میر تقی میر ۔۔۔ اس گل زمیں سے اب تک اُگتے ہیں سرو جس جا

اس گل زمیں سے اب تک اُگتے ہیں سرو جس جا مستی میں جھکتے جس پر تیرا پڑا ہے سایا پوجے سے اور پتھر ہوتے ہیں یہ صنم تو اب کس طرح اطاعت ان کی کروں خدایا تاچرخ نالہ پہنچا لیکن اثر نہ دیکھا کرنے سے اب دعا کےمیں ہاتھ ہی اُٹھایا آخر کو مر گئے ہیں اُس کی ہی جستجو میں جی کے تئیں بھی کھویا لیکن اُسے نہ پایا لگتی نہیں ہے دارو ہیں سب طبیب حیراں اک روگ میں بِساہا جی کو کہاں لگایا

Read More

میر تقی میر ۔۔۔ مانندِ شمعِ مجلس شب اشک بار پایا

مانندِ شمعِ مجلس شب اشک بار پایاالقصّہ میرکو ہم بے اختیار پایااحوال خوش انھوں کا ہم بزم ہیں جو تیرےافسوس ہے کہ ہم نے واں کا نہ بار پایاشہرِ دل ایک مدت اجڑا بسا غموں میںآخر اجاڑ دینا اس کا قرار پایااتنا نہ تجھ سے ملتے نَے دل کو کھو کے روتےجیسا کیا تھا ہم نے ویسا ہی یار پایاکیا اعتبار یاں کا پھر اُس کو خوار دیکھاجس نے جہاں میں‌ آکر کچھ اعتبار پایاآہوں کے شعلے جس جا اٹھتے تھے میرسے شبواں جا کے صبح دیکھا مشتِ غبار پایا

Read More

میر تقی میر ۔۔۔ اُس فریبندہ کو نہ سمجھے آہ!

اُس فریبندہ کو نہ سمجھے آہ! ہم نے جانا کہ ہم سے یار ہوا مرچلے بے قرار ہوکر ہم اب تو تیرے تئیں قرار ہوا وہ جو خنجر بکف نظر آیا میرؔ سو جان سے نثار ہوا

Read More

میر تقی میر ۔۔۔ مر رہتے جو گُل بِن تو سارا یہ خلل جاتا

مر رہتے جو گُل بِن تو سارا یہ خلل جاتانکلا ہی نہ جی ورنہ کانٹا سا نکل جاتامیں گریۂ خونیں کو روکے ہی رہا ورنہیک دم میں زمانے کا یاں رنگ بدل جاتابِن پوچھے کرم سے وہ جو بخش نہ دیتا توپُرسش میں ہماری ہی دن حشر کا ڈھل جاتا

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ صائمہ نفیس

صائمہ نفیس صائمہ نفیس اِن دنوں کراچی ریڈیو اسٹیشن سے’’ادب سرائے‘‘ کے نام سے ایک ادبی پروگرام کر رہی ہیں۔معروف ادبی جریدے ’’دنیائے ادب‘‘ کی نائب مدیرہ ہیں۔آرٹس کونسل کراچی کی بہت فعال رکن ہیں اور وہاں منعقد ہونے والی تقریبات میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’رودالی‘‘ کے نام سے ۲۰۰۶ء میں منظر عام پر آیا تھا۔ کتاب میں کُل 16 افسانے شامل تھے۔افسانہ نگار کا اسلوبِ بیاں شائستہ، رواں، سادہ اور عام فہم تھا۔کہیں کوئی علامت اور تجرید نہیں تھی۔عدم ابلاغ کا…

Read More

عمران اعوان… یہ جو آنکھوں پہ بند تالے ہیں

یہ جو آنکھوں پہ بند تالے ہیں میں نے کچھ خواب بیچ ڈالے ہیں میں تجھے یاد بھی نہیں کرتا نہ ہی میسج ترے سنبھالے ہیں آج کچھ بے قرار لگتے ہیں سانپ جو آستیں میں پالے ہیں باغِ دل اس طرح سے اجڑا ہے نہ ہی بلبل ہے نہ ہی نالے ہیں کتنی زرخیز ہو گئی مٹی جب سے کچھ درد اس میں ڈالے ہیں اس نے پھولوں سے چن لئے کانٹے زندگی سے نہیں نکالے ہیں جو بتائے تھے بانٹنے کے لئے اس نے وہ دکھ مرے اچھالے…

Read More

احمد حسین مجاہد ۔۔۔آصف ثاقب(پاکستانی ادب کے معمار)

پاکستانی ادب کے معمار کے سلسلہ میں ایک اور خوبصورت اضافہ جناب احمد حسین مجاہد کی نئی کتاب ”   آصف ثاقب، شخصیت و فن ” اکادمی ادبیات پاکستان سے شائع ہو گئی ہے

Read More