عمران اعوان ۔۔۔ ایک طوفان آنے والا ہے

ایک طوفان آنے والا ہے وقت الٹا گھمانے والا ہے یہ جو صحرا دکھائی دیتا ہے اک سمندر پرانے والا ہے پھر سے بدلیں گے زاویے سارے اتنا بھونچال آنے والا ہے چھوڑ دو کشتیاں سمندر میں پانی بستی میں جانے والا ہے یہ جو پنچھی بکھر گئے سارے آسماں کچھ گرانے والا ہے مجھ کو معلوم ہے پس پردا کون فتویٰ لگانے والا ہے اتنا خاموش وہ نہیں رہتا کچھ تو سازش رچانے والا ہے جس کو آنکھوں کا نور سمجھا تھا وہ مرا گھر جلانے والا ہے

Read More

شکیل جاذب ۔۔۔ کیسے دلِ بے تاب کا اظہار وہاں ہو

کیسے دلِ بے تاب کا اظہار وہاں ہو جس رشتۂ بے نام میں خاموشی زباں ہو کس کو ترے پہلو میں غمِ سود و زیاں ہو کیا کارِ محبت سے الگ کارِ جہاں ہو ہر روز نئے خواب ہیں بہکانے کو اس کے اے یادِ غمِ یار ،سرِ دل نگراں ہو صدقہ تری رعنائی پہ ہو گردِ مہ و سال ہر روز ترا حسن نئی دھج سے جواں ہو اب صرف تصور سے گزارا نہیں ممکن تم ہو تو مرے پاس مگر دوست کہاں ہو میں تیرے تکلم کا مزا…

Read More

امجد نذیر ۔۔۔ دکھا کے صبح ہمیں،رات کرنے والا تھا

دکھا کے صبح ہمیں،رات کرنے والا تھا ہمارے ساتھ کوئی ہاتھ کرنے والا تھا ستارے ،پھول سبھی جھولیاں لیے پہنچے وہ اپنے حسن کی خیرات کرنے والا تھا پھراک پیادے کو قربان کردیا میں نے وہ بادشاہ کو شہ مات کرنے والا تھا مجھے بلایا تھا تالاب کے کنارے پر وہ چاند مجھ سے ملاقات کرنے والا تھا کہ پہلے بند کرائی گئی تھیں آنکھیں مری ضرور خواب طلسمات کرنے والا تھا کسی شکستہ چٹائی پہ بیٹھ کر امجد فقیر سیرِ سماوات کرنے والا تھا

Read More

امجدنذیر ۔۔۔ اپنے ہونٹوں سے گل فشانی کی

اپنے ہونٹوں سے گل فشانی کی آج اس نے بھی مہربانی کی پھول کاڑھے پھر ان کو پانی دیا میں نے تکیے پہ باغبانی کی تتلیاں پھول جان کر آئیں اس کی تصویر پر، جوانی کی کس قدر پرسکون ہے دریا یار تصویر کھینچ پانی کی ایک کردار کے نکالنے سے چاشنی بڑھ گئی کہانی کی چند مشکل سے لفظ بولے اور گاؤں والوں پہ حکمرانی کی

Read More

نادیہ سحر ۔۔۔ سینے پہ سل پڑی ہے مجھے لگ رہا ہے آج

سینے پہ سل پڑی ہے مجھے لگ رہا ہے آج دل جس جگہ کبھی تھا وہاں آبلہ ہے آج جب تم نہیں رہے تو یہاں کب رہی ہوں میں دکھ کے سوا حیات میں کیا رہ گیا ہے آج سب ہیر پھیر وقت اور حالات کے ہیں بس کل تک رہا جو اپنا وہ بے اعتنا ہے آج کس موڑ پر ہیں لائے یہ حالاتِ زندگی ہم زندگی سے زندگی ہم سے خفا ہے آج آتی ہے ٹوٹنے کی بدستور اک صدا سینے سے مرے شور یہ کیسا اٹھا ہے…

Read More

انصر حسن ۔۔۔ کیا بتاؤں تمہیں اپنے دن رات کی

کیا بتاؤں تمہیں اپنے دن رات کی کوئی حالت نہیں میرے حالات کی ایک دفتر ہے میرے سوالات کا ایک دنیا ہے میرے خیالات کی اس کو دل میں بسانا مناسب نہیں جس کو دیکھا نہ جس سے کبھی بات کی دہر میں ایسی دھرتی کہیں بھی نہیں جیسی دلدار دھرتی ہے گجرات کی ہجر نے مار ڈالا ہے ، جان جہاں کوئی صورت نکالو ملاقات کی شہر میں جب پریشان ہوتا ہوں میں یاد آتی ہے مجھ کو مضافات کی لوگ لڑتے رہیں گے یونہی دوستو جنگ جاری رہے…

Read More

منظور ثاقب ۔۔۔ اب بھی آنکھیں چار کر سکتا ہوں میں

اب بھی آنکھیں چار کر سکتا ہوں میں یعنی اب بھی پیار کر سکتا ہوں میں شرط بس اک ہے کہانی ہو تری کوئی بھی کردار کر سکتا ہوں میں اٹھ رہے ذہن میں تیکھے سوال آپ کو لاچار کر سکتا ہوں میں کچھ نہ کچھ دانست ہے تقویم کی کل کا بھی دیدار کر سکتا ہوں میں امن کا داعی ہوں ورنہ یہ نگر کابل و قندھار کر سکتا ہوں میں دوستوں کو عیب جوئی سے فقط لمحے میں اغیار کر سکتا ہوں میں

Read More

ذکی طارق ۔۔۔ جو تھی تجھ کو مجھے دے گئی چاہئے

جو تھی تجھ کو مجھے دے گئی چاہئے پھر وہی رات نعمت بھری چاہئے اس کے چہرے کی تابندگی چاہئے ہے اندھیرا بہت روشنی چاہئے جان تو اپنی مخمور آنکھیں دکھا مجھ کو صہبا شکن مے کشی چاہئے تیری چاہت نے بے حوصلہ کر دیا مجھ کو پھر سے تری سرکشی چاہئے آ، اے جانِ غزل میرے نزدیک آ کہ مجھے موسمِ شاعری چاہئے مانتا ہوں بہت ہی خفا ہو مگر اتنی تو بات سن لینی ہی چاہئے ساری سوچوں نے بس اک نتیجہ دیا ہم کو کر لینی پھر…

Read More

رخشندہ نوید ۔۔۔ اعتراف اور کتنی بار کریں

اعتراف اور کتنی بار کریں ہم ہیں روزے سے اعتبار کریں زخم کی ستر پوشی لازم ہے اتنی روشن نہ راہگزار کریں قہقہے پھیکے اشک ہیں نمکین آپ جو چاہیں اختیار کریں اتنی جلدی ہے کیا معافی کی میرے مرنے کا انتظار کریں کس نشانے پہ ہے ہدف ان کا تیر کو دل کے آر پار کریں وہ تو ہر اک کو جان کہتے ہیں مجھ پہ وہ جان مت نثار کریں مجھ میں کچھ کم ہوا ہے رخشندہ میرے عضو بدن شمار کریں

Read More

سید عارف معین بَلّے … عقیدت (عازمین حج کے نام)

عقیدت (عازمین حج کے نام) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میسر جو نہیں مجھ کو یہاں اِملاک لے آنا مدینے کی گلی سے تْم،اْٹھا کرخاک لے آنا مِری تسبیح بن جائیگی ، موتی کام آئیں گے بچا لینا کچھ آنسو ، دیدۂ نم ناک لے آنا لگایا تھا نبی نے جو کبھی ، خود اپنے ہاتھوں سے جو ممکن ہوتو ، تم اس پیڑ کی مسواک لے آنا مجھے بھی اِن اندھیروں میں اْجالوں کی ضرورت ہے تجلیات ِ دربار ِ رسول ِ پاک لے آنا سنو ، میرے لئے بھی واپسی پر شہر…

Read More