بہت پچھتائے ہم بیمار ہو کر تماشا بن گیا اچھا نہ ہونا
Read MoreTag: Mohsin Asrar's writings
محسن اسرار
تیرے تعلقات پہ شک تو نہیں کوئی اندر سے توڑتے ہیں مگر واہمے مجھے
Read Moreمحسن اسرار
توڑے ہے کوئی پھول تو روندے کوئی سبزہ اک کھیل بنا رکھا ہے لوگوں نے چمن کو
Read Moreمحسن اسرار
کھلی فضا میں چلیں کیا کسی کا ڈر محسن جو ہونی تھی وہ تباہی تو ہو چکی اپنی
Read Moreمحسن اسرار
اُسی نے پیار کیا تھا اُداس بھی ہے وہی مگر یہ بوجھ ہماری بھی جان پر کچھ ہے
Read Moreمحسن اسرار
مرے وجود کے اندر اِدھر اُدھر کچھ ہے خبر نہیں یہ گماں ہے کہ ڈر مگر کچھ ہے
Read Moreمحسن اسرار
ہذیان بک رہا ہوں سخن کے بجائے میں تنبیہ کر رہا ہوں کہ مجنوں سنے مجھے
Read Moreمحسن اسرار ۔۔۔ پرائے دکھ بھی اپنے ہو گئے ہیں
پرائے دکھ بھی اپنے ہو گئے ہیں سبھی رنگ ایک جیسے ہو گئے ہیں گزرتے ہی نہیں لمحوں کی صورت نہ جانے کیسے لمحے ہو گئے ہیں لکھی ابلیس نے جھوٹی کہانی مگر کردار سچے ہو گئے ہیں بہت احسن طریقے سے بنے تھے مگر ہم لوگ کیسے ہو گئے ہیں عجب دیوار ہے ہستی ہماری دریچے ہی دریچے ہو گئے ہیں مگر اب تو ہمارے روز و شب بھی عدالت کے کٹہرے ہو گئے ہیں پیامی کو قضا نے آ لیا ہے ! کبوتر ، باز جیسے ہو گئے…
Read Moreمحسن اسرار
کیا رنگ لائے دیکھیے معصومیت کا دکھ ہر شخص ہی پکارتا ہے پیار سے مجھے
Read Moreمحسن اسرار
مجھے تو خیر سے مارا گیا ہے مگر وہ لوگ جو خود مر گئے ہیں
Read More