بس ایک لمحے میں دل کی قیمت نکال دی تھی، مثال دی تھی کہ خاک لے کر ہوا میں اس نے اچھال دی تھی، مثال دی تھی
Read MoreMonth: 2022 مارچ
اکمل حنیف
بجھ کر جلا چراغ تو منظر وہی رہا اک شخص بھی گیا نہ اجازت کے باوجود
Read Moreنعمان منظور
اٹھائے پھرتا ہوں سر پر سدا دَر و دیوار اگرچہ ساتھ مرے گھر کہیں نہیں جاتا
Read Moreڈاکٹر فخر عباس
کوشش ہوتی ہے ترتیب نہ زائل ہو جب بھی کوئی چیز اُٹھا کر رکھتا ہوں
Read Moreڈاکٹر یونس خیال
اپنے چکر میں پڑا ہوں اس طرح جس طرح پرکار کا اندھا سفر
Read Moreڈاکٹر اختر شمار
وہ جس کو سوچ کے بینائی جھوم اُٹھی تھی اُس ایک لفظ میں اُترے تو اور منظر تھا
Read Moreازورشیرازی ۔۔۔ تو لائے گا نہیں ایماں کبھی محبت پر
تو لائے گا نہیں ایماں کبھی محبت پر تجھے یقیں جو نہیں ہے مری محبت پر فریبِ سودوزیاں کے خیال سے پہلے ہماری گفتگو ہوتی رہی محبت پر کئی دنوں سے پریشاں دکھائی دیتا ہے بہت نکلتی تھی جس کی ہنسی محبت پر میں نفرتوں کے خداؤں سے خوف کھاتا نہیں مرا یقین ہے قائم ابھی محبت پر اسی لیے تو قبائل میں جنگ جاری ہے کہ اکتفا نہیں کرتے سبھی محبت پر اگر ہے اہلِ زمانہ کی تربیت کرنی تو صرف بات کرو کام کی محبت پر
Read Moreسید فرخ رضا ترمذی ۔۔۔ پوچھتے تم ہو ،کیا محبت ہے
پوچھتے تم ہو ،کیا محبت ہے ایک روشن دیا محبت ہے نفرتوں کا سبب انائیں ہیں عاجزی کا صلہ محبت ہے ہم نے سیکھا ہے اپنے پرکھوں سے زندگی کی بقا محبت ہے جو بھی سمجھو تمھاری مرضی ہے در حقیقت خدا محبت ہے سب کی چاہت کمال ہوگی مگر ماں کی سب سے جدا محبت ہے دشتِ نفرت میں ہر گھڑی فرخ میرے لب پر ندا محبت ہے
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ سید فرخ رضا ترمذی
شہرِ پیغمبرِ خاتم کی فضا کیف میں ہے ہوکے مس گنبدِ خضریٰ سے ہوا کیف میں ہے عشقِ سرور مرے سینے میں، لبوں پر ہے دعا وجد میں دل ہے مرا حرفِ دعا کیف میں ہے آپ کے قرب میں جو جو بھی رہے ہیں آقا ان کے کردار کی ہر ایک ادا کیف میں ہے جو بھی مانگو گے، ملے گا سبھی اے دیوانو!!! روزِ میلاد ہے اور دستِ عطا کیف میں ہے جس طرف دیکھئے چھائی ہے گھٹا رحمت کی اس لیے شہرِ مدینہ کی ہوا کیف میں…
Read Moreازہر ندیم ۔۔۔ اُداسی بھی معطر ہے
اداسی بھی معطر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوائے دل! متاعِ جاں! تمہاری داستاں میں کرب ہے خوشبو کے موسم کا کہ جب بھی پھول کھلتے ہیں زمیں پر ناتمامی کا عجب دکھ پھیل جاتا ہے یہاں رنگوں کے پیراہن سدا مغموم رہتے ہیں تماشائی فروزاں حسن کے باطن کے جلووں سے خود اپنی بدنصیبی کے سبب محروم رہتے ہیں ہوائے دل! فضائے درد میں کوئی فسوں سا ہے تمہاری بے بسی میں بھی جمالِ حزن بستا ہے دیارِ خواب میں اترو تو پھرمردہ گلابوں کی مہک آواز دیتی ہے تمہاری سرخوشی بیتی…
Read More