موت سے کس کو رستگاری ہے آج وہ کل ہماری باری ہے
Read MoreMonth: 2022 مئی
حافظ عالمگیر کیف ٹونکی
مریضِ عشق پر رحمت خدا کی مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
Read Moreسحاب قزلباش
بجھ رہے ہیں چراغِ دیر و حرم دل جلاؤ کہ روشنی کم ہے
Read Moreسید آل احمد ۔۔۔ ہمارے گھر کے آنگن میں گھٹا کس روز آئے گی
ہمارے گھر کے آنگن میں گھٹا کس روز آئے گی سکوتِ شامِ ویرانی بتا‘ کس روز آئے گی بہت دن ہو گئے ہم پر کوئی پتھر نہیں آیا شکستِ شیشۂ دل کی صدا کس روز آئے گی دُکھوں کے جلتے سورج کی تمازت جان لیوا ہے مرے حصے میں خوشیوں کی ردا کس روز آئے گی مسلسل حبسِ قید ِلب سے دم گھٹنے لگا اب تو اسیرانِ قفس! تازہ ہوا کس روز آئے گی مری پلکوں پہ ظرفِ ربِ مفلس جھلملاتا ہے مری ماں جب یہ کہتی ہے‘ دوا کس…
Read Moreشاہین عباس ۔۔۔ ایڈیٹنگ
ایڈیٹنگ نظم ہو یا افسانہ، کچھ بھی لکھتے ہوئے، مجھے بارہا قطع و برید کے جبر سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ جبر کبھی تو رزمیہ بن جاتا ہے اور کبھی طربیہ۔ میں نے نظم لکھی ، جس کامصرع تھا خدا ایک ہے۔ اگلی ہی جست میں اُسے یوں تبدیل کردیا، لا ایک ہے یا یوں کہیے کہ دونوں مصرعوں کو ایک دوسرے کے متوازی استوار کر دیا کہ بھلے ہی دیرینہ دشمنوں کی طرح گھورتے رہیں ، مگر ٹکرائیں نہیں۔ یوں سوال کا جواب دیا اور جواب پر سوال…
Read Moreافضال عاجز … دریا ہے نہ دریا کی روانی کی طرح ہے
دریا ہے نہ دریا کی روانی کی طرح ہے وہ شخص تو ٹھہرے ہوئے پانی کی طرح ہے برسوں سے سمجھنے کی تگ و دو میں ہوں اس کو اک لفظ ہے پیچیدہ معانی کی طرح ہے میں جس کے لئے اتنا تڑپتا ہوں شب و روز وہ میرے لیے صرف کہانی کی طرح ہے وہ جھوٹ بھی کہتا ہے تو لگتا ہے کہ سچ ہے اس کی تو ہر اک بات گیانی کی طرح ہے
Read Moreمنصورحسین فائز … زمین چلنے لگی آسمان چلنے لگا
زمین چلنے لگی آسمان چلنے لگا قدم اٹھائے تو سارا جہان چلنے لگا کسی خیال کا سایہ تھا یا کوئی بادل سفر میں ساتھ مرے نگہبان لگا تلاشِ حق میں چلے تھے تو ہم سفر ہوکر قدم قدم پہ کوئی مہربان چلنے لگا بھنور کی گود سے کشتی اچھل کے چلنے لگی ہوا نے ساتھ دیا بادبان چلنے لگا الجھ رہا ہوں میں ہونے میں یا نہ ہونے میں یقین رکنے لگا تو گمان چلنے لگا اندھیری رات کی آغوش کا اثر دیکھا کسی کی یاد کے سائے میں دھیان…
Read Moreمیر ضیا الدین ضیا
کون سے زخم کا کھلا ٹانکا آج پھر دل میں درد ہوتا ہے
Read Moreدیوانہ گورکھپوری
اُٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے (دیوانہ گورکھپوری)
Read Moreنعت شریف … تنویر سیٹھی
سناتے جاؤ بس مجھ کو در ِسرکار کی باتیں کیے جاؤ تم اُن کے کوچہ و بازار کی باتیں ملے عُشّاق کو جو آپ کے موقع وہ کرتے ہیں کبھی اخلاق کی باتیں، کبھی کردار کی باتیں غم و آلام میں میلاد کی محفل سجاتا ہوں بڑی ڈھارس بندھاتی ہیں مِرے غمخوار کی باتیں وہاں پر رحمتِ ربّ ِجہاں بے شک برستی ہے کہ جس محفل میں ہوتی ہیں شہِ ابرار کی باتیں نہیں ہے کچھ بھی اب مرغوب بس کرتے رہو ہر دم مِرے محبوب کی باتیں، مِرے سرکار…
Read More