حسن اکبر کمال … ہنر جو طالبِ زر ہو ہنر نہیں رہتا

ہنر جو طالبِ زر ہو ہنر نہیں رہتا محل سرا میں کوئی کوزہ گر نہیں رہتا بچھڑتے وقت کسی سے ہمیں بھی تھا یہ گماں کہ زخم کیسا بھی ہو عمر بھر نہیں رہتا میں اپنے حق کے سوا مانگتا اگر کچھ اور تو میرے حرف دعا میں اثر نہیں رہتا کچھ اور بھی گزر اوقات کے وسیلے ہیں گدا خزینۂ کشکول پر نہیں رہتا وہ کون ہے جو مسافر کے ساتھ چلتا ہے خیالِ یار بھی جب ہم سفر نہیں رہتا جسے بناتے سجاتے ہیں جس میں رہتے ہیں…

Read More

ڈاکٹر امام اعظم

کسی کی بات کوئی بد گماں نہ سمجھے گا زمیں کا درد کبھی آسماں نہ سمجھے گا

Read More

احمد مشتاق

سنگ اٹھانا تو بڑی بات ہے اب شہر کے لوگ آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے دیوانے کو

Read More

ابراہیم اشک

ﺑﮑﮭﺮﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﻟﻮﮒ ﺧﻮﺩ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺴﺎﮞ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﻋﺠﺐ ﺑﻨﺪﻭﺑﺴﺖ ﺗﮭﺎ

Read More