جوش ملیح آبادی کی یہ غزل پرانی زنجیروں کو توڑ کر انسان کو آزادی اور ہمت کی نئی روشنی دکھاتی ہے۔ غزل کا لب و لہجہ اسے غزل کی روایت سے کوسوں دور کرتا محسوس ہوتا ہے۔
Read MoreMonth: 2025 اگست
ثمینہ سید ۔۔۔ عشق میں شرک نہیں نہ کوئی بدعت کیجے
عشق میں شرک نہیں نہ کوئی بدعت کیجے عشق کا نام محبت ہے، محبت کیجے آئیں، اک بار مجھے دیکھ کے دیکھیں خود کو آئنہ بدلا نظر آئے تو حیرت کیجے ہار جانے پہ یوں شرمندہ نہیں ہونا ہے دوسرا دیتی ہوں موقع۔۔۔ذرا ہمت کیجے خود بڑے ہونے کا احساس نہ ہونے دیں اْنہیں گھر میں چپ چاپ پڑے رشتوں کی عزت کیجے زندگی اپنی محبت کے لیے ہی کم ہے آپ کو کس نے سکھایا ہے کہ نفرت کیجے فیصلہ دیجے جو حق والوں کے حق میں جائے مصلحت…
Read Moreعرفان صادق ۔۔۔ خشک پتا بھی گرے صحن میں ڈر جاتا ہوں
خشک پتا بھی گرے صحن میں ڈر جاتا ہوں شام ہوتے ہی میں سناٹوں سے بھر جاتا ہوں ٹیک جو مجھ سے لگائے کھڑے ہیں گر نہ پڑیں اس لیے پاؤں بدلتے ہوئے ڈر جاتا ہوں شام کی بانجھ ہتھیلی پہ چراغوں کی لویں تھرتھراتی ہیں تو میں خوف سے بھر جاتا ہوں جب جلاتی ہے مجھے لوگوں کے لہجوں کی تپش تری یادوں کے سمندر میں اتر جاتا ہوں ویسے اس عمر میں کچھ یاد کہاں رہتا ہے ویسے اک نام جو سن لوں تو ٹھہر جاتا ہوں جس…
Read Moreمہر علی ۔۔۔ مہتابِ نیم ، زرد ستارہ دکھائی دے
نوجوان شاعر مہر علی کی یہ غزل اپنی نکہت آفریں شاعرانہ لطافت اور دل پذیر اسلوب کے ساتھ حسنِ منظر نگاری اور رومانوی کیف کو ہم آہنگ کر دیتی ہے۔ اس کے مصرعوں میں امید کی نازک سی کرن یوں فروزاں ہے کہ قاری کو مسرّت و حُسن کا سرور عطا کرتی ہے، تاہم ساتھ ہی انسانی آرزوؤں کی شکست و ریخت اور قوت کی محدودیت کو نہایت بلیغ انداز میں آشکار کرتی ہے۔
Read Moreافتخار شاہد ۔۔۔ سورج ہمارے بخت کا ایسے بھی ڈھل گیا
افتخار شاہد کی یہ غزل روایتی عشقیہ مضامین کو دلنشیں استعارات اور خوش آہنگ پیرایۂ اظہار میں سموئے ہوئے ہے، تاہم مجموعی سطح پر تازگیِ مضمون اور فکری امتیاز کے اعتبار سے کچھ ناتواں محسوس ہوتی ہے۔
Read Moreمحمد علوی ۔۔۔ رات پڑے گھر جانا ہے
محمد علوی کی اس غزل میں وہی ہمیشہ کی بےچینی رقصاں ہے جو ان کے شعری مزاج کا خاصہ ہے؛ اس کے ساتھ الم کی لطیف سی پرچھائیں اور اسلوب کا نمایاں طنز مل کر ایک سہ رخی فضا قائم کرتے ہیں۔
درحقیقت، علوی کی بیشتر غزلیں انھی تین عناصر ۔۔۔۔ بےچینی، الم اور طنز ۔۔۔۔کے سہارے اپنی راہ تراشتی ہیں اور اپنی انفرادیت کو جِلا بخشتی ہیں۔
اعجاز دانش ۔۔۔ مجھے وہ بھول گیا ہے تو کوئی بات نہیں
مجھے وہ بھول گیا ہے تو کوئی بات نہیں نظر سے دور ہوا ہے تو کوئی بات نہیں کہاں ہر اک کا مقدر ہے آبلہ پائی جو زخم زخم ہرا ہے تو کوئی بات نہیں چراغِ فکر جلائیں گے محفلِ شب میں دیا بجھا کے گیا ہے تو کوئی بات نہیں چلے گی ٹھنڈی ہوا بھی، یقینِ کامل ہے چمن میں گرم ہوا ہے تو کوئی بات نہیں یہی ہے عشق کا تریاق ہم بھی کہتے ہیں جو اس نے زہر پیا ہے تو کوئی بات نہیں یہ اختلاف محبت…
Read Moreرخشندہ نوید ۔۔۔ دو غزلیں
مشکل روڑہ بن جاتا ہے ملن بچھوڑہ بن جاتا ہے آنسو ، آنسو مل کے سمندر یونہی تھوڑا بن جاتا ہے اتنا تیز دھڑکتا یہ دل پاگل گھوڑا بن جاتا ہے چار اطراف ، نکیلے پتھر حرف ، ہتھوڑا بن جاتا ہے انجانے دو انسانوں کا فلک پہ جوڑا بن جاتا ہے کینسر بعد میں ، دکھ کا پہلے بدن میں پھوڑا بن جاتا ہے موم کے اک پتلے سا انساں جدھر کو موڑا، بن جاتا ہے رخشندہ ! محبوب تمھارا ایک بھگوڑا بن جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔ درد و غم…
Read Moreاعجاز کنور راجا ۔۔۔ صرصر کو لوگ باد صبا ماننے لگے
صرصر کو لوگ باد صبا ماننے لگے ذرے کو آفتاب کہا، ماننے لگے لازم ہوا ہے جب سے یہاں احترامِ شب ظلمت کو لوگ رب کی رضا ماننے لگے ظاہر کا خوف پھیل کے باطن پہ چھا گیا ہم اپنی زندگی کو سزا ماننے لگے دن میں بھی چل رہا ہے یہاں کاروبارِ شب کھوٹے کو لوگ جب سے کھرا ماننے لگے اک پل میں اتنے رنگ بدلتی ہے زندگی اب کیا کوئی ہرے کو ہرا ماننے لگے آنکھیں کھلی ہیں ذہنِ رسا بھی ہے جس کے پاس کیسے وہ…
Read Moreحمد باری تعالیٰ ۔۔۔ طارق بٹ
یہ حمد طارق بٹ کے تخیل کی رفعت، نغمگی کی لطافت اور عقیدت کی سچائی کا حسین مرقع ہے، جہاں کائنات کے ہر رنگ، ہر نغمے اور ہر لرزش کو صانعِ ازل کی صناعی سے یوں وابستہ کیا گیا ہے کہ قاری کا دل سراپا شکر اور آنکھ سراپا حیرت بن جاتی ہے۔ سوالیہ اسلوب، زبان کی چاشنی اور معانی کی تہہ داری مل کر ایسی وجدانی فضا بُن دیتے ہیں جس میں حمد محض بیان نہیں رہتی بلکہ ایک روحانی تجربہ بن کر دل و دماغ کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔
Read More