ہجر کا کاروبار ٹھیک لگا عشق پہلے تو یار ٹھیک لگا قید ہوتا گیا ترے دل میں دھڑکنوں کا حصار ٹھیک لگا میں نے پرکھا تھا بار بار اسے مجھ کو وہ بار بار ٹھیک لگا تیرے جیسا نہیں لگا پھر بھی کوئی مجھ کو ہزار ٹھیک لگا دائروں کا سفر ہی کرنا تھا مجھ کو اس کا مدار ٹھیک لگا رشک سے دیکھتا تھا وہ مجھ کو جو بھی دریا کے پار ٹھیک لگا
Read MoreMonth: 2026 جون
ادا جعفری
نہ ہوتا خانماں تو خانماں برباد کیوں ہوتی اداؔ یہ رنگ لائی آرزوئے آشیاں میری
Read Moreراحت اندوری
ستارو آؤ مری راہ میں بکھر جاؤ یہ میرا حکم ہے حالانکہ کچھ نہیں ہوں میں
Read Moreراحت اندوری
ہمارے میر تقی میر نے کہا تھا کبھی میاں یہ عاشقی عزت بگاڑ دیتی ہے
Read Moreراحت اندوری
رات کی دھڑکن جب تک جاری رہتی ہے سوتے نہیں ہم ذمہ داری رہتی ہے
Read Moreراحت اندوری
دن ڈھل گیا تو رات گزرنے کی آس میں سورج ندی میں ڈوب گیا، ہم گلاس میں
Read More