ذکرِ نعت آنکھیں جھکیں جو بابِ رسالت پناہ ؐ پر عُقدے کھلے جمال کے میری نگاہ پر ہے نور کی فضا تو سُبُک سیر کیوں نہ ہوں توصیفِ شاہ ؐ میں مرے لفظوں کے شاہ پر مدحِ نبی ؐ کا مجھ کو سلیقہ ، نہیں نہیں!! اُسلوبِ کوہ بھی کبھی کھلتا ہے کاہ پر! ذرّے کی کیا بساط کہ وہ تذکرہ لکھے آفاقِ بے کنار کے خورشید و ماہ پر یہ تو بس اک ذریعۂ اِظہارِ شوق ہے اس کا بھی اِنحصار ہے عجزِ نگاہ پر کھل جائے اے خدا!…
Read MoreTag: Literature
غلام حسین ساجد ۔۔۔ غفلت نہیں یہ مزرعِ فصلِ جدائی ہے
غفلت نہیں یہ مزرعِ فصلِ جدائی ہے خاموش ہو گئے ہیں کہ اِس میں بھَلائی ہے نکلی تھی صبح چہچہے سُن کر طیور کے آتے ہی شام بادِ صبا لَوٹ آئی ہے دیتے ہیں درس وہ مجھے دنیا سے ربط کا کیا یہ سزا کے بھیس میں اذنِ رہائی ہے اُس نے وہیں چراغِ ملامت جلایا ہے ہم نے جہاں جہاں کوئی بستی بسائی ہے کس نے مِرے وجود کو سائے میں لے لیا دیوار اِس نواح میں کس نے اُٹھائی ہے کہنی ہے تلخ بات کوئی اِس فقیر کو…
Read Moreغلام حسین ساجد ۔۔۔ سوچ سے ماورا اندھیرا ہے
سوچ سے ماورا اندھیرا ہے دھوپ کی انتہا اندھیرا ہے خواب میں جاگنا قیامت ہے نیند کا مسئلہ اندھیرا ہے مَیں چراغوں کا چاہنے والا میرے حق میں دُعا اندھیرا ہے صبح ہے، صبح کا اُجالا ہے رات ہے، رات کا اندھیرا ہے کارواں پاس ہے کہیں کوئی گنگناتا ہُوا اندھیرا ہے رات رخصت ہوئی ہے عُجلت میں طاق پر اَدھ جلا اندھیرا ہے آج کِس کا لہو بہایا گیا آج تو بے بہا اندھیرا ہے دھیرے دھیرے قدم بڑھاتا ہے دیکھتا بھالتا اندھیرا ہے روشنی داغ ہے مِرے دل…
Read Moreغلام حسین ساجد ۔۔۔ ہر شے مجھے نصیب ہے، پھر بھی سُکوں نہیں
ہر شے مجھے نصیب ہے، پھر بھی سُکوں نہیں کیا یہ فشارِ ذات ہے، کیا یہ جُنوں نہیں شاید کہیں قرار مِلے مجھ فقیر کو شاید کسی کا ہو سکوں، اپنا تو ہُوں نہیں الزام آ رہا ہے مِری بے نوائی پر تو کیا مَیں اب جواب میں کچھ بھی کہوں نہیں پہچاننے لگے ہیں سبھی آئنے مجھے اب اور اِس نواح میں شاید رہوں نہیں پیروں تلے زمین ہے پانی بَنی ہوئی سر پر جو آسمان ہے وہ بے ستوں نہیں مَیں روشنی پہ داغ ہوں وہ میری ذات…
Read Moreغلام حسین ساجد ۔۔۔ کچھ آسماں کی خبر ہے نہ اب زمیں معلوم
کچھ آسماں کی خبر ہے نہ اب زمیں معلوم گزر رہا ہوں کہاں سے مجھے نہیں معلوم لپک کے کیسے کسی خواب کو سنبھالنا ہے مجھے یہ رمز ہوئی آپ کے تئیں معلوم عجیب خوف ہے جاتا ہے اور نہ مِٹتا ہے لرز رہی ہے ابھی تک وہ شہ نشیں معلوم دمک رہے ہیں ستارے تمھاری آنکھوں کے مہک رہی ہے اندھیرے میں یاسمیں معلوم تمام رات سیاہی سے جُھوجَھتا ہے فلک سحر کے بعد یہ ہوتا ہے نیلمیں معلوم خود اپنی ذات کا اثبات کر رہا ہوں مَیں ہے…
Read Moreمیر تقی میر
شب کو اس کا خیال تھا دل میں گھر میں مہماں عزیز کوئی تھا
Read Moreمیر تقی میر ۔۔۔ تا بہ مقدور انتظار کیا
تا بہ مقدور انتظار کیا دل نے اب زور بے قرار کیا دشمنی ہم سے کی زمانے نے کہ جفاکار تجھ سا یار کیا یہ توہّم کا کارخانہ ہے یاں وہی ہے جو اعتبار کیا صد رگِ جاں کو تاب دے باہم تیری زلفوں کا ایک تار کیا ہم فقیروں سے بے ادائی کیا آن بیٹھے جو تم نے پیار کیا سخت کافر تھا جس نے پہلے میر مذہبِ عشق اختیار کیا
Read Moreمیر تقی میر ۔۔۔ خواہ مجھ سے لڑ گیا اب خواہ مجھ سے مل گیا
خواہ مجھ سے لڑ گیا اب خواہ مجھ سے مل گیا کیا کہوں اے ہم نشیں میں تجھ سے حاصل دل گیا اپنے ہی دل کو نہ ہو واشد تو کیا حاصل نسیم گو چمن میں غنچۂ پژمردہ تجھ سے کِھل گیا دل سے آنکھوں میں لہو آتا ہے شاید رات کو کش مکش میں بے قراری کی یہ پھوڑا چِھل گیا رشک کی جاگہ ہے مرگ اس کشتۂ حسرت کی میر نعش کے ہمراہ جس کی گور تک قاتل گیا
Read Moreمیر تقی میر ۔۔۔ عالم میں کوئی دل کا خریدار نہ پایا
عالم میں کوئی دل کا خریدار نہ پایا اس جنس کا یاں ہم نے خریدار نہ پایا حق ڈھونڈنے کا آپ کو آتا نہیں ورنہ عالم ہے سبھی یار کہاں یار نہ پایا تصویر کے مانند لگے در ہی سے گزری مجلس میں تری ہم نے کبھو بار نہ پایا مربوط ہیں تجھ سے بھی یہی ناکس و نااہل اس باغ میں ہم نے گلِ بے خار نہ پایا آئینہ بھی حیرت سے محبت کی ہوئے ہم پر سیر ہو اُس شخص کا دیدار نہ پایا وہ کھینچ کے شمشیرِ…
Read Moreمیر تقی میر ۔۔۔ اے دوست کوئی مجھ سا رسوا نہ ہوا ہوگا
اے دوست کوئی مجھ سا رسوا نہ ہوا ہوگا دشمن کے بھی دشمن پر ایسا نہ ہوا ہوگا ٹک گورِ غریباں کی کر سیر کہ دنیا میں ان ظلم رسیدوں پر کیا کیا نہ ہوا ہوگا ہے قاعدۂ کلی یہ کُوئے محبت میں دل گم جو ہوا ہوگا پیدا نہ ہوا ہوگا اس کہنہ خرابے میں آبادی نہ کر منعم اک شہر نہیں یاں جو صحرا نہ ہوا ہوگا آنکھوں سے تری ہم کو ہے چشم کہ اب ہووے جو فتنہ کہ دنیا میں برپا نہ ہوا ہوگا جز مرتبۂ…
Read More