کچھ دیر ٹھہر ۔۔۔۔۔ زمانے! گلی میں صدا تُو نے دی ہے تو بستی میں کہرام سا مچ گیا ہے شبِ تار میں جگنوؤں کی قطاریں اندھیرے کی دیوار میں دَر بنانے کی کوشش میں ہیں تیرگی منہ چھپاتی ہُوئی پھِر رہی ہے کئی روز سے رات ٹھہری ہُوئی تھی مگر تُو نے آواز دی تو یہ منظر بدلنے لگا ہے مِرا قافلہ پھِر سے چلنے لگا ہے مگر ٹمٹماتے ہُوئے جگنوؤں کی قطاروں سے سورج اُبھرنے میں کچھ دیر ہے میری مٹی سنورنے میں کچھ دیر ہے بیٹھ جا…
Read MoreMonth: 2022 مئی
جلیل عالی ۔۔۔ تیری محفل پہ بُرا وقت جو آیا ہوا ہے
تیری محفل پہ بُرا وقت جو آیا ہوا ہے آپ ہی دیکھ کہاں کس کو بٹھایا ہوا ہے ناگہاں آگ جل اٹھتی ہے کسی کونے سے کوئی آسیب در و بام پہ چھایا ہوا ہے نئی تعمیر کے آثار تو دیکھے نہ کہیں شہر کا شہر مگر آپ نے ڈھایا ہوا ہے ہم کہ اک عمر چراتے رہے آنکھیں جن سے اُن سوالات نے اب حشر مچایا ہوا ہے دشمنوں کی کسی سازش کا نہیں دخل اِس میں یہ جو ادبار ہے اپنا ہی کمایا ہوا ہے کھیل سے ہی…
Read Moreکرامت بخاری ۔۔۔ دل مضطرب ہے اور کوئی اضطراب ہے
دل مضطرب ہے اور کوئی اضطراب ہے خانہ خراب خواب کا عالم بھی خواب ہے تاخیر کی تپش سے توانا ہوا ہے دل تعجیل کے سفر کا یہ تازہ نصاب ہے لہجے میں ہے لہو کا بھی کچھ ذائقہ جناب یہ خون سے خطاب کی خواہش کا باب ہے رو رو کے میں نے لفظ لکھے لوحِ زیست پر شیون کا شور شعر کا اصلی شباب ہے مٹی میں جو مہک ہے وہ اعلیٰ نسب سے ہے یعنی ابوتراب سے عزت مآب ہے اشکِ رواں کی رسم کرامت سے کم…
Read Moreکرامت بخاری ۔۔۔ حسرت و ناصر و عدم تو نہیں
حسرت و ناصر و عدم تو نہیں پھر بھی چرچا ہمارا کم تو نہیں کوئی مقتل ہو یا کوئی دربار سر ہمارا کہیں پہ خم تو نہیں میرے ہاتھوں میں ہے قلم اب تک ہاتھ میرے ابھی قلم تو نہیں میں قلم کو زباں سمجھتا ہوں ہاتھ میرے ابھی قلم تو نہیں اے مسافر ترے مقدر میں جامِ حسرت ہے جامِ جم تو نہیں دفترِ دہر پڑھ کے دیکھ لیا تم ہی تم ہو کہیں پہ ہم تو نہیں ہے کرامت غزل میں اور بھی کچھ صرف لہجے کا زیر…
Read Moreآغا شاعر
ابرو نہ سنوارا کرو کٹ جائے گی انگلی نادان ہو تلوار سے کھیلا نہیں کرتے
Read Moreقلق لکھنوی
ادا سے دکھ لو جاتا رہے گلہ دل کا بس اک نگاہ پہ ٹھہرا ہے فیصلہ دل کا
Read Moreاشرف علی فغاں
مجھ سے جو پوچھتے ہو تو ہر حال شکر ہے یوں بھی گزر گئی مری، ووں بھی گزر گئی
Read Moreاشرف علی فغاں
جگنو میاں کی دم جو چمکتی ہے رات کو سب دیکھ دیکھ اس کو بجاتے ہیں تالیاں
Read Moreمیکش اکبر آبادی
آپ کی میری کہانی ایک ہے کہیے اب میں کیا سناؤں، کیا سنوں
Read Moreسیماب اکبر آبادی
عمرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
Read More