باقی ہے اب بھی ترکِ تمنا کی آرزو کیونکر کہوں کہ کوئی تمنا نہیں مجھے
Read MoreMonth: 2024 مئی
اکبر الہ آبادی ۔۔۔ رباعی
بنگلوں سے نماز اور وظیفہ رخصت کالج سے امام ابو حنیفہ رخصت صاحب سے سنی ہے اب قیامت کی خبر قسطنطنیہ سے ہیں خلیفہ رخصت
Read Moreعبدالحفیظ ظفر ۔۔۔ حفیظ ہوشیارپوری : ایک عمدہ غزل گو
محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے تری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ غزل اپنی مقبولیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اس کی مقبولیت میں گلو کارہ نسیم بیگم اور گلو کار مہدی حسن نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے جس خوبصورتی سے اس غزل کو گایا اس کی مثال کم ہی ملتی ہے اور پھر یہ فیصلہ کرنا بھی سہل نہیں کہ دونوں میں سے زیادہ اچھا کس نے گایا۔ یہ لازوال غزل حفیظ ہوشیار پوری کی ہے جنہوں نے اپنی…
Read Moreخزاں گزیدہ … رشید امجد
قیدی کو اس حالت میں لایا گیا کہ گلے میں طوق اور پاﺅں میں زنجیریں، زنجیروں کی چھبن سے پاﺅں جگہ جگہ سے زخمی ہوگئے تھے اور ان سے خون رس رہا تھا۔ طوق کے دباﺅ سے گردن کے گرد سرخ حلقہ بن گیا تھا جو کسی وقت بھی پھٹ سکتا تھا۔ قیدی طوق کے بوجھ اور پاﺅں کی زنجیروں کی وجہ سے سیدھا کھڑا نہیں ہوسکتا تھا۔ نیم وا کمر جھکائے جھکائے اُس نے میز کے پیچھے بیٹھے شخص کو خالی آنکھوں سے دیکھا، نہ کوئی سوال نہ کوئی…
Read Moreخالد احمد
سامان بہم کر ، کہ نہ لوٹے کبھی خالی یا رب ، کوئی مجھ بے سر و سامان کے در سے
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ شبہ طراز
شبہ طراز علم وادب سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے محترمہ شبہ طراز کا نام نیا نہیں ہے۔وہ شاعرہ، مصورہ، مدیرہ اور افسانہ نویس ہیں۔’اُن کی طبع شدہ کتب میں ’’جگنو ہنستے ہیں‘‘ (ہائیکو اور ماہیے)، ’’جھیل جھیل اداسی‘‘ (نظمیں)، ’’چاندنی میں رقص‘‘ (ہائیکو تراجم)، درد کا لمس (افسانے)، ریپنزل (نظمیں، غزلیں) شامل ہیں۔عذرا اصغر کے کراچی چلے جانے کے بعد ماہ نامہ تجدیدِ نو کو سہ ماہی جریدے میں بدل کر اس کا دوبارہ اجرا کیا لیکن کچھ مشکلات آڑے آئیں تو پرچہ بند کرنا پڑا۔کرشن چندر اِن کے…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ سیدہ حنا
سیدہ حنا ایک شاعرہ، افسانہ نگار اور مدیرہ تھیں۔اُنہوں نے اپنے بھائی حامد سروش کے ساتھ مل کر خیبر پختونخوا سے ایک کامیاب اور معیاری ادبی پرچہ ’’ابلاغ‘‘ کے نام سے جاری کیا تھا۔اِس پرچے نے کسی قسم کی مالی معاونت اور اشتہارات کے بغیر قومی سطح پر اپنی پہچان بنائی اور ایک عرصہ تک ادب کی بے لوث خدمت کی۔سیّدہ حنا کا پہلا افسانہ ۱۹۵۶ء میںمولانا صلاح الدین احمد کے مشہور پرچے’’ادبی دنیا‘‘ میں شائع ہوا۔مولانا نے افسانے پر مندرجہ ذیل نوٹ لکھ کر انہیں بے حد سراہا: ’’اُفقِ…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ زیتون بانو
زیتون بانو اُردو اور پشتو کی نام ورشاعرہ، ادیبہ، ڈراما نگار ۱۸؍ جون ۱۹۳۸ء کے روز پشاور میں پیدا ہوئیں۔اُن کے والد بھی اپنے زمانے کے معروف روشن خیال ادیب تھے۔وہ ابتدا میں فرضی ناموں سے ادبی جریدوں میں لکھتی رہیں۔پشتو اور اُردو میں اعلیٰ تعلیم کے بعد ریڈیو پاکستان سے وابستہ رہیں۔ریڈیو اور ٹیلی وژن کے لیے ڈرامے لکھے۔ابھی طالبہ ہی تھیں کہ اُن کا پشتو افسانوں کا مجموعہ ہُنڈارہ (آئینہ ۱۹۵۸ء) شائع ہوا۔دوسرا مجموعہ مات بنگری (ٹوٹی چوڑیاں) شائع ہوا۔ مجموعی طور پر اُن کی پشتو میں آٹھ…
Read Moreافضال ریحان ۔۔۔ نواز شریف کی سیاست اور لیگی صدارت؟
ہماری قومی سیاست میں نوازشریف نہ تو مسیحا ہے اور نہ اتاترک جیسا کوئی آئیڈیل لیڈر، وہ کوئی فلاسفر ہے نہ تھنکر وہ جب بات کر رہا ہوتا ہے تو درویش کو کھٹکا لگا رہتا ہے کہ کہیں ہتھے سے اکھڑ نہ جائے۔ اسکے ساتھ ہی اگر تنقید نگار حوصلے سے کام لیتے ہوئے ضمیر کی مطابقت میں اظہارِ خیال کی اجازت مرحمت فرما دیں تو یہ عاجز عرض گزار ہے کہ پچھلے 76، 77برسوں میں نہ اس ملک کو نواز شریف جیسا مخلص لیڈر ملا اور نہ ہی مسلم…
Read Moreعطاالحق قاسمی ۔۔۔ گلی ڈنڈا سے کرکٹ تک
مجھ سے زیادہ بور دنیا میں کون ہو سکتا ہے کہ پوری دنیا میں کرکٹ کرکٹ ہو رہی ہے اور مجھ بور کو کرکٹ سے دلچسپی ہی کوئی نہیں۔ میں تھوڑا سا مبالغہ کر گیا ہوں دلچسپی ہوتی ہے مگر صرف اس وقت جب میچ پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہو مگر پرابلم یہ ہے کہ پاکستان کو ہارتا دیکھ نہیں سکتا چنانچہ جب کبھی ایسی صورت حال پیدا ہوتی ہے کرکٹ سے میری دلچسپی اس لمحے ختم ہو جاتی ہے۔ دراصل میں بہت سست انسان ہوں بچپن میں بھی…
Read More