سوچ میں گُم ہوں کہ جب نعتِ پئمبر لکھوںنور لکھوں کہ انہیں نور کا پیکر لکھوں آج کل شام و سحر میرا وظیفہ ہے یہیلکھ کے میں حمدِ خدا، مدحتِ سرور لکھوں اِس سے بڑھ کر بھی ہے پیرایۂ توصیف بھلا!کیوں نہ ہر صفحے پہ میں سورۂ کوثر لکھوں دامنِ رحمتِ عالم ہے دوعالم کو محیطسائبانِ کرم و شافعِ محشر لکھوں پرتوِ مہرِ حرا سے جو ضیا گیر ہوئےاُن رفیقانِ بنی کو مہ و اختر لکھوں میں کہ ہوں ان کے غلاموں کے غلاموں کا غلامخود کو کیونکر نہ حریفِ…
Read MoreMonth: 2021 اپریل
یزدانی جالندھری
ڈھل جاتی ہے الفاظ میں تاثیر ہوا کی فن کار بنا لیتا ہے تصویر ہوا کی
Read Moreیزدانی جالندھری ۔۔۔ صحن چمن میں ہر سو پتھر
صحن چمن میں ہر سو پتھر پھول تو پھول ہے خوشبو پتھر آج اک ایک کرن پتھرائی سورج، تارے، جگنو ،پتھر پتھرائے پتھرائے چہرے آنکھیں پتھر آنسو پتھر میری جانب ہر جانب سے آئے ہیں بے قابو پتھر راہ ِوفا پر چلنا مشکل ہر سو کانٹے ہر سو پتھر اہل جفا سے ہاتھ ملاتے ہو گئے میرے بازو پتھر اس ماحول میں گر جینا ہے یزدانیؔ ہو جا تو پتھر
Read Moreیزدانی جالندھری ۔۔۔ جھوٹ کی مہما
جھوٹ کی مہما ۔۔۔۔۔۔۔ سچ اک زہر ہے، زہرِ ہلاہل دیکھو، زہر نہ کھاؤ سچ کے پاس نہ جاؤ جھوٹ بَلی ہے، مہا بَلی ہے جھوٹ کی مہما گاؤ ابراہیم نے سچ بولا تھا جس کا صلہ تھا جلتا ہوا الاؤ سچ سقراط نے بھی بولا تھا اور جامِ زہراب پِیا سچ منصور کے لب پر آکرسرافرازِ دار ہوا عرصۂ کرب و بلا میں حق تھا تشنہ دہن، مظلوم، برستے تیروں کی بارش میں تنہا دارو رسن سے کھیلنا چاہو تو حق کو اپناؤ ہنس کر پی لو زہرِ ہلاہل…
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم … سعید شارق
طیبہ کے بادلوں کی جھڑی چاہیے مجھےمکہ کی دھوپ، اور ، کڑی ، چاہیے مجھےوہ خار اپنے پاؤں میں پیوست چاہئیںوہ دھول اپنے سر میں پڑی چاہیے مجھےمیں رہگزارِ غم سے بنوں شاہراہِ عشقنعلِ حضور دل پہ جڑی چاہیے مجھےمیں بھی نخیلِ نعت سے کچھ پھل اتار لوںہاتھوں میں فن کی ایسی چھڑی چاہیے مجھےجب بھی پڑے نگاہ، نظر آئے اُنؐ کا دوردیوارِ جاں پہ ایسی گھڑی چاہیے مجھے
Read Moreسعید شارق
میں کبھی ہنستا بولتا بھی تھا ایک تصویر سے روایت ہے
Read Moreسعید شارق
دیکھ! آ پہنچا ہوں کس طرح سرِ کوہِ ملال میں وہی ہوں، جسے اُونچائی سے ڈر لگتا تھا
Read Moreسعید شارق ۔۔۔ ایک تاریک ہوتے ستارے سے اپنا خلا بھر رہا ہوں
ایک تاریک ہوتے ستارے سے اپنا خلا بھر رہا ہوںکس لیے خود کو خالی کیا تھا کبھی اور کیا بھر رہا ہوں!وہ بھی دن تھے یہاں خواہشوں کا کئی منزلہ گھر بنا تھااور اب رنج کی کالی مٹی سے دل کا گڑھا بھر رہا ہوںمجھ کو معلوم ہے اب ترے کان پہلے سے تشنہ نہ ہوں گےپھر بھی لفظوں کے خالی کٹوروں میں آبِ صدا بھر رہا ہوںآج دل میں اُداسی کے پہلے جنم دن کی تقریب ہو گیشام سے قہقہوں کے غبارے اُٹھائے ہوا بھر رہا ہوںاس عبارت میں کچھ…
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم … غلام حسین ساجد
خاک کا پُتلا ہوں لیکن منحرف ہوں خاک سے ہے مجھے قلبی ارادت سیّدِ لولاک سے سانس لیتا ہوں تو خوشبو سے مہک اٹھتا ہوں میں دل کی ہر دھڑکن کو نسبت ہے رسولِ پاک سے سُنبل و ریحاں ہیں اُن کے کاکُلِ پیچاں کا نقش رس ٹپکتا ہے لبِ شیریں کا شاخِ تاک سے گُنبدِ خضرا کی تابانی کا کیا مذکور ہو نور کی بارات اُتری ہے کہیں افلاک سے چُومتا ہے آپ کے قدموں کی مٹّی آسماں ماورا ہے آپ کی رفعت حدِ ادراک سے آپ کی ہاتھوں…
Read Moreغلام حسین ساجد
کس لیے میرے کاندھوں پہ رکھّے گئے ہیں زمان و مکاں کیا مری روح پر میری تقصیر کا بوجھ کافی نہ تھا
Read More