قمر جلالوی ۔۔۔ جا رہے ہیں راہ میں کہتے ہوئے یوں دل سے ہم

چھوٹ سکتے ہی نہیں طوفان کی مشکل سے ہم
جاؤ بس اب مل چکے کشتی سے تم، ساحل سے ہم

جا رہے ہیں راہ میں کہتے ہوئے یوں دل سے ہم
تو نہ رہ جانا کہیں اٹھیں اگر محفل سے ہم

وہ سبق آئے ہیں لے کر اضطرابِ دل سے ہم
یاد رکھیں گے کہ اٹھے تھے تری محفل سے ہم

اب نہ آوازِِ جرس ہے اور نہ گردِ کارواں
یا تو منزل رہ گئی یا رہ گئے منزل سے ہم

روکتا تھا نا خدا کشتی کہ طوفاں آگیا
تم جہاں پر ہو بس اتنی دور تھے ساحل سے ہم

لاکھ کوشش کی مگر پھر بھی نکل کر ہی رہے
گھر سے یوسفؑ، خلد سے آدمؑ، تری محفل سے ہم

ڈوب جانے کی خبر لائی تھیں موجیں تم نہ تھے
یہ گواہی بھی دلا دیں گے لبِ ساحل سے ہم

شام کی باتیں سحر تک خواب میں دیکھا کیے
جیسے سچ مچ اٹھ رہے ہیں آپ کی محفل سے ہم

کیسی دریا کی شکایت کیسا طوفاں سے گلہ
اپنی کشتی آپ لے کر آئے تھے ساحل سے ہم

جور میں رازِ کرم، طرزِ کرم میں رازِ جور
آپ کی نظروں کو سمجھے ہیں بڑی مشکل سے ہم

Related posts

Leave a Comment