب کی مشکیں بھر بھر کے اونٹوں پہ لادے گئی ساربانوں نے دردوں کے بندھن جو ڈھیلے کیے تو پھر دارِ فرقت میں مہجور بستی کے خیمے اکھڑنے لگے برہا نصیبوں نےاکھڑی طنابوں کو چوبِ اذیت سے باندھا تو مہتاب کی بھی رگِ جاں…
Read MoreTag: ali asghar abbas
علی اصغر عباس ۔۔۔ گنبدِ آب
گنبدِ آب ۔۔۔۔۔۔۔۔ حسرت آیات تلاوت کر کے میں نے کہسارِ تمنا پہ کمندیں ڈالیں اور پھر شوقِ تماشا میں کئی آرزو پوش چٹانیں پھاندیں کتنی ارمان بھری جھیلوں پر یاس انگیز پرندے دیکھے جن کی مغموم صدا کاری سے کن زمانوں کی حزیں برف کے تودے پگھلے ایک اندوہ کا شوریدہ سر مضطرب ہوکے جو دریا بپھرا چشمِ محزون سے چشمے اُبلے آن کی آن میں رنجیدہ فلک ایسا غم ناک گھٹا ٹوپ ہوا میگھ ملہار سا دل دوز الاپ روح کے تارِ زیاں چھیڑتا تھا دلِ بے چین…
Read Moreعلی اصغر عباس ۔۔۔ چھوٹے سے اک کمرے میں
چھوٹے سے اک کمرے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ موسم کی تبدیلی کیسے طور دکھاتی ہے سرد ہوائیں برف کا لمس چرا کے شہروں کا رخ کرتی ہیں گرد اڑاتی اور دھواں پیتی سانسوں میں جم جاتی ہیں چھوٹے سے اک کمرے میں چارپائی پہ بوڑھا ہے یا وقت ِضعیفی اوڑھے لیٹا تنہائی کی سرحد کھینچے یاد کا چلّہ کاٹ رہا ہے دروازہ بھی دستک کا امکان دبائے چپکا ہے اجل سندیسہ روشن دان میں چڑیا کے انڈوں پر بیٹھا اونگھ رہا ہے!
Read Moreعلی اصغر عباس ۔۔۔ خوابِ یوسف !
خوابِ یوسف ! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے روشنی کی ضرورت سے باندھا گیا اور آنکھوں میں نور بھر کے دو نقطے تارِ تجلی کی ضوباریوں سے یوں گانٹھے گئے کہ وہ مہر و مہ کی رداے تحیر ّمیں لپٹے اجالےکی کومل گرہ دار کرنوں سے تاروں کے ٹانکے لگیں درخشانیوں نے سمندر کی تہ میں گرے چاند سورج کی تاب و تواں کی خبر پہاڑوں کی تابندہ برفوں کو دی تو رخشاں ہواؤں کے جھکڑ چلے آن کی آن میں کوہِ گماں پہ ٹکی آنکھ میں خوابِ یوسف ہویدا ہوا چاند، سورج،…
Read Moreعلی اصغر عباس ۔۔۔ آزمایش تھی کوئی یا امتحاں رکھا ہوا
آزمایش تھی کوئی یا امتحاں رکھا ہوا ایک بندش میں مرا یہ جسم و جاں رکھا ہوا ایک ہی کمزور لمحے میں مکمل ہوگیا میں کہ جو مضبوط بھی تھا ناتواں رکھا ہوا توڑنا آساں بہت ہے، پھاندنا مشکل بہت ایک بندھن جو ہے اپنے درمیاں رکھا ہوا کارِ لاحاصل رہی ہے آج تک کی زندگی کارنس پہ ہے یہ خالی مرتباں رکھا ہوا بے سرو سامانیوں میں کاٹ دی ساری حیات وہم سا تھابے یقینی میں گماں رکھا ہوا شوق تھا سنسان راہوں سے گذرنے کا مجھے مل ہی…
Read Moreعلی اصغر عباس ۔۔۔ شبِ سیاہ یہ کس کوکھ سے جنی ہوئی ہے
شبِ سیاہ یہ کس کوکھ سے جنی ہوئی ہے بڑے غرور سے جو یہ بنی ٹھنی ہوئی ہے وہ دُور طاق میں رکھے دیے کی روشنی بھی یہاں تو دھوپ سے بڑھ کر ہی کچھ غنی ہوئی ہے یہ کس ستارے پہ لادا گیا ہے نور کا بوجھ جو کہکشانوں پہ طاری یہ جانکنی ہوئی ہے کسی نے رینگتے دریا پہ کیا چراغ دھرا بھنور پہ کوئی مصیبت سی اب بنی ہوئی ہے پرندے اور مسافرتمام ٹوٹ پڑے ہمارے پیڑ کی چھاؤں ہی اب گھنی ہوئی ہے دریچے کھول کے…
Read Moreعلی اصغر عباس ۔۔۔ میں اپنے آپ سے پہلے ملا تھا آخری بار
میں اپنے آپ سے پہلے ملا تھا آخری بار اسے تو بعد میں ملنے گیا تھا آخری بار بچھڑتے وقت محبت بڑے عروج پہ تھی چراغ بجھنے سے پہلے جلا تھا آخری بار غبار آنکھوں میں پھیلا تھا بیتے لمحوں کا گذرتا وقت بھی رکنے لگا تھا آخری بار میں دونوں ہاتھوں میں تھامے اسے لرزتا تھا وہ اشک بار جو چہرہ ہنسا تھا آخری بار ہمارے دل جو دھڑکتے تھے ساتھ ساتھ کبھی خموش تھے، کوئی چپ چاپ ساتھا آخری بار وصال یافتہ یہ ہجر بھی عجیب سا تھا…
Read Moreعلی اصغر عباس ۔۔۔ گل پری کی ہے پھلجھڑی آواز
گل پری کی ہے پھلجھڑی آواز سننا چاہوں یہ ہر گھڑی آواز ایستادہ جمال زار میں ہے یوکلپٹس سی اک کھڑی آواز خواب سے خوش گلو پرندے کی چشمِ مخمور سے جھڑی آواز بارِ خاموش تھی صدا کاری دل کی سرگم تھی پھلجھڑی آواز خوب صورت صدا کا لپکا تھا مسکراہٹ سے جو بڑھی آواز ڈوبتے چاند کے اشارے پر کان پڑتی ہے دن چڑھی آواز طالبِ عشق نے علی اصغر عالمِ کیف میں پڑھی آواز
Read Moreعلی اصغر عباس ۔۔۔ یہ رہگذارِ گذشتہ بھی اک تحیرّ ہے
یہ رہگذارِ گذشتہ بھی اک تحیرّ ہے زماں دیارِ گذشتہ بھی اک تحیرّ ہے طلوعِ فردا کی ترقیمِ آفرینش میں ظہورِ کارِ گذشتہ بھی اک تحیرّ ہے حیات و موت کا یہ فلسفہ سمجھنے کو صلیبِ دارِ گذشتہ بھی اک تحیرّ ہے جو باغبانِ ازل کا ہے بوستانِ ابد یہاں بہارِ گذشتہ بھی اک تحیرّ ہے میں روبروےزمانہ ہوا تو جان لیا کہ شاہکارِ گذشتہ بھی اک تحیرّ ہے میں انحراف سے نکلا ثبات یافتہ ہوں سو اعتبارِ گذشتہ بھی اک تحیرّ ہے منادی عرصۂ آیندہ نے یہ حال میں…
Read Moreعلی اصغر عباس ۔۔۔ چبھی دل میں ہمارے سوزنِ درد
چبھی دل میں ہمارے سوزنِ درد کوئی کب تک سہارے سوزنِ درد چبھن دل میں کڑھائی کر رہی ہے کشیدہ رنج سارے، سوزنِ درد ابل آیا ہے چشمہ آنسوؤں کا سو اب ٹانکے ستارے، سوزنِ درد نگارندہ! تری نقشہ نگاری یہ ہے طُرفہ نگارِ سوزنِ درد کرے اندوہ کی پیوند کاری نہالِ غم سنوارے سوزنِ درد غروبِ آفتابِ زندگی کے کراتی ہے نظارے سوزنِ درد خوشی کی آرزو نے جو پھلائے وہی پھاڑے غبارے سوزن ِ درد ربابِ کرب کے یہ تار چھیڑے دکھائے دن میں تارے سوزنِ درد کشاکش…
Read More