عمر بھر ایک شرر یاد آیا ایک جلتا ہوا گھر یاد آیا ہر طرف خاک مرے اُڑنے لگی جب بھی وہ دشت وہ سر یاد آیا میں کہاں اس کو بھلا بھول سکا ہاں تکلف سے مگر یاد آیا جب بھی آیا مجھے دنیا کا خیال ایک ممنوعہ شجر یاد آیا سن کے ہوتا ہے تعجب مجھ کو آرزو آپ کو گھر یاد آیا
Read MoreMonth: 2025 اگست
محمد یوسف ۔۔۔ جس کو چاہا کبھی مِلا تو نہیں
جس کو چاہا کبھی مِلا تو نہیں زندگی یہ تِری سزا تو نہیں جانے کِس موڑ پر بچھڑ جائے ہم سفر نے ابھی کہا تو نہیں ہم مسافر ہیں ، آخرِ شب کے چل پڑیں ، کب ، کہیں ، پتا تو نہیں کوئی ویران کر گیا ہے شہر لوگ کہتے ہیں کچھ ہوا تو نہیں یہ مِرا گھر ہے یا کوئی صحرا پھول آنگن کوئی کِھلا تو نہیں وہ جو کب کا بچھڑ گیا یوسف شہرِ جاں سے ابھی گیا تو نہیں ۔۔۔۔ شور ایسا مری بستی کی فضا…
Read Moreنبیل احمد نبیل ۔۔۔ دو غزلیں
ایک لمحہ ہے ترے حُسنِ نظر کا جاگنا عشق ہے لیکن مسلسل عمر بھر کا جاگنا زندگی کے چاک پر گردِش کو رکھتا ہے رواں کُوزہ گر کے ہاتھ میں شوقِ ہنر کا جاگنا بنتا جاتا ہے تلاشِ آب و دانہ کا سبب صبح سے پہلے ہر اِک شاخِ شجر کا جاگنا کر گیا مجھ کو نئی سمتوں کی حیرانی میں گم منزلِ گم گشتہ سے عزمِ سفر کا جاگنا پھر کوئی پُرنم اُداسی دے گیا مجھ کو نبیل صفحۂ دل پر کسی رنگِ اثر کا جاگنا ۔۔۔۔۔ زندگی یوں…
Read Moreجلیل عالی ۔۔۔ سامانِ شگفتِ جاں
سامانِ شگفتِ جاں ۔۔۔۔ مرے جاں تاب مہتابو! تمہاری زندگانی کی ہلالی رُت بڑی شدت سے یاد آتی ہے تم میری نگاہوں میں امڈتی چاہتوں کے ایک ہلکے سے اشارے پر قلانچیں بھرتے آتے تھے مری گردن میں اپنی ننھی منی نرم باہیں ڈال کر مجھ سے لپٹ جاتے تھے کیسے والہانہ، کس قدر بے اختیارانہ مری آغوش میں آتے مرے اک اک بُنِ مُو میں سماتے تھے سماعت اْس گھڑی تینوں دلوں کی دھڑکنیں اک ساتھ سنتی تھی سواری کے لیے کس دھونس سے گھوڑا بنا لیتے تھے ابُّو…
Read Moreدلشاد احمد ۔۔۔ دریا کنارے بیٹھا بھی پیاسا لگا مجھے
دریا کنارے بیٹھا بھی پیاسا لگا مجھے میلے میں آ کے بھی کوئی تنہا لگا مجھے مسکاں منافقت کی مرا دل جلا گئی دشمن کا منہ پہ بولنا اچھا لگا مجھے ہر سانس جیسے وجہِ شکستِ وجود ہے ہر لمحہ ایک گھن کی طرح سا لگا مجھے جیسے ٹریڈ مل پہ ہوں اور چل نہیں رہا ایسا بھی ہو رہا ہے کچھ ، ایسا لگا مجھے آتا گیا قریب تو کھلتا چلا گیا اک شخص جو کہ دُور سے اچھا لگا مجھے دیکھا اُسے جو پیار کا چشمہ اتار کر…
Read Moreمحسن اسرار
اُسے بتاؤ کہ محسنؔ ابھی میں زندہ ہوں رگوں میں خون بھی ہے ہڈیوں پہ ماس بھی ہے
Read Moreراحت اندوری
راحت اندوری کا یہ شعر تعلیم یافتہ نوجوانوں کی خاموش بے بسی اور نظامِ معاش کی بےحس بیکاری کا علامتی و احتجاجی اظہاریہ ہے۔
Read Moreادا جعفری
اس شعر میں ادا جعفری نے ہوائے مست و مدہوش کو اس دلآویز انداز سے مصور کیا ہے گویا فطرت خود ساغر و مینا تھامے، کیف و نشاط کا جام لُٹا رہی ہو۔
یہ صرف بادِ نسیم کی خرامی نہیں، بلکہ روحِ کائنات کی نازنیں سرشاری ہے جو اپنے جلو میں وجدانی مسرّت، جمالی لطافت، اور حیات آفرینی لیے بہہ رہی ہے۔
شاعرہ کی نگاہِ حسّاس نے موسم کے معمولی جھونکوں کو عالمِ وجدان کی شرابِ ناب میں بدل کر پیش کیا ہے، جہاں فطرت کی ہر سانس گویا رقصِ لطافت بن گئی ہو۔
یہ شعر محض موسم کی منظرکشی نہیں بلکہ باطنی سرمستی اور نسائی شعورِ جمال کا ایک لطیف اظہاریہ ہے، جو قاری کو کیف و سکوت کے حسین کنارے پر لا کھڑا کرتا ہے۔
ادا جعفری کی شعری حسیّت یہاں نازک خیالی، رمز و کنایہ، اور باطن افروزی کے اعلیٰ نمونے کے طور پر جلوہ گر ہے، جہاں ہر لفظ مچلتی خوشبو کی مانند قاری کی روح پر دستک دیتا ہے۔
رضا اللہ حیدر ۔۔۔ بہرِ درماں جو کوئی درد کا پیکر نکلے
بہرِ درماں جو کوئی درد کا پیکر نکلے شاخِ احساس پہ تنویر سجا کر نکلے اور پھر بارشِ انوار سے بھر دے دامن تھامے بادل کی کلائی کوئی رہبر نکلے وہ جو گردابِ بلا ٹھیل گئے جھیل گئے بحرِ ہستی کے تلاطم میں شناور نکلے جن کے سینے میں دھڑکتا نہیں ریزہ کوئی دوست ایسے ہی مری راہ کے پتھر نکلے وہ کہ جو قوتِ بازو پہ بہت نازاں ہے آج آ جائے مقابل مرے ، باہر نکلے بد گمانی نے کئی چہرے بجھا رکھے تھے آزمائے تو رضا سرو…
Read Moreمحشر بدایونی
حبس چھٹ جائے، دیا جلتا رہے گھر بس اتنا ہی ہوادار اچھا
Read More