زہرا نگاہ
قیامِ پاکستان کے بعد شاعرات کی نسبتاً زیادہ تعداد سامنے آئی جنہوں نے غزل و نظم دونوں میں کمال درجے کی شاعری کی۔ایسی شاعرات میں ایک اہم نام محترمہ زہرا نگاہ کا ہے۔اُن کا شعری اختصاص یہ ہے کہ انہوں نے ایک طرف تو عورت کی زندگی کے جتنے روپ ہو سکتے ہیں اُن کو پیش کیا اور عورت کے وجود کا احساس دلایا تو دوسری طرف ہمارے سماج اور معاشرے میں اُس کے سلگتے مسائل پر بات کی۔یوں کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ زہرا کے ہاں عورت کا خالص طرزِ احساس بھی ہے، جس میں عورت کے دکھ اور خواب ہیں اور اُن کی شاعری ترقی پسندانہ خیالات سے مملو بھی ہے۔اُن کے ہاں سفر کی ابتدا کے نا پختہ جذبے نہیں ہیں اور نہ ہی جسم کے حوالے سے اشتہا انگیز اظہاریہ پا یا جاتا ہے بلکہ پختہ کار رویہ اور ایک اعتماد دکھائی دیتا ہے۔انہوں نے ادا جعفری کی طرح اپنے عہد کے مروّجہ شعری رویوں کو تج کر اور آگے بڑھ کر نیا اُسلوب اپنایا جس میں روز مرہ کے جذباتی معاملات کا بڑا دخل تھا۔جنہیں زہرا صنفِ نازک کی شاعری کہتی ہیں۔ جیسے ملائم گرم سمجھوتے کی چادر، قصیدہ بہار، نیا گھر، علی اور نعمان کے نام، سیاسی واقعات کے تاثرات بھی۔ فنی اعتبار سے اُن کے اظہار میں شائستگی اور سلیقہ ہے۔روایت کی پاسداری بھی ہے اور پروین شاکر کی طرح ایمائی اُسلوبِ بیاں بھی مگر فہمیدہ ریاض کا بے باکانہ انداز نہیں۔اُن کے ہاں تصنع نام کو نہیں۔ روایتی نقش و نگار اور آرائشی رنگ و روغن کا سہارا لیے بغیر شعر کہنا زہرا نگاہ کے شعری اسلوب کا خاصا ہے۔اُن منظومات میں نہ جدیدیت کے غیر شاعرانہ جذبات کا کوئی پرتو ہے اور نہ رومانویت کی شاعرانہ آرائش پسندی کا کوئی دخل ہے۔ تشبیہ و استعارے سے عاری ایک آدھ بلیغ مصرع جس سے پوری نظم کا سراپا جھلملانے لگے، اس کی سب سے اچھی مثال زہرا کی نظم شام کا پہلا تارا ہے۔وہ غزل کی بھی مقبول شاعرہ ہیں۔کہا جاتا ہے کہ انہوں نے تقسیمِ ہند کے واقعات کاقریب سے مشاہدہ کیا تھا لہٰذا ۱۹۵۳ء تک اُن کی شاعری ایسے واقعات کے بیان سے آگے نہ بڑھ سکی مگر شادی کے بعد زندگی کے دیگر معاملات اور مسائل بھی اُن کے سامنے آئے تو شاعری کا کینوس وسیع ہوتا چلا گیا۔ ان کی تخلیقات میں شام کا پہلا تارا، ورق اور فراق شامل ہیں۔آخر الذکر سے چند اشعار:
ایک کے گھر کی خدمت کی، اور ایک کے دل سے محبت کی
دونوں فرض نبھا کر اُس نے ساری عمر عبادت کی
٭
وہ نہ جانے کیا سمجھا، ذکر موسموں کا تھا
میں نے جانے کیا سوچا،بات رنگ و بو کی تھی
٭
ستم تو یہ ہے کہ ہر سیلِ بے لحاظ کے بعد
کوئی گہر بھی نصیبوں میں ساحلوں کے نہیں
٭
تعظیم اُسی کے لیے مخصوص رکھی تھی
وہ جس کو مرے قد کا نکلنا نہیں بھایا
٭
کیسے کیسے صاحبِ ثروت بکنے کو تیار ہوئے
جتنے کوچے تھے بستی کے سب کے سب بازار ہوئے
زہرا نگاہ کو شعر و سخن کا ذوق ورثہ میں ملا۔ اس لیے آپ نے صرف گیارہ سال کی عمر میں ایک نظم گڑیا گڈے کی شادی لکھی۔ انہوںنے جگر مراد آبادی کو اصلاح کی غرض سے ابتدائی کلام دکھایا مگر جگر مراد آبادی نے یہ کہہ کر اصلاح سے انکار کر دیا کہ تمہارا ذوقِِ مستحسن خود ہی تمہارے کلام کی اصلاح کر دے گا۔اُن کے آبا و اجداد کا تعلق بدایوں کی مردم خیز سر زمین سے تھا۔آپ کے والد قمر مقصود کا شمار بدایوں کے ممتاز لوگوں میں ہوتا ہے۔ مشہور ڈراما نویس فاطمہ ثریا بجیا آپ کی بڑی بہن اور مقبول عام ہمہ جہت رائٹر انور مقصود بھائی ہیں۔ زہرا نگاہ کا خاندان تلاش معاش میں حیدر آباد دکن میں آباد ہو گیا۔جہاں 14 مئی1937ء کے روز اُن کی ولادت ہوئی۔ تقسیم ہند کے بعد زہرا نگاہ اپنے خاندان کے ساتھ حیدر آباد دکن سے ہجرت کر کے کراچی آ گئیں اور یہیں پر اپنی تعلیم مکمل کی۔شاعری کے علاوہ دیگر فنونِ لطیفہ پر بھی گہری نظر رکھتی ہیں۔بہ طور ٹیلی وژن کمپئیر بھی معروف ہوئیں۔ہئیت کے اعتبار سے انہیں آزاد نظم زیادہ مرغوب ہے۔بحرِ ہزج میں اُن کے کلام میں سے ایک معروف آزاد نظم:
سنا ہے
سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے
سنا ہے، شیر کا جب پیٹ بھر جائے تو وہ حملہ نہیں کرتا
سنا ہے، جب کسی ندی کے پانی میں
بئے کے گھونسلے کا گندمی سایہ لرزتا ہے
تو ندی کی روپہلی مچھلیاں اُس کو پڑوسی مان لیتی ہیں
ہوا کے تیز جھونکے جب درختوں کو ہلاتے ہیں
تو مینا اپنے گھر کو بھول کر، کوے کے انڈوں کو پروں سے تھام لیتی ہے
سنا ہے، گھونسلے سے کوئی بچہ گر پڑے تو سارا جنگل جاگ جاتا ہے
ندی میں باڑھ آ جائے
کوئی پُل ٹوٹ جائے تو
کسی لکڑی کے تختے پر
گلہری، سانپ، چیتا اور بکری ساتھ ہوتے ہیں
سنا ہے، جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے
خدا وندا، جلیل و معتبر،دانا و بینا،منصف و اکبر
ہمارے دہر میں ا ب جنگلوں ہی کا کوئی دستور نافذ کر
