محمد علوی ۔۔۔ کیوں نہ مہکیں گلاب آنکھوں میں

کیوں نہ مہکیں گلاب آنکھوں میں ہم نے رکھے ہیں خواب آنکھوں میں رات آئی تو چاند سا چہرہ لے کے آیا شراب آنکھوں میں دیکھو ہم اک سوال کرتے ہیں لکھ کے رکھنا جواب آنکھوں میں اس میں خطرہ ہے ڈوب جانے کا جھانکیے مت جناب آنکھوں میں کبھی آنکھیں کتاب میں گم ہیں کبھی گم ہے کتاب آنکھوں میں کوئی رہتا تھا رات دن علوی انھی خانہ خراب آنکھوں میں

Read More

سید آل احمد ۔۔۔ وقت کے طشت میں رکھا ہوا پتھر ہوں میں

وقت کے طشت میں رکھا ہوا پتھر ہوں میں حرف کا دشت ہوں معنی کا سمندر ہوں میں کون جانے کہ یہ خوشبو ہے عبارت مجھ سے کیسے سمجھاؤں کہ پھولوں کا مقدر ہوں میں مجھ کو آتا نہیں کاندھے پہ جنازہ رکھنا منجمد شہر! حرارت کا پیمبر ہوں میں اب بھی آتی ہے ترے قرب کے ایام کی آنچ اب بھی احساس کا ذخار سمندر ہوں میں آخرِ شب ہے‘ مری ذات سے نظریں نہ چرا اے غمِ ہجر! ترے قد کے برابر ہوں میں شہر میں حفظِ مراتب…

Read More

حفیظ جونپوری ۔۔۔ اسی خیال سے ترک ان کی چاہ کر نہ سکے

اسی خیال سے ترک ان کی چاہ کر نہ سکے کہیں گے لوگ کہ دو دن نباہ کر نہ سکے ہمیں جو دیکھ لیا جھک گئی حیا سے آنکھ ادھر ادھر سرِ محفل نگاہ کر نہ سکے خدا کے سامنے آیا کچھ اس ادا سے وہ شوخ کہ منہ سے اف بھی ذرا داد خواہ کر نہ سکے ترے کرم کا بھروسا ہی زاہدوں کو نہیں اسی لیے تو یہ کھل کر نگاہ کر نہ سکے رہا یہ پاس ہمیں آپ کی نزاکت کا کہ دل کا خون ہوا، منہ…

Read More

محمد علوی ۔۔۔ دن بھر کے دہکتے ہوئے سورج سے لڑا ہوں

دن بھر کے دہکتے ہوئے سورج سے لڑا ہوں اب رات کے دریا میں پڑا ڈوب رہا ہوں اب تک میں وہیں پر ہوں جہاں سے میں چلا ہوں آواز کی رفتار سے کیوں بھاگ رہا ہوں رکھتے ہو اگر آنکھ تو باہر سے نہ دیکھو دیکھو مجھے اندر سے بہت ٹوٹ چکا ہوں یہ سب تری مہکی ہوئی زلفوں کا کرم ہے اک سانس میں اک عمر کے دکھ بھول گیا ہوں تو جسم کے اندر ہے کہ باہر ہے، کدھر ہے علوی مری جاں کب سے تجھے ڈھونڈ…

Read More

محمد علوی ۔۔۔ دھوپ میں سب رنگ گہرے ہو گئے

دھوپ میں سب رنگ گہرے ہو گئے تتلیوں کے پر سنہرے ہو گئے سامنے دیوار پر کچھ داغ تھے غور سے دیکھا تو چہرے ہو گئے اب نہ سن پائیں گے ہم دل کی پکار سنتے سنتے کان بہرے ہو گئے اب کسی کی یاد بھی آتی نہیں دل پہ اب فکروں کے پہرے ہو گئے آؤ علوی اب تو اپنے گھر چلیں دن بہت دلی میں ٹھہرے ہو گئے

Read More