خواب کے درمیاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نیند آتی نہ تھی چاک پر گُھومتی چھائوں پر ہونٹ رکھنے کی لذّت سے محروم ہوتے گگن پر اُتر آئی تھی،خواب کی روشنی سے اُمڈتی تھکن خون میں رقص کرتی ہوئی دُھند کی لجلجی لہر سے پُھوٹ نکلا تھا،آنکھوں کو مہمیز کرتی ہوئی دُھوپ کا زنگ کھایا بدن خاک آلودہ کُوچوں میں بہنے لگے تھے کسی موجِ حیرت سے پیوستہ سرو و سمن کوئی دیوانہ پن رُت بدلتی نہ تھی ہجر کی آنچ پر جُھولتے جسم میں جمع ہونے لگی تھی گُل ِغیب کی آگ سے…
Read MoreMonth: 2021 اپریل
غلام حسین ساجد … نقّارے پر چوٹ پڑی ہے ، پِڑ باندھا سیّاروں نے
نقّارے پر چوٹ پڑی ہے ، پِڑ باندھا سیّاروں نے ریشم کی دیوار تنی تو سُکھ مانا معماروں نے میں نے بھی اک ناؤ بنا کر صحرا کی پیمائش کی ساگر میں جب شہر بسایا پتّھر کے بنجاروں نے پانی کی زنجیر نہ ٹُوٹی،منظر موم نہ ہو پائے دریا کے لب سی رکھّے تھے دو ناراض کناروں نے اُس ندّی کے پار اترنا اب بھی ممکن ہو نہ سکا اپنی سی کوشش تو کر دیکھی ہے کھیون ہاروں نے ایک قیامت خیز چمک کے ساتھ قیامت ٹوٹ پڑی بستی…
Read Moreیوسف خالد ۔۔۔ پانی کا ریلا
پانی کا ریلا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پہاڑوں سے اترتا تند رو پانی کا ریلا کس قدر منہ زور ہوتا ہے کسی صورت کوئی بھی اس کا رستہ روکنا چاہے تو ٹکراتا ہے غراتا ہے اپنی موج میں بہتا چلا جاتا ہے کچھ پروا نہیں کرتا چٹانیں توڑتا ہے پتھروں کو ریزہ ریزہ کرتا جاتا ہے کبھی غصے میں بل کھاتا ہے سر اوپر اٹھاتا ہے عجب انداز سے سارے مناظر دیکھتا ہے راستے ہموار کرتا ہے جنوں کی داستاں تحریر کرتا بڑھتا جاتا ہے پہاڑوں کی بلندی سے اتر کر وادیوں میں…
Read Moreنعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔۔ یوسف خالد
رہبر و رہنما یا نبی آپ ہیں منبعِ نور ہیں راستی آپ ہیں بے کسوں کے لیے آپ ہیں آسرا دوجہانوں کی تابندگی آپ ہیں روشنی جس قدر بھی زمانے میں ہے آپ کی ہے عطا روشنی آپ ہیں جو ہمارے تصور سے ہے ما ورا دونوں عالم کی وہ دلکشی آپ ہیں آپ کا ذکر ہے راحتِ قلب و جاں غم زدوں کے لیے ہر خوشی آپ ہیں آپ کے فیض سے زندگی زندگی زندگی کچھ نہیں زندگی آپ ہیں
Read Moreیوسف خالد
خوشبو سے کبھی ٹوٹا نہیں ربط ہمارا ہم ہجر میں بھی صورتِ لوبان جلے ہیں
Read Moreیوسف خالد… بھولا ہوا نہیں ہوں بھلایا ہوا ہوں میں
بھولا ہوا نہیں ہوں بھلایا ہوا ہوں میں شاید کسی کہانی میں لکھا ہوا ہوں میں نقشِ قدم ہوا سے مٹائے نہ جا سکے اس طور اِک دیار سے گزرا ہوا ہوں میں مت جان کہ میں ذات کے معبد میں قید ہوں فطرت کی پور پور میں اترا ہوا ہوں میں پھولوں میں کر تلاش مجھے خوشبوؤں میں ڈھونڈ ان وادیوں میں ہی کہیں کھویا ہوا ہوں میں اب تک فضا میں گونجتی ہے اس کی باز گشت اک گیت کی طرح کہیں گایا ہوا ہوں میں منظرسبھی سجے…
Read Moreجلیل عالی
خیر دنیا سے سیاست سہی دنیا والی خود سے جو عہد کیا وہ تو نبھایا جائے
Read Moreجلیل عالی ۔۔۔ سپنوں کے سب رنگ ڈھلیں تعبیروں میں
سپنوں کے سب رنگ ڈھلیں تعبیروں میں یہ انعام کہاں اپنی تقدیروں میں ریزہ ریزہ خود کو ڈھونڈ رہا ہوں میں نقطہ نقطہ البم کی تصویروں میں بستی کا ہر چہرہ بھید کتابوں کا ایک کہانی شامل سب تحریروں میں اک دوجے کی الجھن کا سلجھائو بھی قید بھی ہم اپنی اپنی زنجیروں میں عالی اک دن پلکوں سے سب چھانٹو گے جتنے کنکر پھینک رہے ہو ہیروں میں
Read Moreنعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ جلیل عالی
ایک لمحہ کہ ملیں سارے زمانے جس میں ایک نکتہ سبھی حکمت کے خزانے جس میں دائرہ جس میں سما جائیں جہانوں کی حدود آئنہ جس میں نظر آئے عدم کا بھی وجود فرش پر عرش کی عظمت کی دلیلِ محکم خلق پر رحمتِ خالق کی سبیلِ محکم دسترس اُس کی نگاہوں کی کراں تا بہ کراں وہ تجسس کے لئے آخری منزل کا نشاں ایک توسیع کہ قسمت کی لکیروں میں رہے ایک تنبیہ کہ بیدار ضمیروں میں رہے
Read Moreجلیل عالی ۔۔ ا ب ج د
ا ب ج د……….جیسے فضا میںکبھی کبھی آوارہ بادلاک واضح تصویر کی حیرت بن جاتے ہیںجیسے درختوں کی شاخوں پرکبھی کبھی سر مست ہوائوں کے جھونکوں سےپتّوں کی آوازیںخوش آہنگ سُروں میں ڈھل جاتی ہیںجیسے کبھیہلکی ہلکی بارش کی بوندیںریت کی تختی پر پل بھر کونام کسی کا لکھ دیتی ہیںجیسے کوئی ننھا سا بچّہپہلی بار اچانک اک دنٹُوٹے پھُوٹے لفظ ملا کرپُوری بات بنا لیتا ہے
Read More