نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ واجد امیر

مرا سُخن مرا حُسنِ کلام اُن کے لیے ہُنر میں جوہے وہ سب دام دام اُن کے لیے سحر کا غلغلہ ہنگامِ شام اُن کے لیے ہے بود و ہست کا سب اہتمام اُن کے لیے شِکوہ و شان اُنہیں کس طرح کرے مرعوب جب ایک جیسے ہیں سب خاص و عام اُن کے لیے پلٹ دیا گیا رفتارِ وقت کا برتن اُلٹ دیا گیا سارا نظام اُن کے لیے چمک اُنہی کے لیے مہر وماہ میں رکھی سجایا کاہکشاؤں کا بام اُن کے لیے کسی کی مسندِ خالی پہ…

Read More

واجد امیر ۔۔۔ بُجھے ہوئے تھے کئی دل چراغ جَل رہے تھے

بُجھے ہوئے تھے کئی دل، چراغ جَل رہے تھے ہم اپنے چہرے نہیں آئینے بدل رہے تھے کوئی وہاں سے مکاں چھوڑ کر چلا گیا تھا ہم اُس گلی میں بہت دور تک نکل گئے تھے زمیں ، زمانہ ،زیاں کی زبان بولتا تھا یقیں کی ڈور میں اُلجھے گُماں پھسل رہے تھے ہوائیں مِل کے اندھیرے سے بین کررہی تھیں چراغ اپنی لَویں تھام کر سنبھل رہے تھے کسی کا حُسن بہت پاس سے بُلا رہے تھا کسی کے دِل کو کئی مسئلے مسَل رہے تھے کوئی کنویں سے…

Read More

حامد یزدانی ۔۔۔ سفر کی شاخ پر (جنابِ اختر حسین جعفری کے لیے)

سفر کی شاخ پر (جنابِ اختر حسین جعفری کے لیے) …… سفر کی شاخ پر کِھلی تھیں ملگجی بشارتیں کُشادِ حرفِ ذات سے،سوادِ زخمِ خواب تک سفید جھاڑیوں میں تھیں شفق کی خشک بیریاں کہ جگنوؤں نے روشنی کا پیرہن اتار کر قدیم آسماں کے دائروں میں دفن کر دیا نواحِ جاں میں سرمئی سی بادلوں کی ڈھیریاں فرازِ برف زار سے،نشیب ِ ماہتاب تک غروبِ شامِ رفتگاں کی جل بجھی وصیّتیں ہجومِ رنگ میں گِھرے، اُڑے اُڑے جواب تک پسِ غبارِ آئنہ کوئی سوال رہ گیا کہِیں بس ایک…

Read More

علی تاصف ۔۔۔ دو غزلیں

اس بار ہاتھ تھام کے موقع پرست کا دیکھا ہے خواب رینگنے والے نے جست کا نزدیک آ چکی ہے وہ آواز دور کی اب وقت ہی کہاں ہے کسی بندوبست کا بہتر یہی کہ خود سے کیے جاؤں میں ادھار احسان کیوں اٹھاؤں کسی چیرہ دست کا آتا ہوں اس طرف بھی تماشہ تو دیکھ لوں وعدہ ہر ایک یاد ہے یومِ الست کا اس بار آئنہ ہے مقابل سو خود کو میں عادی بنا رہا ہوں ابھی سے شکست کا سچ جس کو ناگوار ہو اٹھ جائے شوق…

Read More

صغیر احمد صغیر ۔۔۔ اتنا خراب ہو کے بھی اچھا نہیں لگا

صغیر احمد صغیر کی یہ غزل کرب کی شدت اور حسنِ بیان کی لطافت کو یوں ہم آغوش کرتی ہے کہ قاری کے دل و دماغ پر ایک دیرپا اور گہرا تاثر ثبت ہو جاتا ہے۔

Read More

فرہاد ترابی ۔۔۔ ریشم و اطلس و کم خواب نہیں دیکھتے ہیں

ریشم و اطلس و کم خواب نہیں دیکھتے ہیں ہم پہ الزام ہے ہم خواب نہیں دیکھتے ہیں جب وہ آتا ہے سرِ شام لبِ بام کبھی آسماں ہم ترا مہتاب نہیں دیکھتے ہیں آپ اسے کچھ بھی کہیں آپ کی مرضی ہے جناب ٹھان لیتے ہیں تو اسباب نہیں دیکھتے ہیں یہ الگ بات کہ ہنستے ہوئے ٹالا ہے اسے دل پہ کیا گزری ہے احباب نہیں دیکھتے ہیں بستیاں جن کی ہوں دریا کے کنارے فرہادؔ گھر بناتے ہوئے سیلاب نہیں دیکھتے ہیں

Read More

خواجہ رضی حیدر ۔۔۔ نئے شعری اُفق کا متلاشی :طارق بٹ

نئے شعری اُفق کا متلاشی :طارق بٹ طارق بٹ ایک صاحبِ اسلوب اور تخلیقی موج سے بھرپور شاعر ہیں۔لہٰذا اُن کے اب تک دو مجموعے طبع ہوچکے ہیں۔ اور تیسرے مجموعے  ’’کتنے موسم خواب ہوئے‘‘ کا مسودہ میرے سامنے ہے۔ سامنے ہی نہیں بلکہ اس نے تو میری تفہیمی صلاحیتوں کو اس طرح آوازدی ہے کہ میں اس مجموعے میں شامل شاعری پر مسلسل غورکرتا رہا ہوں۔ویسے اس غوروفکر کو ان کے ایک فقرے نے مزید مہمیز کیا ہے جوانھوں نے اپنے دوسرے مجموعے کے ابتدائیہ میں درج کیا تھا…

Read More

خالد علیم ۔۔۔ ’’کتنے موسم خواب ہوئے‘‘۔۔۔ ایک تاثر

’’کتنے موسم خواب ہوئے‘‘۔۔۔ ایک تاثر طارق بٹ کی شاعری کا ایک ہلکا سا تاثر ان کی ان غزلوں سے میرے ذہن میں اس وقت مرتب ہوا جب ماہ نامہ ’’فانوس‘‘ میں ان کی غزلیں اشاعت کے لیے آئیں اور وقتاً فوقتاً’’فانوس‘‘ کے بعض شماروں کا حصہ بنیں۔ تاہم مجموعی اور بھرپور تاثر کے لیے میرے سامنے ان کا کوئی مجموعہ نہیں تھا۔ اسے میری نارسائی کہہ لیجے یا کوتاہی کہ خواجہ رضی حیدر اور نوید صادق کے دیباچوں سے معلوم ہوا کہ ’’کتنے موسم خواب ہوئے‘‘ ان کا تیسرا مجموعہ…

Read More

عذرا مظہر خانپوری ۔۔۔ تلمیحات راز۔۔۔۔ایک جائزہ

  تلمیحات راز۔۔۔۔ایک جائزہ     پروفیسر شفیق الر حمٰن الہ آبادی کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں وہ میلسی کے اولین نقاد محقق ہیں۔وہ میلسی رائٹرز فورم کے صدر ہونے کے ساتھ ساتھ گورنمنٹ کالج میلسی کے ’’بزم اقبال‘‘ کے بھی صدرہیں۔اس کے علاوہ وہ کالج میگزین (آب جو) کے مدیر کے عہدے پر بھی فائزہیں۔’’تلمیحات راز‘‘سے پہلے بھی پروفیسر شفیق الر حمٰن الہ آبادی کی چھ کتابیں منصہ شہودپر جلوہ گر ہوچکی ہیں جن میں آئینہ خیال(تحقیق و تنقید)،شاعر علی شاعر کی تخلیقی جہتیں(تحقیق و تنقید)،جاوید صدیق…

Read More