احمد مشتاق

سنگ اٹھانا تو بڑی بات ہے اب شہر کے لوگ آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے دیوانے کو

Read More

ابراہیم اشک

ﺑﮑﮭﺮﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﻟﻮﮒ ﺧﻮﺩ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺴﺎﮞ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﻋﺠﺐ ﺑﻨﺪﻭﺑﺴﺖ ﺗﮭﺎ

Read More

ابراہیم اشک

بس ایک بار ہی توڑا جہاں نے عہدِ وفا کسی سے ہم نے پھر عہد وفا کیا ہی نہیں

Read More