ہیں جتنے رنگ سب آپس میں ملتے جا رہے ہیں
مکانوں میں بھی پیدا لامکانی ہو رہی ہے
Related posts
-
-
راحت اندوری
بوتلیں کھول کر تو پی برسوں آج دل کھول کر بھی پی جائے -
راحت اندوری
شام نے جب پلکوں پہ آتش دان لیا کچھ یادوں نے چٹکی میں لوبان لیا
