اظہر حسین اطہر ۔۔۔ وہ نظر مہربان ہے شاید

وہ نظر مہربان ہے شاید پھر مرا امتحان ہے شاید پھر تری جستجو میں نکلا ہوں پھر جہاں درمیان ہے شاید صرف اہلِ نظر پہ کھلتی ہے خامشی اک زبان ہے شاید میں نے ذرے میں جھانک کر دیکھا بیکراں اک جہان ہے شاید میں اسے بھول بھی تو سکتا ہوں یہ بھی میرا گمان ہے شاید

Read More

اوصاف شیخ ۔۔۔ کبھی بھی مجھ سے وہ ہارا نہیں ہے

کبھی بھی مجھ سے وہ ہارا نہیں ہے وہ میرا ہے مگر سارا نہیں ہے کہا میں نے مرے جیسا بنا دو کہا اس نے نہیں گارا نہیں ہے ہوا جو ہو گیا آواز مت دو ہوا جو اس کا کفارہ نہیں ہے بسا رکھا ہے تیرا ہجر دل میں ابھی دیوار پر مارا نہیں ہے تجھے میں اس لیے بھی چاہتا ہوں بجز اس کے کوئی چارہ نہیں ہے

Read More

اوصاف شیخ ۔۔۔ خدا کے حصے کے ہم سے سوال ہو رہے ہیں

خدا کے حصے کے ہم سے سوال ہو رہے ہیں ہمارے ساتھ بھی کیا کیا کمال ہو رہے ہیں کھرچ دیا ہے شریک حیات نے دل سے تجھے بھلائے ہوئے تیس سال ہو رہے ہیں ترا سراپا پرویا تھا ہم نے پھولوں میں لے تیرے تذکرے اب ڈال ڈال ہو رہے ہیں افق پہ لگتا ہے سورج ابھرنے والا ہے جو کج کلاہ تھے ان کے زوال ہو رہے ہیں ہمارے وقت کو برباد کرنے والے پر برا ہے وقت ، برے اس کے حال ہو رہے ہیں وہ شرق…

Read More

لنبیٰ مقبول ۔۔۔ عالَمِ اضطراب میں گزری

عالَمِ اضطراب میں گزری زیست پیہم سراب میں گزری وقت کے داؤ پیچ تھے ایسے زندگی احتساب میں گزری حاصلِ عمر کی طلب میں دوست جو بھی گزری حَباب میں گزری آرزوئیں شمار کیا کرتے تشنگی بھی عذاب میں گزری زندگی ساری رِند کی افسوس مست ہو کر شراب میں گزری رنج پہچان جاتے ہیں ہر بار بارہا میں نقاب میں گزری اک شناور کی دوستی میں عمر خاک میں مِل کے، آب میں گزری سامنے کچھ ہیں لوگ پیچھے کچھ ہست اِسی پیچ و تاب میں گزری تھا ہر…

Read More

رانا محمد شاہد ۔۔۔ غم بٹائے جا رہے ہیں

غم بٹائے جا رہے ہیں دل جلائے جا رہے ہیں نفرتوں کا جال ایسا گھر گرائے جا رہے ہیں منزلوں کی چاہ کس کو ہم تو جائے جا رہے ہیں آشتی کے سب پرندے اب اُڑائے جا رہے ہیں رنج دے کر دوسروں کو مسکرائے جا رہے ہیں روز بڑھتی قیمتوں کے بم گرائے جا رہے ہیں مرحلہ در مرحلہ ہم آزمائے جا رہے ہیں

Read More

افتخار شاہد ۔۔۔ بامِ غزل پہ خواب کی دلہن اتاریے

بامِ غزل پہ خواب کی دلہن اتاریے حرفِ سخن کو یار کے ہونٹوں سے واریے پھر کیجئے گا حسن کے جلووں سے سرفراز پہلے ہماری آنکھ کا صدقہ اتاریے عشرت کدے میں آپ بھی رِندوں کے ساتھ تھے دیکھیں جناب آپ تو پتھر نہ ماریے دشتِ طلب کی سیر کو جانا تو ہے مگر کچھ روز اپنے شوق کی زلفیں سنواریے پھر دیکھئے گا نور کے جلتے ہوئے چراغ ظلمت کدے میں نامِ محمد پکاریے

Read More

رانا محمد شاہد ۔۔۔ نیند اتری نہ خواب اترے ہیں

نیند اتری نہ خواب اترے ہیں دل پہ شب بھر عذاب اترے ہیں چاندنی اور جگمگانے لگی!! رات کیا کیا حجاب اترے ہیں اک گلہ خود سے تھا کیا میں نے لاکھ اس کے جواب اُترے ہیں پڑھ کے جن کو قرار کھو جائے دل پہ ایسے نصاب اُترے ہیں روشنی اور بڑھ گئی شاہد بام پر آفتاب اترے ہیں

Read More

افتخار شاہد ۔۔۔ یہ محبت کوئی بلا تو نہیں

یہ محبت کوئی بلا تو نہیں مجھ کو یاروں کی بددعا تو نہیں اتنا اجلا لباس پہنا ہے وہ کہیں ہاتھ آگیا تو نہیں ایک دن اس نے یہ کہا مجھ سے رہگزر ہے یہ راستہ تو نہیں حسنِ ترتیب سے گماں گزرا آپ کا ان سے رابطہ تو نہیں یوں تو دریا تھا اپنے جوبن پر کشتی والوں سے جا ملا تو نہیں جس دریچے کو بیل جا پہنچی اس دریچے میں تُو کھڑا تو نہیں آنکھ میں خون کیسے اترا ہے تو کہیں خود سے لڑ پڑا تو…

Read More

امجد بابر ۔۔۔ دل کی کرسی خالی ہے

دل کی کرسی خالی ہے اُن آنکھوں میں لالی ہے الہ یرا شکریہ تو نے مشکل ٹالی ہے غالب سے رشتہ گہرا من کو بائے حالی ہے گوری ہے رنگت اُس کی اور کانوں میں بالی ہے تیری خواہش ہے کتا میں نے بلی پالی ہے پھولوں سے خوش بو آئے کتنا اچھا مالی ہے اُس کے چہرے پر لکھا لڑکی قسمت والی ہے

Read More