ہیں جتنے رنگ سب آپس میں ملتے جا رہے ہیں
مکانوں میں بھی پیدا لامکانی ہو رہی ہے
Related posts
-
عدیم ہاشمی
تیرے لیے چلے تھے ہم تیرے لیے ٹھہر گئے تو نے کہا تو جی اٹھے تو... -
عدیم ہاشمی
سرِ صحرا مسافر کو ستارہ یاد رہتا ہے میں چلتا ہوں مجھے چہرہ تمہارا یاد رہتا... -
عدیم ہاشمی
جو مہ و سال گزارے ہیں بچھڑ کر ہم نے وہ مہ و سال اگر ساتھ...
