حصارِ مہر جو مسمار ہوتا جاتا ہے دراز سایۂ دیوار ہوتا جاتا ہے یہ کس نے دُھوپ کنارے سے جھانک کر دیکھا افق بھی سرخیِ رخسار ہوتا جاتا ہے شکار گاہ میں ہانکا کرانے والا ہوں ہدف بھی میرا طلب گار ہوتا جاتا ہے شہابِ ثاقبِ دل ٹوٹ کر گرا جائے کمالِ دیدۂ مے خوار ہوتا جاتا ہے دیارِ ہجر میں پازیبِ غم چھنکتی سن شکیب درد کی جھنکار ہوتا جاتا ہے اشارہ پاتے ہی وہم و گماں، یقین ہوئے کشادہ جامۂ اسرار ہوتا جاتا ہے اے چوبِ خیمۂ جاں…
Read MoreTag: ali asghar abbas
علی اصغر عباس … نیامِ حرف میں شمشیر سے معانی رکھ
نیامِ حرف میں شمشیر سے معانی رکھ کمانِ شوق میں اک تیر سی کہانی رکھ نکل بھی خواب گزیدہ حصارِ نوم سے آنکھ نمودِ حسن کی یوں تو نہ پاسبانی رکھ پلٹ کے آئے گا فردا ، گذشتہ کی جانب نگار خانۂ امروز کی نشانی رکھ کسی خیال میں لا اُس کی بے خیالی کو کبھی دھیان میں اُس کی بھی بے دھیانی رکھ نزولِ عشق ، مصیبت ہی ناگہانی ہے یہ ناگہانی ، ہمیشہ ہی ناگہانی رکھ یہ زادِ راہِ محبت ہے، عشرتِ غم ہے میاں سنبھال کے یہ…
Read Moreعلی اصغر عباس ۔۔۔ سلام
سیاہ بخت سے لمحوں کے کیا نصیب ہوئےترے لہو کی لپک سے ضیا نصیب ہوئے مہ و نجوم محرم کے پہلے عشرے کےفنا کی اَور سے نکلے، بقا نصیب ہوئے عجیب تیرگی ظلمت کدے میں پھیلی تھیحریف نور کے سارے خطا نصیب ہوئے ضمیر جاگا تو اس کی پکار پر حُر بھیبتانِ وقت سے چھوٹے، خدا نصیب ہوئے کٹے تھے بازؤےعباس، مشک چھلنی تھیمگر وہ اس پہ بھی خوش تھے، وفا نصیب ہوئے کھلا تھا دشت مگر پھر بھی سانس گھٹتا تھامشامِ جاں سے ترے دم، ہوا نصیب ہوئے کنارِ…
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ علی اصغر عباس
عروجِ بندگی کا یہ صلا تھا کہ خود معبود اپنے گھر ملا تھا بنایا عرش پر مہمان اُن کو مقامِ عبد یوں ظاہر کیا تھا بٹھایا نوریوں میں اک بشر کو وہ پیکر نور سے بھی کچھ سِوا تھا شبِ اسریٰ نے یہ اسرار پایا نبی ؐ کا جسمِ اطہر معجزہ تھا ازل سے پیش تر بعدِ ابد تک کوئی کب دیکھنے والا دِکھا تھا گئے وقتوں کا وہ راوی مصدق کہ استقبال کا بھی پیش پا تھا مکمل، کامل و اکمل وہ انساں خدا کے فخر کا اظہاریہ تھا…
Read Moreنوید صادق ۔۔۔ جانے ٹوٹا تھا آسمان کہ دل (علی اصغر عباس کی غزل)
جانے ٹوٹا تھا آسمان کہ دل(علی اصغر عباس کی غزل) سوچ رہا ہوں ، بات کہاں سے شروع کی جائے، علی اصغر عباس کی شخصیت سے، علی اصغر عباس کی غزل سے، علی اصغر عباس کی نظموں سے ، حمدوں نعتوں سلاموں یا کالم نگاری سے… بات شخصیت کے حوالے سے کی جائے تو ایک ہنستا مسکراتا چہرہ… کم از کم میں نے علی اصغر عباس کو رنجور کبھی نہیں دیکھا۔دھیما لہجہ، دوسروں کو اپنے دامِ محبت میں گرفتار کر لینے کو یہ خوبیاں بہت ہیں۔ لیکن شخصیت محض انھی…
Read Moreنعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ علی اصغر عباس
نقطہ در نقطہ کُرہ حلقہء نعلین میں ہے مرکزہ زیست کا جو قابَ قوسین میں ہے لوحِ اثبات پہ کندہ ہے حقیقت ساری زندگی تیرا پتہ شجرہء حسنین میں ہے حلقہء بزمِ محبت ہے مدینہ طیبہ سبطِ احمد کے جو یہ ورطہء سبطین میں ہے کعبے کی اوٹ سے جودیدہء حیران کھلا اس کی حیرت ہی یہاں جلوہء کونین میں ہے شش جہت نور اُجالے سے منور کرتا آج بھی قلزمِ برکات رواں رین میں ہے وقت ساکن ہی رہا شعبِ ابی طالب میں خامشی صامت و مغموم فغاں بین…
Read Moreعلی اصغر عباس … جہالت کی کھیتی!
جہالت کی کھیتی! ……………….. فراغت کی چلمن سے لپٹی اداسی جو ساکن خموشی میں صوتی ردھم ڈھونڈتی ہے سماعت کے در پہ صداؤں کی دستک نے خوابوں کو توڑا تو آنکھوں نے سب نیندیں بیزار لمحوں کی آتش میں جھونکیں اچانک سے بیدار ہونے کا ناٹک رچایا کہ اذنِ تکلم کو ترسی زبانوں پہ کانٹے پڑے ہیں گماں ہے گیانی نے جب آبِ گریہ سے قُفلِ فراست کو دھویا تو دیکھا کہ دانش کی کنجی لگی ہے سوالوں کے زنداں میں قیدی کبوتر بھی پر جھاڑتے ہیں کہ وہ بھی…
Read Moreعلی اصغر عباس
میں بسر ہوتا ہوا زیست سے باہر نکلا زندگی سانس تلک ساتھ چلی ہے مجھ میں
Read Moreعلی اصغر عباس ۔۔۔ چاندنی عکسِ منور ہی مرے دوست کا ہے
چاندنی عکسِ منور ہی مرے دوست کا ہے حسنِ ضوبار مصور ہی مرے دوست کا ہے سرو قامت جو میں ہوں پست قدامت ہو کر میرے شانوں پہ سجا سر ہی مرے دوست کا ہے موج در موج تحرک ہی لپک ہے اُس کی دل، جنوں خیز سمندر ہی مرے دوست کا ہے اُس کی آنکھوں کی اداسی سے زمستاں چھائے پیڑ اس رت میں ثمر ور ہی مرے دوست کا ہے مرغزاروں پہ ہے رخسارِ حیا کا سایہ موسمِ گل،رُخِ انور ہی مرے دوست کا ہے گفتگو اس کی…
Read Moreعلی اصغر عباس
لوگ پیڑوں کی طرح مجبور تھے، جھکتے گئے مَیں پرندہ تھا، ہَوا کا سامنا کرتا رہا
Read More