ہنر جو طالبِ زر ہو ہنر نہیں رہتا محل سرا میں کوئی کوزہ گر نہیں رہتا بچھڑتے وقت کسی سے ہمیں بھی تھا یہ گماں کہ زخم کیسا بھی ہو عمر بھر نہیں رہتا میں اپنے حق کے سوا مانگتا اگر کچھ اور تو میرے حرف دعا میں اثر نہیں رہتا کچھ اور بھی گزر اوقات کے وسیلے ہیں گدا خزینۂ کشکول پر نہیں رہتا وہ کون ہے جو مسافر کے ساتھ چلتا ہے خیالِ یار بھی جب ہم سفر نہیں رہتا جسے بناتے سجاتے ہیں جس میں رہتے ہیں…
Read MoreDay: جولائی 25، 2026
فراغ روہوی
مری میلی ہتھیلی پر تو بچپن سے غریبی کا کھرا سونا چمکتا ہے
Read Moreفراغ روہوی
اسی طرف ہے زمانہ بھی آج محو سفر فراغؔ میں نے جدھر سے گزرنا چاہا تھا
Read Moreڈاکٹر امام اعظم
کسی کی بات کوئی بد گماں نہ سمجھے گا زمیں کا درد کبھی آسماں نہ سمجھے گا
Read Moreڈاکٹر امام اعظم
ہر طرف اک جنگ کا ماحول ہے اعظمؔ یہاں آدمی اب گھر کے بھی اندر سلامت ہے کہاں
Read Moreڈاکٹر امام اعظم
ان کے رخصت کا وہ لمحہ مجھے یوں لگتا ہے وقت ناراض ہوا دن بھی ڈھلا ہو جیسے
Read Moreاحمد مشتاق
سنگ اٹھانا تو بڑی بات ہے اب شہر کے لوگ آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے دیوانے کو
Read Moreابراہیم اشک
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﭼﺎﮨﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﮎ ﺳﻔﺮ ﺍﺱ ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺭﮨﺎ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺑﭽﮭﮍ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ
Read Moreابراہیم اشک
ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﮨﻮﮔﺎ ﺟﺲ ﮐﻮ ﻣﺮﺍ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮨﮯ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﺩﻝ ﮐﮧ ﺷﮩﺮ ﺗﻤﻨﺎ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮐﮯ ﭼﻞ
Read Moreابراہیم اشک
ﺑﮑﮭﺮﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﻟﻮﮒ ﺧﻮﺩ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺴﺎﮞ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﻋﺠﺐ ﺑﻨﺪﻭﺑﺴﺖ ﺗﮭﺎ
Read More