خاور اعجاز ۔۔۔ کچھ دیر ٹھہر

کچھ دیر ٹھہر ۔۔۔۔۔ زمانے! گلی میں صدا تُو نے دی ہے تو بستی میں کہرام سا مچ گیا ہے شبِ تار میں جگنوؤں کی قطاریں اندھیرے کی دیوار میں دَر بنانے کی کوشش میں ہیں تیرگی منہ چھپاتی ہُوئی پھِر رہی ہے کئی روز سے رات ٹھہری ہُوئی تھی مگر تُو نے آواز دی تو یہ منظر بدلنے لگا ہے مِرا قافلہ پھِر  سے چلنے لگا ہے مگر ٹمٹماتے ہُوئے  جگنوؤں کی قطاروں سے سورج اُبھرنے میں کچھ دیر ہے میری مٹی سنورنے میں کچھ دیر ہے بیٹھ جا…

Read More

جلیل عالی ۔۔۔ تیری محفل پہ بُرا وقت جو آیا ہوا ہے

تیری محفل پہ بُرا وقت جو آیا ہوا ہے آپ ہی دیکھ کہاں کس کو بٹھایا ہوا ہے ناگہاں آگ جل اٹھتی ہے کسی کونے سے کوئی آسیب در و بام پہ چھایا ہوا ہے نئی تعمیر کے آثار  تو دیکھے نہ کہیں شہر کا شہر مگر آپ نے ڈھایا ہوا ہے ہم کہ اک عمر چراتے رہے آنکھیں جن سے اُن سوالات نے اب حشر مچایا ہوا ہے دشمنوں کی کسی سازش کا نہیں دخل اِس میں یہ جو ادبار ہے اپنا ہی کمایا ہوا ہے کھیل سے ہی…

Read More

کرامت بخاری ۔۔۔ دل مضطرب ہے اور کوئی اضطراب ہے

دل مضطرب ہے اور کوئی اضطراب ہے خانہ خراب خواب کا عالم بھی خواب ہے تاخیر کی تپش سے توانا ہوا ہے دل تعجیل کے سفر کا یہ تازہ  نصاب ہے لہجے میں ہے لہو کا بھی کچھ ذائقہ جناب یہ خون سے خطاب کی خواہش کا باب ہے رو رو کے میں نے لفظ لکھے لوحِ زیست پر شیون کا شور شعر کا اصلی شباب ہے مٹی میں جو مہک ہے وہ اعلیٰ نسب سے ہے یعنی ابوتراب سے عزت مآب ہے اشکِ رواں کی رسم کرامت سے کم…

Read More

کرامت بخاری ۔۔۔ حسرت و ناصر و عدم تو نہیں

حسرت و ناصر و عدم تو نہیں پھر بھی چرچا ہمارا  کم تو نہیں کوئی مقتل ہو یا کوئی دربار سر ہمارا کہیں پہ خم تو نہیں میرے ہاتھوں میں ہے قلم اب تک ہاتھ میرے ابھی قلم تو نہیں میں قلم کو زباں سمجھتا ہوں ہاتھ میرے ابھی قلم تو نہیں اے مسافر ترے مقدر میں جامِ حسرت ہے جامِ جم تو نہیں دفترِ دہر پڑھ کے دیکھ لیا تم ہی تم ہو کہیں پہ ہم تو نہیں ہے کرامت غزل میں اور بھی کچھ صرف لہجے کا زیر…

Read More