ابراہیم اشک

بس ایک بار ہی توڑا جہاں نے عہدِ وفا کسی سے ہم نے پھر عہد وفا کیا ہی نہیں

Read More

ابراہیم اشک

تھی حوصلے کی بات زمانے میں زندگی قدموں کا فاصلہ بھی یہاں ایک جست تھا

Read More