وہ جوابوں سے سوالوں سے سمجھتا ہے مجھے اردو اخبار رسالوں سے سمجھتا ہے مجھے میری مجبوری ہے کیا کتنے مسائل ہیں مرے کچھ نہیں جانتا غزلوں سے سمجھتا ہے مجھے دل کی پوشاک میں پیوند ہزاروں لیکن وہ تو ان ظاہری شالوں سے سمجھتا ہے مجھے لوگ جو کہتے ہیں وہ اس پہ یقیں رکھتا ہے کیا ہے کردار مثالوں سے سمجھتا ہے مجھے جس نے جانا ہی نہیں راز مری باتوں کا وہ مرے خواب خیالوں سے سمجھتا ہے مجھے کیا ہے پو شیدہ مرے ذہن میں کب…
Read MoreMonth: 2022 مارچ
سحر تاب رومانی ۔۔۔ چاہتوں کے امیں چلے گئے ہیں
چاہتوں کے امیں چلے گئے ہیں اِس مکاں سے مکیں چلے گئے ہیں کہیں جاتے نہیں تھے لیکن آج ہم اچانک کہیں چلے گئے ہیں روشنی بزمِ شب میں تھی جن سے وہ ستارہ جبیں چلے گئے ہیں چند سامع ہیں اورمیں ہوں اب سارے مسند نشیں چلے گئے ہیں آسمانوں کی گفتگو سُن کر لوگ زیرِ زمیں چلے گئے ہیں ہر شکایت تری بجا ہے مگر ہم وہیں سے وہیں چلے گئے ہیں کوئی آیا گیا کہاں ہے یہاں ہم تھے آئے، ہمیں چلے گئے ہیں اور کچھ تو…
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ سید ریاض حسین زیدی
آپؐ ہیں — آپؐ کی خدائی ہے کس قدر آپؐ کی رسائی ہے آپؐ کی سب اداؤں پر قربان سب کا عنوان پارسائی ہے سدرت المنتہیٰ بھی پیچھے ہے کیسی سنگت خدا سے پائی ہے کلی چٹکی درود پڑھتے ہی نسبتِ خاص کام آئی ہے پھول مہکے ہیں آپؐ کے دم سے ذاتِ احمد سے لو لگائی ہے تذکرہ جس نے آپؐ کا چھیڑا اس کی رحمت سے آشنائی ہے دل پہ میرے ریاض شادابی آپؐ کے ذکر ہی سے آئی ہے
Read Moreگلزار بخاری ۔۔۔ رکھتے ہیں تب و تاب عجب ذات میں جگنو
رکھتے ہیں تب و تاب عجب ذات میں جگنو ٹوٹے ہوئے تارے ہیں کہ برسات میں جگنو شہروں سے نکالا انھیں مسموم فضا نے ملتے ہیں درخشندہ مضافات میں جگنو نازک ہیں بہت بند انھیں مٹھی میں نہ کرنا دم توڑ نہ دیں حبس کے حالات میں جگنو لگتا ہے کہ پر جلتے چراغوں کو لگے ہیں دیکھے کوئی اُڑتے ہوئے ظلمات میں جگنو دن میں کبھی آتے نہیں سورج کے مقابل کرتے ہیں عیاں اپنی چمک رات میں جگنو گلزار پرندوں کو بھٹکتے ہوئے پاکر رہبر ہوئے تاریک مقامات…
Read Moreمحمد نوید مرزا ۔۔۔ جستجو کو ہم جگاکر ہجر میں
جستجو کو ہم جگاکر ہجر میں تجھ کو ڈھونڈیں گے دیارِ فکر میں جب زلیخا کی نظر ملتی نہیں کیسے بکنے جاؤں میں اب مصر میں جس کو آنکھوں نے کبھی دیکھا نہیں عمر گزری ہے اُسی کے ذکر میں پھول کھلنے کی دعا کرتے رہو جھاڑیاں سی اُگ رہی ہیں فکر میں جس کی یادوں کی مہک ہے آس پاس شعر کہتا ہوں اُسی کے ہجر میں سب ہیں قاتل آدمیت کے نوید فرق کیا ہے اب یزید و شمر میں
Read Moreنسیمِ سحر ۔۔۔ ہم چلے اِس دشتِ ہُوکے اُس طرف
ہم چلے اِس دشتِ ہُوکے اُس طرف یعنی اپنے کاخ و کُو کے اُس طرف جستجو کا توجو حاصل ہے، سو ہے جانے کیا ہے جستجو کے اُس طرف! ایک سنّاٹے کی آوازیں بھی ہیں ایک شورِ ہاؤہوکے اُس طرف رنگ و بُو کے سلسلے ہیں اَور بھی اِس جہانِ رنگ و بُو کے اُس طرف منتظر میرا کئی صدیوں سے ہے ایک صحرا، آبجُو کے اُس طرف اِک خموشی اِس طرف پھیلی ہوئی اِک خموشی گفتگو کے اُس طرف رقص میں ہے اِک زوال آمادگی شِدّت ِشوقِ نمو کے…
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ نسیمِ سحر
یوں ہُوا سرشاریٔ قلب وجگر کا فیصلہ فیصلہ کُن ہو گیا اُنؐ کی نظر کا فیصلہ پیش اُن ؐ کے سامنے ہوں مَیں شبِ تیرہ لیے اب اُنہی پر ہے مری شب کی سحر کا فیصلہ مَیں تو شاید دوسری جانب ہی چل پڑتا، مگر اُس طرف لے جائے، یہ تھا رہگذر کا فیصلہ تنگ جب کرنے لگی اس دل کو دنیا کی کشش کر لیا میں نے مدینے کے سفر کا فیصلہ خیر کا پہلو ہی رہتا تھا سدا پیشِ نظر جو بھی ہوتا تھا مرے خیر البشر کا…
Read Moreجلیل عالی ۔۔۔ کسی موسم ہوا سے دو ستی آغاز کرتے
کسی موسم ہوا سے دو ستی آغاز کرتے پرندے دشت کے سارے شجر ہمراز کرتے اک اوجِ شوق سے گر دیکھتے اِس شہرِ جاںکو مناظر حیرتوں کے اور ہی در باز کرتے فروزاں تھے لہو میں درد کے مہتاب جتنے سب اُس کے عکس تھے کس سے کسے ممتاز کرتے یہیں اِن وادیوں کی گونج بنتے گیت اپنے انہی خاموش جذبوں کو جو ہم آواز کرتے بجھا کر آفتاب اب اس کا ماتم کر رہے ہیں گہن تو اک ذرا سا تھا نظر انداز کرتے کوئی تو سطر عالی کہکشاں…
Read Moreمحمد یوسف وحید … ڈاکٹرمحمد دین تاثیر ___ تعارف و کلام
ڈاکٹرمحمد دین تاثیر … تعارف و کلام اُردو زبان کے نامور شاعر،نقاد، ماہرِ تعلیم اور مدیر محمد دین تاثیر (پیدائش: 28 فروری 1902ء۔ وفات: 30 نومبر 1950ء) قصبہ اجنالہ ضلع امرتسر(ہندوستان ) میں پیدا ہوئے۔پیدائش کے دو سال بعد 1904ء میں پہلے والداورکچھ عرصہ بعد والدہ کا طاعون کی وجہ سے انتقال ہوگیا ۔خالو میاں نظام الدین نے ان کی پرورش کی۔ ایم اے فورمین کرسچن کالج لاہور سے 1926ء میں کیا ۔ اسی سال اسلامیہ کالج لاہور میں انگریزی کے لیکچرر مقرر ہوئے۔ کچھ عرصے بعد مستعفی ہو کر…
Read Moreاحمد حسین مائل
اُن کی زباں پہ غیر کی تعریف ہائے ہائے کیونکر کہوں یہ بات بنائی ہوئی سی ہے
Read More