کچھ دن ہوئے میری کتاب کے مترجم ڈاکٹر سفیر اعوان اپنے مکمل کیے ہوئے صفحات کو فائنل ٹچ دے رہے تھے۔ انہوں نے فون پر پوچھا ایک شہر کا نام سمجھ ہی نہیں آرہا۔ انہوں نے جب بتایا تو میں نے کہا ’’یہ بشکیک ہے‘‘ بہت سے پاکستانیوں کو سنٹرل ایشیا کے ممالک میں سے چند کے نام آتے ہیں۔ بشکیک کرغستان کا دارالحکومت ہے۔ میں نے اس شہر کا دو تین دفعہ سفر کیا ہے پہلے تو جب وہ روس کا حصہ تھا، آزاد ملک کی حیثیت میں بھی دو دفعہ مگر…
Read MoreMonth: 2024 مئی
محسن اسرار
کس محبت سے آئے ہیں سیلاب گھر میں ہوتا اگر تو بہتا کچھ
Read Moreمحسن اسرار
کس سے پوچھوں یہاں پتا اپنا دھوپ کچھ کہہ رہی ہے، سایہ کچھ
Read Moreقابل اجمیری
کسی کی زلف پریشاں کسی کا دامن چاک جنوں کو لوگ تماشا بنائے پھرتے ہیں
Read Moreمحسن اسرار
تو خود بھی جاگتا رہ اور مجھ کو بھی جگاتا رہ نہیں تو زندگی کو دوسرا قصہ پکڑ لے گا
Read Moreمحسن اسرار
عجیب عالمِ حیرت ہے کارگاہِ حیات کسی کو دیکھنا چاہا، کوئی نظر آیا
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ مسرت افزا روحی
مسرت افزا روحی مسرت افزا روحی درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔شاعرہ، ادیبہ، صحافی،مدیرہ اور افسانہ نگار ہیں۔ اُن کا شعری مجموعہ ’’حرزِ جاں‘‘ کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ صحافت کو بھی اپنایا اور ’’زاویۂ نگاہ‘‘ کی مدیرہ رہی ہیں۔اُن کا افسانوی مجموعہ ’’آوازیں‘‘ ۲۰۰۴ء میں منظر عام پر آیا تھا۔اُن کا مطالعہ خوب ہے۔محسوس ہوتا ہے کہ کئی افسانے لکھنے کے لیے انہوں نے خاصی تحقیق بھی کی ہے۔قوتِ مشاہدہ تیز ہے۔وہ بھی اُن چند فکشن نگاروں میں سے ہیں جن کے افسانوں کا اختتامیہ…
Read Moreسید آل احمد ۔۔۔ اے رسم و راہِ شہر کے محتاط ظرف رنگ
اے رسم و راہِ شہر کے محتاط ظرف رنگ ٹھوکر بھی کھا کے آیا نہ جینے کا ہم کو ڈھنگ آتی نہیں ہے سطحِ یقیں پر وفا کی لہر رہتی ہے صبح و شام مزاجوں میں سرد جنگ ہر صبح دُکھ سے چور ملا زخم زخم جسم ہر شب تھرک تھرک گیا آہٹ پہ انگ انگ تھا جس سے میرے سچ کے تحمل کا ربطِ خاص اُترا اسی کے غم کا مری روح میں خدنگ ناآشنائے لذتِ لہجہ تھے سب ہی لوگ کیا کیا بساطِ لب پہ بکھیری نہ قوسِ…
Read Moreپنجرہ … رشید امجد
بیٹھے بیٹھے خیال آیا کہ اس دنیا کے اندر ایک اور دُنیا موجود ہے جس میں ہم جیسے لوگ رہ رہے ہیں اور ہم جیسے کام کررہے ہیں، ہم زادوں کی یہ دُنیا نظر تو نہیں آتی لیکن کبھی کبھی اپنا احساس ضرور کراتی ہے۔ ”تمہیں اس کا خیال کیسے آیا؟“ مرشد نے پوچھا ”بس یونہی، مجھے ایسا لگا جیسے جو کچھ میں کررہا ہوں، اسے پہلے بھی کرچکا ہوں۔“ وہ سوچتے ہوئے بولا۔ ”کبھی کبھی یوں لگتا ہے جیسے میں خود کو دہرارہا ہوں۔“ مرشد سوچ میں پڑگیا، تادیر…
Read Moreخالد احمد
کچھ سانس بچ رہے تھے سو وہ سانس بھی لیے وعدہ خلاف تھے ، سو ترے بعد جی لیے
Read More