ضبط اپنا شعار تھا نہ رہا دل پہ کچھ اختیار تھا نہ رہا دلِ مرحوم کو خدا بخشے ایک ہی غم گسار تھا نہ رہا آ کہ وقتِ سکونِ مرگ آیا نالہ ناخوش گوار تھا نہ رہا ان کی بے مہریوں کو کیا معلوم کوئی امیدوار تھا نہ رہا آہ کا اعتبار بھی کب تک آہ کا اعتبار تھا نہ رہا کچھ زمانے کو سازگار سہی جو ہمیں سازگار تھا نہ رہا اب گریباں کہیں سے چاک نہیں شغلِ فصل بہار تھا نہ رہا موت کا انتظار باقی ہے آپ…
Read MoreTag: faani badayuni
فانی بدایونی
وہ ہے مختار، سزا دے کہ جزا دے فانی دو گھڑی ہوش میں آنے کے گنہگار ہیں ہم
Read More