کچھ تو اِس دل کو سزا دی جائے اُس کی تصویر ہٹا دی جائے ڈھونڈنے میں بھی مزہ آتا ہے کوئی شے رکھ کے بھلا دی جائے نام لکھ لکھ کے ترا کاغذ پر روشنائی بھی گرا دی جائے ناؤ کاغذ کی بنا کر اس کو بہتے پانی میں بہا دی جائے رات کو چپکے سے اک اک گھر کی کیوں نہ زنجیر لگا دی جائے نیند میں چونک پڑے گا کوئی آؤ اس در پہ صدا دی جائے آخری سانس مہک جائے گی اس کے دامن کی ہوا دی…
Read MoreTag: Urdu adab
عزیز فیصل
وہ تیس سال سے ہے فقط بیس سال کی چہرے پہ آ چکی ہے بزرگی جمال کی
Read Moreشاہد ماکلی ۔۔۔ تری کشش کے کلیشے کو توڑنا پڑ جائے (ماہنامہ بیاض لاہور اکتوبر 2023 )
تری کشش کے کلیشے کو توڑنا پڑ جائے زمیں پہ تازہ روایت کی ابتدا پڑ جائے یہ لوگ دل سے نکلتے رہے تو ممکن ہے خلا کا نام کسی روز انخلا پڑ جائے زمیں پہ آدمی نایاب ہو نہ جائے کہیں چراغ ہاتھ میں لے کر نہ گھومنا پڑ جائے وہ کھو نہ جائے زمان و مکاں کی گلیوں میں فلک کی چھت سے نہ اس کو پکارنا پڑ جائے غبارِ غیب کو دیکھوں گا بند آنکھوں سے کھلی رکھوں گا تو آ نکھوں میں جانے کیا پڑ جائے رکھا…
Read Moreمحسن اسرار
عجب ڈر ہے تعلق ٹوٹنے کا یقیں آیا ہے تو شک میں پڑے ہیں
Read Moreقابل اجمیری
رفتہ رفتہ رنگ لایا جذبۂ خاموشِ عشق وہ تغافل کرتے کرتے امتحاں تک آ گئے
Read Moreعلمدار حسین ۔۔۔ وہ جو دریا تھا وہ دریا تھا نہیں (ماہنامہ بیاض لاہور ، اکتوبر 2023 )
وہ جو دریا تھا وہ دریا تھا نہیں خیر اچھا ہے میں پیاسا تھا نہیں اس میں جو ڈوبا وہ پھر ابھرا کہاں ظاہراً پانی جو گہرا تھا نہیں خیرگی کا اک بہانہ تھا فقط جو اجالا تھا ، اجالا تھا نہیں شہر میں ہر سمت پھیلے تھے سراب کوئی جیسا تھا ، وہ ویسا تھا نہیں وہ جو میرا تھا نہیں ، میرا تھا وہ وہ جو میرا تھا ، وہ میرا تھا نہیں دوستوں کو بھی کوئی پرخاش تھی پہلے ان کا یہ رویہ تھا نہیں یاد آئے…
Read Moreعاصم بخاری ۔۔۔ قطعات (ماہنامہ بیاض لاہور ، اکتوبر 2023 )
مخیر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بے حسی کی چٹان ، تھی نگری زندگی کی غریب ، نے جس میں کیا مخیر نہ تھے ، محلے میں ؟ خود کشی کی غریب نے جس میں رواداری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں شدت کہیں اس میں نہیں ہے یہ چاہت پیار ، الفت کا امیں ہے روا داری کو شاید ، تو نہ سمجھا مرا اِسلام ، حکمت والا دیں ہے لفظی لذت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بات سیدھے سبھاؤ ، ہر اپنی پھیر ، عاصم بخاری تھوڑی ہیں لفظی لذت کے واسطے اپنے شعر، عاصم بخاری تھوڑی ہیں مقصد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔…
Read Moreخالد احمد
لڑکھڑا کر دم نہ دے دیں ڈگمگاتی دوریاں دل میں بجھتی لو کی صورت کپکپاتی دوریاں
Read Moreزاہد خان ۔۔۔۔ شام ڈھلے جب رختِ سفر کو ہم نے اونٹ پہ بار کیا (ماہنامہ بیاض لاہور ، اکتوبر 2023 )
شام ڈھلے جب رختِ سفر کو ہم نے اونٹ پہ بار کیا اک تارے نے ریگستان میں راستے کو ہموار کیا نیر بہاتی سَسّی نے جب پُنَل کو آوازیں دیں ڈار سے بچھڑی کونج نے تب آواز کو اُس دم پار کیا جیون کاٹتے آ گئے ہیں ہم بچپن سے اپنے بڑھاپے تک وقت کی دو دھاری تلوار نے دیکھو کیسا وار کیا کام کی بابت پوچھے ہو تو کیا تم کو بتلائیں ہم قاصر* کی دھرتی والے ہیں ہم نے تو بس پیار کیا ہم دریا کی مستی لے…
Read Moreخالد احمد
آپ بھی دیں دامن کی ہوائیں پُھول کہاں تک آگ لگائیں
Read More