بت کدہ نزدیک، کعبہ دور تھا میں ادھر ہی رہ گیا مجبور تھا شام ہی سے ہم کہیں جاتے تھے روز مدتوں اپنا یہی دستور تھا وہ کیا جس میں خوشی تھی آپ کی وہ ہوا جو آپ کو منظور تھا کچھ ادب سے رہ گئے نالے ادھر کیا بتائیں عرش کتنی دور تھا جس گھڑی تھا اس کے جلوے کا ظہور عرش کا ہم سنگ کوہ طور تھا اک حسیں کا آ گیا جو تذکرہ دیر تک محفل میں ذکرِ حور تھا وصل کی شب تھی شبِ معراج کیا…
Read MoreMonth: 2024 مئی
مرزا غالب … عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا
عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا درد کی دوا پائی، درد بے دوا پایا غنچہ پھر لگا کھلنے، آج ہم نے اپنا دل خوں کیا ہوا دیکھا، گم کیا ہوا پایا شورِ پندِ ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا آپ سے کوئی پوچھے تم نے کیا مزا پایا فکرِ نالہ میں گویا، حلقہ ہوں زِ سر تا پا عضو عضو جوں زنجیر، یک دلِ صدا پایا حال دل نہیں معلوم، لیکن اس قدر یعنی ہم نے بار ہا ڈھونڈا، تم نے بارہا پایا شب نظارہ پرور تھا خواب…
Read Moreمحمد علوی ۔۔۔ ابھی تو اور بھی دن بارشوں کے آنے تھے
ابھی تو اور بھی دن بارشوں کے آنے تھے کرشمے سارے اسے آج ہی دکھانے تھے حقارتیں ہی ملیں ہم کو زنگ آلودہ دلوں میں یوں تو کئی قسم کے خزانے تھے یہ دشت تیل کا پیاسا نہ تھا خدا وندا یہاں تو چار چھ دریا ہمیں بہانے تھے کسی سے کوئی تعلق رہا نہ ہو جیسے کچھ اس طرح سے گزرتے ہوئے زمانے تھے پرندے دور فضاؤں میں کھو گئے علوی اُجاڑ اُجاڑ درختوں پہ آشیانے تھے
Read Moreعادل فرحت
میں نے چاہا تھا ترے درد سے محظوظ رہوںدرد بھی وہ کہ جسے میرؔ نہیں کھینچ سکا
Read Moreقابل اجمیری
جھوٹے وعدوں کی لذتیں مت پوچھ آنکھ در سے لگی ہی رہتی ہے
Read Moreقابل اجمیری
عجیب چیز ہے خاکسترِ محبت بھی ذرا کسی نے چھوا اور آگ ابھر آئی
Read Moreقابل اجمیری
عمر بھر ہم سمجھ سکے نہ تجھے آج سمجھا رہی ہے تیری یاد
Read Moreقابل اجمیری
زندگی کتنی تیز رو ہے مگر ساتھ ساتھ آ رہی ہے تیری یاد
Read Moreقابل اجمیری
کچھ غمِ زیست کے شکار ہوئے کچھ مسیحا نے مار ڈالے ہیں
Read Moreقابل اجمیری
آخرِ شب کے ڈوبتے تارو! ہم بھی کروٹ بدلنے والے ہیں
Read More