استاد قمر جلالوی ۔۔۔ منتخب اشعار

انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیں
وہ شاخِ گل کی صورت ناز سے بل کھائے جاتے ہیں
اگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیں
تو کیا اب عید ملنے کو فرشتے آئے جاتے ہیں
رقیبوں سے نہ ملیے عید اتنی گرم جوشی سے
تمھارے پھول سے رخ پر پسینے آئے جاتے ہیں
وہ ہنس  کرکہہ رہے ہیں مجھ سے سن کر غیر کے شکوے
یہ کب کب کے فسانے عید میں دوہرائے جاتے ہیں
نہ چھیڑ اتنا انھیں اے وعدۂ شب کی پشیمانی
کہ اب تو عید ملنے پر بھی وہ شرمائے جاتے ہیں
قمر افشاں چنی ہے رخ پہ اس نے اس سلیقے سے
ستارے آسماں سے دیکھنے کو آئے جاتے ہیں

۔۔۔۔
جواں ہو کر زباں تیری بتِ بے پیر بگڑی ہے
دعا کتنی حسیں تھی جس کی یہ تاثیر بگڑی ہے
وہ میرا نام لکھتے وقت روئے ہوں گے اے قاصد
یہاں آنسو گرے ہوں گے جہاں تحریر بگڑی ہے
مصور اپنی صورت مجھ سے پہچانی نہیں جاتی
میں ایسا ہو گیا ہوں یا مری تصویر بگڑی ہے
لٹا ہے کارواں جب آ چکی ہے سامنے منزل
کہاں ٹوٹی امیدیں اور کہاں تقدیر بگڑی ہے
کیا ہے ہر کڑی کو میں نے ٹیڑھا جوشِ وحشت میں
مرے ہاتھوں ہی میرے پاؤں کی زنجیر بگڑی ہیں
قمر اچھا نہیں گیسو رخِ روشن پہ آ جانا
گہن جب بھی لگا ہے چاند کی تنویر بگڑی ہے
۔۔۔
نہ جانے ساغر و مینا پہ پیمانے پہ کیا گزری
جو ہم پی کر چلے آئے تو میخانے پہ کیا گزری
بڑی رنگینیاں تھیں اولِ شب ان کی محفل میں
بتاؤ بزم والو رات ڈھل جانے پہ کیا گزری
چھپائیں گے کہاں تک رازِ محفل شمع کے آنسو
کہے گی خاکِ پروانہ کہ پروانے پہ کیا گزری
مرا دل جانتا ہے دونوں منظر میں نے دیکھے ہیں
ترے آنے پہ کیا گزری ترے جانے پہ کیا گزر ی
بگولے مجھ سے کوسوں دور بھاگے دشتِ وحشت میں
بس اتنا میں نے پوچھا تھا کہ دیوانے پہ کیا گزری
گری فصلِ چمن پر برق دیوانے یہ کیا جانیں
مصیبت باغ پر گزری تھی ویرانے پہ کیا گزری
قمر جھیلے دِلِ صد چاک نے الفت میں دکھ کیا کیا
کوئی زلفوں سے اتنا پوچھ لے شانے پہ کیا گزری
۔۔۔
وہ فتنہ ساز دے کے گیا ہے یہ دم ابھی
آتا ہوں ہو کے گھر سے  میں تیری قسم ابھی
ظالم وہ دیکھ پاس سے اٹھتے ہیں چارہ گر
تیرے مریضِ ہجر نے توڑا ہے دم ابھی
ان کے لیے تو کھیل ہے دنیا کا انقلاب
چاہیں تو بتکدے کو بنا دیں حرم ابھی
کوچے سے ان کے اٹھتے ہی یوں بدحواس ہوں
آیا ہوں جیسے چھوڑ کے باغِ ارم ابھی
ذوق الم میں حق سے دعا مانگتا ہوں میں
جتنے بھی مجھ کو دینے ہیں دے دے الم ابھی
شکوے فضول گردشِ دوراں کے اے قمر
یہ آسماں نہ چھوڑے گا جورو ستم کبھی
۔۔۔
مے کدے میں جو کوئی جام بدل جاتا ہے
عالمِ گردشِ ایام بدل جاتا ہے
شامِ فرقت وہ قیامت ہے کہ اللہ بچائے
صبح کو آدمی کا نام بدل جاتا ہے
ہم اسے پہلی محبت کی نظر کہتے ہیں
جس کے آغاز کا انجام بدل جاتا ہے
نامہ بر ان کی زباں کے تو یہ الفاظ نہیں
راستے میں کہیں پیغام بدل جاتا ہے
خواب میں رخ پہ جو آ جاتے ہیں ان کے گیسو
انتظامِ سحر و شام بدل جاتا ہے
تم جواں ہو کے وہی غنچہ دہن ہو یہ کیا
جب کلی کھلتی ہے تو نام بدل جاتا ہے
اے قمر ہجر کی شب کاٹ تو لیتا ہوں مگر
رنگ چہرے کا سرِ شام بدل جاتا ہے
۔۔۔
پاس اس کا بھی تو کر اے بتِ مغرور کبھی
تجھ سے سائے کی طرح جو نہ ہوا       دورکبھی
شکوۂ حسن نہ کرنا دلِ رنجور کبھی
عشق والوں نے یہ بدلا نہیں دستور کبھی
خود ہی آ جائے تو آ جائے ترا نور کبھی
ور نہ اب موسی نہ  جائیں گے سرِ طور کبھی
دیکھو آئینے نے آخر کو سکھا دی وہی بات
ہم نہ کہتے تھے کہ ہو جائے گا مغرور کبھی
جانے کب کب کے لیے دھوپ نے بدلے مجھ سے
تیری دیوار کا سایہ جو ہوا دور کبھی
چاندنی ایسے کھلی ہو گئے ذرے روشن
داغ سینے سے قمر کے نہ ہوا دور کبھی
۔۔۔
وہ ستا کر مجھے کہتے ہیں کہ غم ہوتا ہے
یہ ستم اور بھی بالائے ستم ہوتا ہے
جل کے مرنا بھی بڑا کارِ اہم ہوتا ہے
یہ تو اک چھوٹے سے پروانے کا دم ہوتا ہے
قصۂ برہمن و شیخ کو بس رہنے دو
آج تک فیصلۂ دیر و حرم ہوتا ہے
گر حسیں دل میں نہ ہوں عظمت دل بڑھ جائے
بت کدہ تو انھی باتوں سے حرم ہوتا ہے
پھونک اے آتشِ گل ورنہ تری بات گئی
آشیاں برق کا ممنونِ کرم ہوتا ہے
چارہ گر میں تری خاطر سے کہے دیتا ہوں
درد ہوتا ہے مگر پہلے سے کم ہوتا ہے
ہجر کی رات بھی ہوتی ہے عجب رات قمر
تارے ہنستے ہیں فلک پر مجھے غم ہوتا ہے
۔۔۔
یہ جفائیں تو وہی ہیں وہی بیداد بھی ہے
آپ کیا کہہ کہ ہمیں لائے تھے کچھ یاد بھی ہے
کیوں قفس والوں پہ الزامِ فغاں ہے ناحق
ان میں صیاد کوئی قابلِ فریاد بھی ہے
آشیانوں کی خبر تجھ کو نہیں ہے نہ سہی
یہ تو صیاد بتا دے چمن آباد بھی ہے
اپنے رہنے کو مکاں لے لیئے تم نے لیکن
یہ نہ سوچا کہ کوئی خانماں برباد بھی ہے
کارواں لے کے تو چلتا ہے مگر یہ تو بتا
راہِ منزل تجھے اے راہ نما یاد بھی ہے
تو حقارت سے جنہیں دیکھ رہا  ہےساقی
کچھ انھی لوگوں سے یہ میکدہ آباد بھی ہے
اِک تو حق دارِ نوازش ہے قمر خانہ خراب
دوسرے مملکتِ پاکِ خدا داد بھی ہے
۔۔۔۔
مریضِ محبت انہیں کا فسانہ سناتا رہا دم نکلتے نکلتے
مگر ذکر شامِ الم کا جب آیا چراغِ سحر بجھ گیا جلتے جلتے
انھیں خط میں لکھا تھا  دل مضطرب ہے جواب ان کا آیا 
تمھیں دل لگانے کو کس نے کہا تھا بہل جائے گا دل بہلتے بہلتے
مجھے اپنے دل کی تو پروا نہیں ہے مگر ڈر رہا ہوں کہ بچپن کی ضد ہے
کہیں پائے نازک میں موچ آنہ جائے دلِ سخت جاں کو مسلتے مسلتے
بھلا کوئی وعدہ خلافی کی حد ہے حساب اپنے دل میں لگا کر تو سوچو
قیامت کا دن آگیا رفتہ رفتہ ملاقات کا دن بدلتے بدلتے
ارادہ تھا ترکِ محبت کا لیکن فریبِ تبسم میں پھر آ گئے ہم
ابھی کھا کہ ٹھوکر سنبھلنے نہ پائے کہ پھر کھائی ٹھوکر سنبھلتے سنبھلتے
وہ مہمان میرے ہوئے بھی تو کب تک ہوئی شمع گل اور نہ ڈوبے ستارے
قمر اس قدر ان کو جلدی تھی گھر کی کہ گھر چل دیے چاندنی ڈھلتے ڈھلتے
۔۔۔
حسن سے رسوا نہ ہو گا اپنے دیوانے کا نام
شمع رو دے گی مگر نہ لے گی پروانے کا نام
ہو گئی توبہ کو اک مدت کسے اب یاد ہے
اصطلاحاً ہم نے کیا رکھا تھا پیمانے کا نام
میتِ پروانہ بے گور و کفن دیکھا کئے
اہلِ محفل نے لیا لیکن نہ دفنانے کا نام
یہ بھی ہے کوئی عیادت دو گھڑی بیٹھے نہ وہ
حال پوچھا چل دیے گھر کر گئے آنے کا نام
لاکھ دیوانے کھلائیں گل چمن کہہ دے گا کون
عارضی پھولوں سے بدلے گا نہ ویرانے کا نام
ان کو کوسے دے رہے ہو خودہیں جو جینے سے تنگ
زندگی رکھا ہے جن لوگوں نے مر جانے کا نام
اِس ہوا میں قوتِ پرواز سے آگے نہ بڑھ
ہے قفس آزادیوں کی حد گزر جانے کا نام
۔۔۔
آج کے دن صاف ہو جاتا ہے دل اغیار کا
آؤ مل لو عید یہ موقع نہیں تکرار کا
رخ پہ گیسو ڈال کر کہنا بتِ عیار کا
وقت دونوں مل گئے منہ کھول دو بیمار کا
جاں کنی کا وقت ہے پھرتی  نہ دیکھو پتلیاں
تم ذرا ہٹ جاؤ دم نکلے گا اب بیمار کا
حرج ہی کیا ہے الگ بیٹھا ہوں محفل میں خموش
تم سمجھ لینا کہ یہ بھی نقش ہے دیوار کا
اس قفس والے کی قسمت قابل اِفسوس ہے
چھوٹ کر جو بھول جائے راستہ گلزار کا
بات رہ جائے گی دیکھ آؤ گھڑی بھر کے لیئے
لوگ کہتے ہیں کے حال اچھا نہیں بیمار کا
کس طرح گزری شبِ فرقت قمر سے یہ نہ پوچھ
رات بھر ڈھونڈا ہے تارہ صبح کے آثار کا

۔۔۔
میں تماشا تو دکھا دوں ستم آرائی کا
کیا کروں حشر میں ڈر ہے تری رسوائی کا
یہ نتیجہ ہو آخر جَبَل آرائی کا
بن گیا ایک تماشا سا تماشائی کا
آپ نے محفلِ اغیار کی رونق تو کہی
مجھ سے کچھ حال نہ پوچھا شبِ تنہائی کا
چارہ گر کا ہے کو لوں چارہ گری کا احساس
تو کوئی ٹالنے والا ہے مری آئی کا
طور پر طالبِ دیدار ہزاروں آتے
تم تماشہ جو  بناتے نہ تماشائی کا
شمع گل ہو گئی تارے بھی قمر ڈوب گئے
کوئی مونس نہ رہا اب شبِ تنہائی کا
۔۔۔۔
پیشِ ساحل اِک ہجومِ موجِ دریا ہو گیا
وہ نہانے کیا چلے آئے تماشا ہو گیا
کاٹنی ہی کیا شبِ ہستی سَرائے دہر میں
اِک ذرا سی آنکھ جھپکائی سویرا ہو گیا
کچھ مری خاموشیاں ان کی سمجھ میں آ گئیں
کچھ مری آنکھوں سے اظہارِ تمنا ہو گیا
نزع کے عالم میں قاصد لے کے جب آیا جواب
ڈوبنے والوں کو تنکے کا سہارا ہو گیا
اپنے سر پر موجِ طوفاں بڑھا کہ لیتی ہے قدم
میرا بیڑا قابلِ تعظیمِ دریا ہو گا
ساحلِ امید وعدہ اب تو چھوڑو اے قمر
غرقِ بحرِ آسماں ایک ایک تارا ہو گیا
۔۔۔
تم چلے آئے تو رونق پر مزار آ ہی گیا
شمع روشن ہو گئی پھولوں کا ہار آ ہی گیا
ہم نہ کہتے تھے ہنسی میں غیر سے وعدہ نہ کر
دیکھنے والوں کو آخر اعتبار آ ہی گیا
کہتے تھے اہلِ قفس گلشن کا اب لیں گے نہ نام
باتوں باتوں میں مگر ذکرِ بہار آ ہی گیا
کتنا سمجھایا تھا تجھ کو دیکھ بڑھ جائے گی بات
فیصلہ آخر کو پیشِ کردگار آ ہی گیا
گو بظاہر میرے افسانے پہ وہ ہنستے رہے
آنکھ میں آنسو مگر بے اختیار آ ہی گیا
گو مری صورت سے نفرت تھی مگر مرنے کے بعد
جب مری تصویر دیکھی ان کو پیار آ ہی گیا
اے قمر قسمت چمک اٹھی اندھیری رات میں
چاندنی چھپتے ہی کوئی پردہ دار آ ہی گیا
۔۔۔
اگر چھوٹا بھی اس سے آئینہ خانہ تو کیا ہوگا
وہ الجھے ہی رہیں گے زلف میں شانہ تو کیا ہوگا
بھلا اہلِ جنوں سے ترکِ ویرانہ تو کیا ہوگا
خبر آئے گی ان کی ان کا اب آنا تو کیا ہوگا
سنے جاؤ جہاں تک سن سکو جب نیند آئےگی
وہیں ہم چھوڑ دیں گے ختم افسانہ تو کیا ہوگا
اندھیری رات، زِنداں، پاؤں میں زنجیریں، تنہائی
اِس عالم میں نہ مر جائے گا دیوانہ تو کیا ہوگا
یہی ہے گر خوشی تو رات بھر گنتے رہو تارے
قمر اس چاندنی میں ان کا اب آنا تو کیا ہوگا
۔۔۔
یہ تو نے کیا کہا خونِ تمنا ہو نہیں سکتا
تری مہندی  سلامت ہے تو کیا کیا ہو نہیں سکتا
پڑھے گر لاکھ ماہِ چرخ تم سا ہو نہیں سکتا
یہ صورت ہو نہیں سکتی یہ نقشہ ہو نہیں سکتا
کروں سجدے میں اے بت مجھ سے ایسا ہو نہیں سکتا
خدا تو ہو نہیں سکتا میں بندہ ہو نہیں سکتا
قفس سے چھوٹ کر صیاد جائیں تو کہاں جائیں
ہمیں تو آشیاں بھی اب مہیا ہو نہیں سکتا
گنہ گاروں کا مجمع سب سے آگے ہو گا اے واعظ
تجھے دیدار بھی پہلے خدا کا نہیں سکتا
نہ دینا آشیاں کو آگ ورنہ جان دے دیں گے
ہمارے سامنے صیاد ایسا ہو نہیں سکتا
انھیں  پر منحصر کیا آزما بیٹھے زمانے کو
قمر سچ تو یہ ہے کوئی کسی کا ہو نہیں سکتا
۔۔۔
پھول سب اچھی طرح تھے باغباں اچھی طرح
میرے آنے تک تھا سارا گلستاں اچھی طرح
ان کے دھوکے میں نہ دے آنا کسی  دشمن کو خط
یاد کر نا نامہ بر نام و نشان اچھی طرح
کیا کہا یہ تو نے اے صیاد تنکا تک نہیں
چھوڑ کر آیا ہوں اپنا آشیاں اچھی طرح
پھر خدا جانے رہائی ہو قفس سے یا نہ ہو
دیکھ لوں صیاد اپنا آشیاں اچھی طرح
صبح کو آئی تھی گلشن میں دبے پاؤں نسیم
دیکھ لینا غنچہ و گل باغباں اچھی طرح
دیکھیے قسمت کہ ان کو شام سے نیند آ گئی
وہ نہ سننے پائے میری داستاں اچھی طرح
۔۔۔
دیکھو پھر دیکھ لو دیوار کی دَر کی صورت
تم کہیں بھول نہ جاؤ مرے گھر کی صورت
خیر ہو آپ کے بیمارِ شبِ فرقت کی
آج اتری نظر آتی ہے سحر کی صورت
اے کلی اپنی طرف دیکھ کے خاموش ہے کیوں
کل کو ہو جائے گی تو بھی گلِ تر کی صورت
جام خالی ہوئے محفل میں ہمارے آگے
ہم بھرے بیٹھے رہے دیدۂ تر کی صورت
پوچھتا ہوں ترے حالات بتاتے ہی نہیں
غیر کہتے نہیں مجھ سے ترے ِدر کی صورت
اس نے قدموں میں بھی رکھا سرِمحفل نہ ہمیں
جس کہ ہم ساتھ رہے گردِ سفر کی صورت
رات کی رات مجھے بزم میں رہنے دیجے
آپ دیکھیں گے سحر کو نہ قمر کی صورت

۔۔۔
بیٹھیے شوق سے دشمن کے طرف داروں میں
رونقِ گل ہے وہیں تک کہ رہے خاروں میں
آنکھ نرگس سے لڑاتے ہو جو گلزاروں میں
کیوں لیے پھرتے ہو بیمار کو بیماروں میں
عشق نے قدر کی نظروں سے نہ جب تک دیکھا
حسن بکتا ہی پھرا مصر کے بازاروں میں
دل کی ہمت ہے جو ہے جنبشِ ابرو پہ نثار
ورنہ کون آتا ہے چلتی ہوئی تلواروں میں
وہ بھی کیا دن تھے کہ قسمت کا ستارہ تھا بلند
اے قمر رات گزر جاتی تھی مہ پاروں میں
۔۔
اب تو منہ سے بول مجھ کو دیکھ دن بھر ہو گیا
اے بتِ خاموش کیا سچ مچ کا پتھر ہو گیا
اب تو چپ ہو باغ میں نالوں سے محشر ہو گیا
یہ بھی اے بلبل کوئی صیاد کا گھر ہو گیا
التماسِ قتل پر کہتے ہو فرصت ہی نہیں
اب تمہیں اتنا غرور اللہ اکبر ہو گیا
محفلِ دشمن میں جو گزری وہ میرے دل سے پوچھ
ہر اشارہ جنبشِ ابرو کا خنجر ہو گیا
آشیانے کا  بتائیں کیا پتہ خانہ بدوش
چار تنکے رکھ لئے جس شاخ پر گھر ہو گیا
سوختہ دل میں نہ ملتا تیر کا خوں اے قمر
یہ بھی کچھ مہماں کی قسمت سے میسر ہو گیا
۔۔۔
شکوہ شکستِ دل کا ہو کیا دستِ ناز سے
آئینے ٹوٹ جاتے ہیں آئینہ ساز سے
اب التماسِ دید کروں تو گناہ گار
واقف میں ہو گیا ترے پردے کے راز سے
ہر شے انہی کی شکل میں آنے لگی نظر
شاید گزر گیا میں حدِ امتیاز سے
خود آئیں پوچھنے وہ مرے پاس حالِ دل
کچھ دور تو نہیں ہے مرے کار ساز سے
اے شیخ مے کدے سے نکل دیکھ بال کے
واپس نہ آ رہے ہوں نمازی نماز سے
اللہ ان کو عشق کی کیونکر خبر ہوئی
واقف نہ تھا کوئی بھی مرے دل کے راز سے
بھیدی ہوں گھر کا مجھ سے نہ چل چال اے فلک
واقف قمر ہے خوب تری سازباز سے
۔ ۔۔
مجھے باغباں سے گلہ یہ ہے کہ چمن سے بے خبری رہی
کہ ہے نخلِ گل کاتو ذکر کیا کوئی شاخ تک نہ ہری رہی
مرا حال دیکھ کے ساقیا کوئی بادہ خوار نہ پی سکا
ترا جام خالی نہ ہو سکے مری چشمِ تر نہ بھر رہی
میں قفس کو توڑ کے کیا کروں مجھے رات دن یہ خیال ہے
یہ بہار بھی یوں ہی جائے گی جو یہی شکستہ پری رہی
میں ازل سے آیا تو کیا ملا جو میں جاؤں گا تو ملے گا کیا
مری جب بھی دربدری رہی مری اب بھی دربدری رہی
یہی سوچتا ہوں شبِ الم کہ نہ آئے وہ تو ہوا ہے کیا
وہاں جا سکی نہ مری فغاں کہ فغاں کی بے اثری رہی
شبِ وعدہ جو نہ آسکے تو قمر کہوں گا چرخ سے
ترے تارے بھی گئے رایگاں تری چاندنی بھی دھری رہی
۔۔۔
ان کی تجلیوں کا اشر کچھ نہ پوچھیے
وہ میرے سامنے تھے مگر کچھ نہ پوچھیے
از شامِ ہجر تا بہ سحر کچھ نہ پوچھیے
کٹتے ہیں کیسے چار پہر کچھ نہ پوچھیے
بجلی جو شاخ گل پہ گری اس کا غم نہیں
لیکن وہ اک غریب کا گھر کچھ نہ پوچھیے
تنکے وہ نرم نرم سے پھولوں کی چھاؤں میں
کیسا بنا تھا باغ میں گھر کچھ نہ پوچھیے
بس آپ دیکھ جایئے صورت مریض کی
نبضوں کا حال، دردِ جگر کچھ نہ پوچھیے
جب چاندنی میں آ کے ہوئے تھے وہ میہماں
تاروں بھری وہ رات قمر کچھ نہ پوچھیے
۔۔۔
کب میرا نشیمن اہلِ چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں
غنچے اپنی آوازوں میں بجلی کو پکارا کرتے ہیں
اب نزع کا عالم ہے مجھ پر تم اپنی محبت واپس لو
جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں
جاتی ہوئی میت دیکھ کے بھی اللہ تم اٹھ کے آ نہ سکے
دو چار قدم تو دشمن بھی تکلیف گوارا کرتے ہیں
بے وجہ نہ جانے کیوں ضد ہے، ان کو شبِ فرقت والوں سے
وہ رات بڑھا دینے کے لئے گیسو کو سنوارا کرتے ہیں
پونچھو نہ عرق رخساروں سے رنگینیِ حسن کو بڑھنے دو
سنتے ہیں کہ شبنم کے قطرے پھولوں کو نکھارا کرتے ہیں
کچھ حسن و عشق میں فرق نہیں، ہے بھی تو فقط رسوائی کا
تم ہو کہ گوارا کر نہ سکے ہم ہیں کہ گوارا کرتے ہیں
تاروں کی بہاروں میں بھی قمر تم افسردہ سے رہتے ہو
پھولوں کو دیکھ کانٹوں میں ہنس ہنس کے گذارا کرتے ہیں
۔  ۔۔
سانس ان کے مریضِ حسرت کی رک رک کے چلی جاتی ہے
مایوس نظر ہے در کی طرف اور جان نکلی جاتی ہے
چہرے سے سرکتی جاتی ہے زلف ان کی خواب کے عالم میں
وہ ہیں کہ ابھی تک ہوش نہیں اور شب ہے کہ ڈھلی جاتی ہے
اللہ خبر بجلی کو نہ ہو گلچیں کی نگاہِ بد نہ پڑے
جس شاخ پہ تنکے رکھے ہیں وہ پھولتی پھلتی جاتی ہے
عارض پہ نمایاں خال ہوئے پھر سبزۂ خط آغاز ہوا
قرآں تو حقیقت میں ہے وہی تفسیر بدلتی جاتی ہے
توہینِ محبت بھی نہ رہی وہ جورو ستم بھی چھوٹ گئے
پہلے کی بہ نسبت حسن کی اب ہر بات بدلتی جاتی ہے
لاج اپنی مسیحا نے رکھ لی مرنے نہ دیا بیماروں کو
جو موت نہ ٹلنے والی تھی وہ موت بھی ٹلتی جاتی ہے
ہے بزمِ جہاں میں ناممکن بے عشق سلامت حسن رہے
پروانے تو جل کر خاک ہوئے اب شمع بھی جلتی جاتی ہے
شکوہ بھی اگر میں کرتا ہوں تو جورِ فلک کا کرتا ہوں
بے وجہ قمر تاروں کی نظر کیوں مجھ سے بدلتی جاتی ہے
۔۔۔
بارش میں عہد توڑ کے گر مے کشی ہوئی
توبہ مری پھرے گی کہاں بھیگتی ہوئی
پیش آئے لاکھ رنج اگر اک خوشی ہوئی
پروردگار یہ بھی کوئی زندگی ہوئی
اچھا تو دونوں وقت ملے کو سئے حضور
پھر بھی مریض غم کی اگر زندگی ہوئی
اے عندلیب اپنے نشیمن کی خیر مانگ
بجلی گئی ہے سوئے چمن دیکھتی ہوئی
دیکھو چراغِ قبر اسے کیا جواب دے
آئے گی شامِ ہجر مجھے پوچھتی ہوئی
قاصد انھی کو جا کہ دیا تھا ہمارا خط
وہ مل گئے تھے، ان سے کوئی بات بھی ہوئی
جب تک کہ تیری بزم میں چلتا رہے گا جام
ساقی رہے گی گردشِ دوراں رکی ہوئی
مانا کہ ان سے رات کا وعدہ ہے اے قمر
کیسے وہ آسکیں گے اگر چاندنی ہوئی
۔۔۔
باغباں برق کا جب طور بدل جاتا ہے
یہ نشیمن تو ہے کیا طور بھی جل جاتا ہے
کچھ وہ کہہ دیتے ہیں بیمار سنبھل جاتا ہے
وقت کا ٹالنے والا ہو تو ٹل جاتا ہے
عشق اور حسن سے مانوس یہ کیسے مانیں
شمع کو دیکھ کہ پروانہ تو جل جاتا ہے
کون ساحل پہ دعا مانگ رہا ہے یا رب
بچ کے طوفاں مری کشتی سے نکل جاتا ہے
اب بھی سنبھلا نہیں او ٹھوکریں کھانے والے
ٹھوکریں کھا کہ تو انسان سنبھل جاتا ہے
ہجر کی رات ہے وہ رات کہ یا رب توبہ
شام سے صبح تک انسان بدل جاتا ہے
یاس و امید کا عالم ہے یہ شامِ وعدہ
کبھی بجھتا ہے چراغ اور کبھی جل جاتا ہے
عہد کرتے ہیں کہ اب ان سے ملیں گے نہ قمر
کیا کریں دیکھ کہ دل ان کو مچل جاتا ہے
۔۔۔
دیکھو محشر میں کس کی بات رکھی جائے ہے
تجھ سے میں شرماؤں یا تو مجھ سے شرمائے ہے
ہجر سے تنگ آنے والے ایسا کیوں گھبرائے ہے
موت سے پہلے کیا تجھے موت آئی جائے ہے
تو نے تڑپایا مجھے دشمن تجھے تڑپائے ہے
میں تو یہ جانوں ہوں جو جیسے کرے ہے پائے ہے
میں کسی سے بولوں چالوں بھی تو ہے میری خطا
کیا بگاڑوں ہوں تری محفل کا کیوں اٹھوائے ہے
ناصحا مجھ سے نہ کہیو یار کے گھر کو نہ جا
میں تری سمجھوں ہوں باتیں کیوں مجھے سمجھائے ہے
غیر کے کہنے پہ مت آ، ٹک مری حالت تو دیکھ
کیا تری محفل سے اٹھوں دل تو بیٹھا جائے ہے
اور بھرنی ہیں تصور میں ابھی رنگینیاں
دردِ دل تھم جا کہ اب تصویر بگڑی جائے ہے
کِن خیالوں سے یہ کاٹے ہے قمر فرقت کی رات
روتا بھی جائے ہے اور تارے بھی گنتا جائے ہے
۔۔۔
سرخیاں کیا ڈھونڈ کر لاؤں فسانے کے لئے
بس تمھارا نام کافی  ہے زمانے کے لئے
موجیں ساحل سے ہٹاتیں ہیں حبابوں کا ہجوم
وہ چلے آئے ہیں ساحل پر نہانے کے لئے
سوچتا ہوں اب کہیں بجلی گری تو کیوں گری
تنکے لایا تھا کہاں سے آشیانے کے لئے
چھوڑ کر بستی یہ دیوانے کہاں سے آ گئے
دشت کی بیٹھی بٹھائی خاک اڑانے کے لئے
ہنس کےکہتے ہو زمانہ بھر مجھی پہ جان دے
رہ گئے ہو کیا تمھی سارے زمانے کے لئے
شام کو آؤ گے تم اچھا ابھی ہوتی ہے شام
گیسوؤ ںکو کھول  دو سورج چھپانے کے لئے
کائناتِ عشق اک دل کے سوا کچھ بھی نہیں
وہ ہی آنے کے لئے ہے وہ ہی جانے کے لئے
اے زمانے بھر کو خوشیاں دینے والے یہ بتا
کیا قمر ہی رہ گیا ہے غم اٹھانے کے لئے
۔۔۔
تاثیر پسِ مرگ دکھائی ہے وفا نے
جو مجھ پہ ہنسا کرتے تھے ،روتے ہیں سرہانے
اوراقِ گلِ تر جو کبھی کھولے صبا نے
تحریر تھے لاکھوں مری وحشت کے فسانے
رخ دیکھ کہ خود بن گیا آئینے کی صورت
بیٹھا جو مصور تری تصویر بنانے
ہمسائے بھی جلنے لگے جلتے ہی نشیمن
بھڑکا دیا اور آگ کو پتوں کی ہوا نے
پہلی سی قمر چشمِ عنایت ہی نہیں
رخ پھیر دیا ان کا زمانے کی ہوا نے

۔۔۔۔
بہار آ جائے گر وہ ساقی گلفام آ جائے
ہر اک شاخِ چمن پر پھول بن کر جام آ جائے
بہار ایسی کوئی اے گردشِ ایام آ جائے
بجائے صید خود صیاد زیرِ دام آ جائے
تماشا  دیکھنے کیوں جا رہے ہو خونِ ناحق کا
حنائی ہاتھ ہیں تم پر نہ کچھ الزام آ جائے
ہمارا آشیاں اے باغباں غارت نہ کر دینا
ہمارے بعد ممکن ہے کسی کے کام آ جائے
خدا کے سامنے یوں تک رہا ہے سب کے منہ قاتل
کسی پر بے خطا جیسے کوئی الزام آ جائے
ستم والوں سے پرسش ہو رہی ہے میں یہ ڈرتا ہوں
کہیں ایسا نہ ہو تم پر کوئی الزام آ جائے
قمر اس آبلہ پا راہ رو کی بے بسی توبہ
کہ منزل سامنے ہو اور سر پر شام آ جائے
۔۔۔
لاتا نہیں کوئی مری تربت پہ چار پھول
نا پیدا ایسے ہو گئے پروردگار پھول
جاتی نہیں شباب میں بھی کم سِنی کی بو
ہاروں میں ان کے چار ہیں کلیاں تو چار پھول
کب حلق کٹ گیا مجھے معلوم بھی نہیں
قاتل کچھ ایسی ہو گئے خنجر کی دھار پھول
یہ ہو نہ ہو مزار کسی مضطرب کا ہے
جب سے چڑھے ہیں قبر پہ ہیں بے قرار پھول
یا رب یہ ہار ٹوٹ گیا کس کا راہ میں
اڑ اڑ کے آ رہے ہیں جو سوئے مزار پھول
او محوِ بزمِ غیر تجھے کچھ خبر بھی ہے
گلشن میں کر رہے ہیں ترا انتظار پھول
اتنے ہوئے ہیں جمع مری قبر پر قمر
تاروں کی طرح ہو نہیں سکتے شمار پھول
۔۔۔
پھونک ڈالا برق نے گھر بلبلِ لاچار کا
پتہ پتہ ہاتھ ملتا رہ گیا گلزار کا
واہ کیا کہنا ہے اس پہلے پہل کے وار کا
میں ترے قربان قبضہ چوم لے تلوار کا
بڑھ تو جاؤ خون بھی کرنا کسی لاچار کا
تم تو اتنے بھی نہیں جتنا ہے قد تلوار کا
آگ تھی یا خونِ شہ رگ تھا کسی لاچار کا
عید بھی کل ہو گئی آیا نہ قاصد یار کا
اب بھلا ابھریں گے کیا بحرِ شہادت کے غریق
سر سے اونچا ہو گیا پانی تری تلوار کا
کس قدر بیکار تھی آہِ شبِ فرقت قمر
ہر ستارہ مسکرایا چرخ کج رفتار کا
۔۔۔
خدا تم کو توفیقِ رحم و کرم دے، مرا دل دکھانے کی کوشش نہ کرنا
میں خود ہی فلک کا ستایا ہوا ہوں مجھے تم ستانے کی کوشش نہ کرنا
بہاروں کی آخر کوئی انتہا ہے کہ پھولوں سے شاخیں جھکی جا رہی ہیں
یہی وقت ہے بجلیاں ٹوٹنے کا، نشیمن بنانے کی کوشش نہ کرنا
میں حالاتِ شامِ الم کہہ رہا ہوں ذرا غیرتِ عشق ملحوظِ خاطر
تمھیں عمر بھر مجھ کو رونا پڑے گا کہیں مسکرانے کی کوشش نہ کرنا
دلِ مضطرب سن کہ افسانۂ غم وہ ناراض ہو کر ابھی سو گئے ہیں
جو چونکے تو اک حشر کر دیں گے برپا انھیں تو جگانے کی کوشش نہ کرنا
یہ محفل ہے بیٹھے ہیں اپنے پرائے بھلے کے لئے دیکھو سمجھا رہا ہوں
کہ حرف آئے گا آپ کی آبرو پر یہاں پر رلانے کی کوشش نہ کرنا
تمنائے دیدار رہنے دو سب کی نہیں ہے کسی میں بھی تابِ نظارہ
ابھی طور کا حادثہ ہو چکا ہے تجلی دکھانے کی کوشش نہ کرنا
عدو شب کو ملتے ہیں ہر راستے میں نتیجہ ہی کیا ان کی رسوائیاں ہوں
قمر چاندنی آج پھیلی ہوئی ہے انھیں تم بلانے کی کوشش نہ کرنا
۔۔۔
مرا خاموش رہ کر بھی انھیں سب کچھ سنا دینا
زباں سے کچھ نہ کہنا دیکھ کر آنسو بہا دینا
نشیمن ہو نہ ہو یہ تو فلک کا مشغلہ ٹھہرا
کہ دو تنکے جہاں پر دیکھنا بجلی گرا دینا
میں اس حالت سے پہنچا حشر والے خود پکار اٹھے
کوئی فریاد والا آ رہا ہے راستہ دینا
اجازت ہو تو کہہ دوں قصۂ الفت سرِ محفل
مگر پہلے خطا پر غور کر لو پھر سزا دینا
ہٹا کر رخ سے گیسو صبح کر دینا تو ممکن ہے
مگر سرکار کے بس میں نہیں تارے چھپا دینا
یہ تہذیبِ چمن بدلی ہے بیرونی ہواؤں نے
گریباں چاک پھولوں پر کلی کا مسکرا دینا
قمر وہ سب سے چھپ کر آ رہے ہیں فاتحہ پڑھنے
کہوں کس سے کہ میری شمع تربت اب بجھا دینا
۔۔۔
خدا کی شان تجھے یوں مری فغاں سے گریز
کہ جس طرح کسی کافر کو ہو اذاں سے گریز
وہ چاہے سجدہ کیا ہو نہ دیر و کعبہ میں
مگر ہوا نہ کبھی تیرے آستاں سے گریز
جہاں بھی چاہیں وہاں شوق سے شریک ہوں آپ
مگر حضور ذرا بزمِ دشمناں سے گریز
کچھ اس میں سازشِ بادِ خلاف تھی ورنہ
مرے ریاض کے تنکے اور آشیاں سے گریز
خطا بہار میں کچھ باغباں کی ہو تو کہوں
مرے نصیب میں لکھا تھا گلستاں سے گریز
جہاں وہ چاہیں قمر شوق سے ہمیں رکھیں
زمیں سے ہم کو گریز اور نہ آسماں سے گریز
۔۔۔
برباد طور بھی ہے موسیٰؑ ہیں بے خودی میں
بس اے ظہورِ جلوہ اب دم نہیں کسی میں
آنسو بھر آئے ان کی پرسش پہ جاں کنی میں
اب اور کیا بتاتے ان کی روا روی میں
جا تو رہے ہو موسیٰؑ دیدار کی خوشی میں
اوپر نظر نہ اٹھے بس خیر ہے اسی میں
اب تک ہے یاد دے کر دل ان کو دل لگی میں
رونا پڑا تھا برسوں مجھ کو ہنسی ہنسی میں
قیدِ قفس میں مجھ سے ارماں کا پوچھنا کیا
صیاد اب تو جو کچھ آئے تری خوشی میں
کوزے میں بھر گیا ہے جیسے تمام دریا
یوں اس نے بن سنور کر دیکھا ہے آرسی میں
ہر صبح آ کے گلچیں گلشن کو دیکھتا ہے
یہ وقت بھی ہے نازک پھولوں کی زندگی میں
دیکھیں قمر کچھ افشاں اس مہ جبیں کے رخ پر
کتنے حسین تارے ہوتے ہیں چاندنی میں
۔۔۔
یہ کہہ کر حشر میں وہ رو دیا کچھ بد گماں ہو کر
کہ ایسی بھیڑ میں جاؤ گے پیشِ حق کہاں ہو کر
یہ بچپن ہے جو پیش آتے ہو مجھ سے مہرباں ہو کر
نگاہیں کہہ رہیں ہیں آنکھ بدلو گے جواں ہو کر
کیا دستِ جنوں کو پیرہن نے جا بجا رسوا
گلی کوچوں میں دامن اڑ رہے ہیں دھجیاں ہو کر
چلا تھا توڑ کر زنجیر کو جب تیرا سودائی
خیالِ حلقۂ گیسو نے روکا بیڑیاں ہو کر
خدا رکھے تمھیں رنگِ حنا سے اتنا ڈرتے ہو
ابھی تو سینکڑوں کے خوں بہانے ہیں جواں ہو کر
خرامِ راز میں پنہاں نہ جانے کیسے محشر ہیں
وہیں اِک حشر ہوتا ہے نکلتے ہوں جہاں ہو کر
پریشاں بال، آنسو آنکھ میں، اتری ہوئی صورت
نصیبِ دشمناں ایسے میں آئے ہو کہاں ہو کر
قمر دل کو بچا کر لے گئے تھے تیر مژگاں سے
مگر ترچھی نگاہیں کام آئیں برچھیاں ہو کر
۔۔۔
قیامت اب جہاں ہو گی ستم تیرا  وہاں ہو گا
یہاں ہو گی یہاں ہو گا، وہاں ہو گی وہاں ہو گا
نہ گھبرا اے مریضِ عشق دونوں آنے والے ہیں
قضا بھی میہماں ہو گی وہ بت بھی میہماں ہو گا
بہار آخر ہے پی لے بیٹھ کر اے شیخ رندوں میں
یہ محفل پھر کہاں ہو گی یہ جلسہ پھر کہاں ہو گا
چمن میں توڑ ڈالی باغباں نے مجھ سے یہ کہہ کر
نہ شاخِ آشیاں ہو گی نہ تیرا آشیاں ہو گا
کدھر ڈھونڈے گا اپنے قافلے سے چھوٹنے والے
نہ گردِ کارواں ہو گی نہ شورِ کارواں ہو گا
مجھے معلوم ہے اپنی کہانی، ماجرا اپنا
نہ قاصد سے بیاں ہو گی نہ قاصد سے بیاں ہو گا
تم اپنے در پہ دیتے ہو اجازت دفنِ دشمن کی
مری تربت کہاں ہو گی مرا مرقد کہاں ہو گا
ابھی کیا ہے قمر ان کی  ذرا نظریں تو پھرنے دو
زمیں نا مہرباں ہو گی فلک نا مہرباں ہو گا

۔۔۔
تمھاری رسوائیوں کے ڈر سے نہ کیں جنوں آشکار باتیں
اگر گریباں پہ ہاتھ جاتا تمھیں سناتے ہزار باتیں
شراب منہ تک رہی ہے تیرا، نہ شیخ کرنا گوار باتیں
کوئی قیامت ابھی رکھی ہے یہ چھوڑ دے میرے یار باتیں
یہ بات دیگر ہے شکوہ ہائے ستم پہ تم مسکرا رہے ہو
مگر نگاہیں بتا رہیں ہیں کہ ہو گئیں نا گوار باتیں
قمر شبِ انتظار ہم نے سحر انھی وحشتوں میں کر دی
کبھی چراغوں سے چار باتیں کبھی ستاروں سے چار باتیں
۔۔۔
گِلہ بزمِ عدو میں کیونکر اس کے رو برو ہو گا
خدا معلوم و ہ کس کس سے محوِ گفتگو ہو گا
بہار اپنی سمجھ کر اور ہنس لیں یہ چمن والے
بہت روئیں گے جب ظاہر فریبِ رنگ و بو ہو گا
گرے گی برق اے صیاد یہ میں بھی سمجھتا ہوں
مگر میرا قفس کب آشیاں کے رو برو ہو گا
بڑھے اور پھر بڑھے، ضد دیکھ لینا حشر میں قاتل
خدا کے سامنے خاموش ہم ہوں گے نہ تو ہو گا
سحر کو کیوں نگاہوں سے گرانے کو بلاتے ہو
مرے سرکار آئینہ تمھارے رو برو ہو گا
لگا بیٹھے ہیں اپنے پاؤں میں وہ شام سے مہندی
انھیں معلوم کیا کس کس کا خونِ آرزو ہو گا
گریباں کو تو سی دے گا رفو گر تارِ داماں سے
مگر چاکِ دلِ مجروح پھر کیونکر رفو ہو گا
چھپے گا خونِ ناحق کس طرح پیشِ خدا قاتل
ترے دامن پہ چھینٹے، آستینوں پر لہو ہو گا
قمر سے انتظامِ روشنی کو پوچھنے والے
چراغوں کی ضرورت کیا ہے جب محفل میں تو ہوگا
۔۔
میں ڈھونڈ لوں تجھے میرے بس کی بات کہاں
نہ جانے چھوڑ دے مجھ کو مری حیات کہاں
قفس میں یاد نہ کر آشیاں کی آزادی
وہ اپنا گھر تھا یہاں اپنے گھر کی بات کہاں
شباب آنے سے تجھ سے عبث امیدِ وفا
رہے گی تیرے زمانے میں کائنات کہاں
تلاش کرنے کو آئے گا کون صحرا میں
مرے جنوں کے ہیں ایسے تعلقات کہاں
قمر وہ رات کو بہرِ عیادت آئیں گے
مگر مریض کی قسمت میں آج، رات کہاں
۔۔۔
ہوا شب کو عبث مئے کے لئے جانا تو کیا ہو گا
اندھیرے میں نظر آیا نہ میخانہ تو کیا ہو گا
چمن والو قفس کی قید بے میعاد ہوتی ہے
تمھی آؤ تو آ جانا مرا آنا تو کیا ہو گا
گرا ہے جام خود ساقی سے اس پر حشر برپا ہے
مرے ہاتھوں سے چھوٹے  گا  یہ پیمانہ تو کیا ہو  گا
سرِ محشر مجھے دیکھا تو وہ دل میں یہ سوچیں گے
جو پہچانا تو کیا ہو گا نہ پہچانا تو کیا ہو گا
حفاظت کے لئے اجڑی ہوئی محفل میں بیٹھے ہیں
اڑا دی گر کسی نے خاکِ پروانہ تو کیا ہو گا
زباں تو بند کرواتے ہو تم اللہ کے آگے
کہا ہم نے اگر آنکھوں سے افسانہ تو کیا ہو گا
قمر اس اجنبی محفل میں تم جاتے تو ہو لیکن
وہاں تم کو کسی نے بھی نہ پہچانا تو کیا ہو گا
۔۔۔
کیا کوئی باغ میں ہم مفت رہا کرتے ہیں
ایک گھر برق کو ہر سال دیا کرتے ہیں
رخ اِدھر آنکھ ادھر آپ یہ کیا کرتے ہیں
پھر نہ کہنا  کہ مرے تیر خطا کرتے ہیں
اب تو پردے کو اٹھا دو مری لاش اٹھتی ہے
دیکھو اس وقت میں منہ دیکھ لیا کرتے ہیں
تیرے بیمار کی حالت نہیں دیکھی جاتی
اب تو احباب بھی مرنے کی دعا کرتے ہیں
۔۔۔
کیونکر رکھو گے ہاتھ دلِ بے قرار پر
میں تو تہِ مزار ہوں تم  ہو مزار پر
یہ دیکھنے، قفس میں بنی کیا ہزار پر
نکہت چلی ہے دوشِ نسیم بہار پر
گر یہ ہی جور و ظلم رہے خاکسار پر
منہ ڈھک کے روئے گا تو کسی دن مزار پر
ابرو چڑھے ہوئے ہیں دلِ بے قرار پر
دو دو کھنچی ہوئی ہیں کمانیں شکار پر
رہ رہ گئی ہیں ضعف سے وحشت میں حسرتیں
رک رک گیا ہے دستِ جنوں تار تار پر
شاید چمن میں فصلِ بہاری قریب ہے
گرتے ہیں بازوؤں سے مرے بار بار پر
یاد آئے تم کو اور پھر آئے مری وفا
تم آؤ رونے اور پھر آؤ مزار پر
کس نے کئے یہ جور، حضور آپ نے کئے
کس پر ہوئے یہ جور، دلِ بے قرار پر
سمجھا تھا اے قمر یہ تجلی انھی کی ہے
میں چونک اٹھا جو چاندنی آئی مزار پر
۔۔۔
چھوڑ کر گھر بار اپنا حسرتِ دیدار میں
اک تماشا بن کے آ بیٹھا ہوں کوئے یار میں
دم نکل جائے گا حسرت سے نہ دیکھ اے نا خدا
اب مری قسمت پہ کشتی چھوڑ دے منجدھار میں
دیکھ بھی آ بات کہنے کے لئے ہو جائے گی
صرف گنتی کی ہیں سانسیں اب ترے بیمار میں
فصلِ گل میں کس قدر منحوس ہے رونا مرا
میں نے جب نالے کئے بجلی گری گلزار میں
جل گیا میرا نشیمن یہ تو میں نے سن لیا
باغباں تو خیریت سے ہے صبا گلزار میں
۔۔۔
اب وہ عالم ہے مرا اس بزمِ عشرت کے بغیر
حال تھا جو حضرتِ آدم کا جنت کے بغیر
اصل کی امید ہے بے کار فرقت کے بغیر
آدمی راحت نہیں پاتا مصیبت کے بغیر
مجھ کو شکوہ ہے ستم کا تم کو انکارِ ستم
فیصلہ یہ ہو نہیں سکتا قیامت کے بغیر
دے دعا مجھ کو کہ تیرا نام دنیا بھر میں ہے
حسن کی شہرت نہیں ہوتی محبت کے بغیر
حضرتِ ناصح بجا ارشاد، گستاخی معاف
آپ سمجھاتے تو ہیں لیکن محبت کے بغیر
یہ سمجھ کر دل میں رکھا ہے تمھارے تیر کو
کوئی شے قائم نہیں رہتی حفاظت کے بغیر
راستے میں وہ اگر مل بھی گئے تقدیر سے
چل دیے منہ پھیر کر صاحب سلامت کے بغیر
سن رہا ہوں طعنہ اخیار لیکن کیا کروں
میں تری محفل میں آیا ہوں اجازت کے بغیر
دل ہی پر موقوف کیا او نا شناسِ دردِ دل!
کوئی بھی تڑپا نہیں کرتا اذیت کے بغیر
(۷۰)
کیوں روٹھ کے مجھ سے کہتے ہو ملنا تجھ سے منظور نہیں
تم خود ہی منانے آؤ گے سرکار وہ دن بھی دور نہیں
تم روز جفا و جور کرو، نالے نہ سنو، تسکین نہ دو
ہم اس دنیا میں رہتے ہیں شکووں کا جہاں دستور نہیں
واپس جانا معیوب سا ہے جب میت کے ساتھ آئے ہو
دو چار قدم کی بات ہے بس، ایسی کوئی منزل دور نہیں
آزاد ہیں ہم تو اے زاہد ارمان و تمنا کیا جانیں
جنت کا تصور کون کرے جب دل میں خیالِ حور نہیں
۔۔۔
کہا تو ہے کہ قفس میں نہیں اماں صیاد
خدا کرے کے سمجھ لے مری زباں صیاد
قفس سے ہٹ کے ذرا سن مری فغاں صیاد
لرز رہی ہے ترے سامنے زباں صیاد
بہارِ گل میں مجھے تو کہیں  بھی چین نہیں
مرے خلاف وہاں باغباں یہاں صیاد
جو پر کتر دیے دنیا میں ہو گی رسوائی
پر اڑ کے جائیں گے جانے کہاں کہاں صیاد
قفس میں کانپ رہا ہوں کہیں فریب نہ ہو
بہارِ گل میں ہوا ہے جو مہرباں صیاد
میں کوئی دم کا ہوں مہمان تیلیاں نہ بدل
کہ جائے گی تری محنت یہ رائیگاں صیاد
تری نظر پہ ترانے تری نظر پہ فغاں
ملے گا تجھ کو نہ مجھ سا مزاج داں صیاد
جفائے چرخ پہ چھوڑا تھا آشیاں میں نے
ترے قفس میں بھی سر پہ ہے آسماں صیاد
قمر کی روشنی میں کیسے پھول کھلتے ہیں
مگر وہ چاندنی راتیں یہاں کہاں صیاد
۔۔۔
پسِ نقاب رخِ لاجواب کیا ہوتا
ذرا سے ابر میں گم آفتاب کیا ہوتا
ہمیں تو جو بھی گیا وہ فریب دے کے گیا
ہوئے نہ کم سنی اپنی شباب کیا ہوتا
کلیم رحم تجلی کو آگیا ہو گا
وگرنہ ذوقِ نظر کامیاب کیا ہوتا
۔۔۔
لحد اور حشر میں یہ فرق کم پائے نہیں جاتے
یہاں دھوپ آ نہیں سکتی وہاں سائے نہیں جاتے
کسی محفل میں بھی ایسے چلن پائے نہیں جاتے
کہ بلوائے ہوئے مہمان اٹھوائے نہیں جاتے
زمیں پر پاؤں رکھنے دے انھیں اے نازِ یکتائی
کہ اب نقشِ قدم ان کے کہیں پائے نہیں جاتے
جنوں والوں کو کیا سمجھاؤ گے یہ وہ زمانہ ہے
خِرد والے خِرد والوں سے سمجھائے نہیں جاتے
وقارِ عشق یوں بھی شمع کی نظروں میں کچھ کم ہے
پتنگے خود چلے آتے ہیں بلوائے نہیں جاتے
بس اتنی بات پر چھینی گئی ہے رہبری ہم سے
کہ ہم سے کارواں منزل پہ لٹوائے نہیں جاتے
۔۔۔
سکوں بحر محبت میں ہمیں حاصل تو کیا ہوگا
کوئی طوفان ہو گا ناخدا ساحل تو کیا ہوگا
قفس سے چھوٹ کر صیاد دیکھ آئینگے گلشن بھی
ہمارا آشیاں رہنے کے اب قابل تو کیا ہوگا
سرِ محشر میں اپنے خون سے انکار تو کر دوں
مگر چھینٹے ہوئے تلوار پر قاتل تو کیا ہوگا
قمر کے نام سے شرمانے والے سیر تاروں کی
نکل آیا جو ایسے میں مہِ کامل تو کیا ہوگا
۔۔۔
چھوڑ کر بیمار کو یہ کیا قیامت کر چلے
دم نکلنے بھی نہ پایا آپ اپنے گھر چلے
ہو گیا صیاد برہم  اے اسیرانِ قفس
بند اب یہ نالہ و فریاد، ورنہ پر چلے
کس طرح طے کی ہے منزل عشق کی ہم نے نہ پوچھ
تھک گئے جب پاؤں تیرا نام لے لے کر چلے
آ رہے ہیں اشک آنکھوں میں اب اے ساقی نہ چھیڑ
بس چھلکنے کی کسر باقی ہے ساغر بھر چلے
حسن کو غمگین  دیکھے عشق یہ ممکن نہیں
روک لے اے شمع آنسو اب پتنگے مر چلے
اس طرف بھی اک نظر ہم بھی کھڑے ہیں دیر سے
مانگنے والے تمھارے در سے جھولی بھر چلے
۔۔۔
کیا عیادت کو اس وقت آؤ گے تم
جب ہمارا جنازہ نکل جائے گا
کم سنی میں ہی کہتی تھی تیری نظر
تو جواں ہو کے آنکھیں بدل جائے گا
سب کو دنیا سے جانا ہے اک دن قمر
رہ گیا آج کوئی تو کل جائے گا

۔۔۔
چھوڑ کر گھر بار اپنا حسرتِ دیدار میں
اک تماشا بن کے آ بیٹھا ہوں کوئے یار میں
دم نکل جائے گا حسرت سے  نہ دیکھ اے نا خدا
اب مری قسمت پہ کشتی چھوڑ دے منجدھار میں
دیکھ بھی آ بات کہنے کے لئے ہو جائے گی
صرف گنتی کی ہیں سانسیں اب ترے بیمار میں
فصلِ گل میں کس قدر منحوس ہے رونا مرا
میں نے جب نالے کئے بجلی گری گلزار میں
جل گیا میرا نشیمن یہ تو میں نے سن لیا
باغباں تو خیریت سے ہے صبا گلزار میں
۔۔۔

یہ جو چَھلکے ہیں، نہیں قطرے مئے گلفام کے
میری قسمت پر نکل آئے ہیں آنسو جام کے
ہیں ہمارے قتل میں بدنام کتنے نام کے
جو کہ قاتل ہے وہ بیٹھا ہے ہے کلیجہ تھام کے
رہبروں کی کشمکش میں ہے ہمارا قافلہ
منزلوں سے بڑھ گئے ہیں فاصلے دو گام کے
دیدہ میگوں نہ دکھلا روئے روشن کھول کر
صبح کو پیتے نہیں ہیں پینے والے شام کے
مرگِ عاشق پر تعجب اس تعجب کے نثار
مرتکب جیسے نہیں سرکار اس الزام کے
اے قمر بزمِ حسیناں کی وہ ختمِ شب نہ پوچھ
صبح کو چھپ جائیں جیسے چاند تارے شام کے
۔۔۔
رہا الم سے دلِ داغ دار کیا ہو گا
جو بیڑا ڈوب چکا ہو وہ پار کیا ہو گا
جلا جلا کے  پسِ مرگ کیا ملے گا تمھیں
بجھا بجھا کے چراغِ مزار کیا ہو گا
وہ خوب ناز سے انگڑائی لے کے چونکے ہیں
سحر قریب ہے پروردگار کیا ہو گا
اگر ملیں گے یہی پھل تری محبت میں
نہال پھر کوئی امید وار کیا ہو گا
قمر نثار ہو یہ سادگی بھی کیا کم ہے
گلے میں ڈال کے پھولوں کا ہار کیا ہو گا
۔۔۔
کسی نو گرفتارِ الفت کے دل پر یہ آفت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
سرِ بزم پہلو میں بیٹھا ہے دشمن قیامت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
عدو کی شکایت سنے جا رہے ہو نہ برہم طبیعت نہ بل ابروؤں پر
نظر نیچی نیچی لبوں پر تبسم محبت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
مری قبر ٹھوکر سے ٹھکرا رہا ہے پسِ مرگ ہوتی ہے برباد مٹی
ترے دل میں میری طرف سے سِتمگر کدورت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
بتِ خود نما اور کیا چاہتا ہے تجھے اب بھی شک ہے خدا ماننے میں
ترے سنگِ در پر جبیں میں نے رکھ دی عبادت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
رقیبوں نے کی اور تمھاری شکایت خدا سے ڈرو جھوٹ کیوں بولتے ہو
رقیبوں کے گھر میرا آنا نہ جانا یہ تہمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
کبھی ہے جگر میں خلش، ہلکی ہلکی، کبھی درد پہلو میں ہے میٹھا میٹھا
میں پہروں شبِ غم یہی سوچتا ہوں محبت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
کوئی دم کا مہماں ہے بیمارِ فرقت تم ایسے میں بیکار بیٹھے ہوئے ہو
پھر اس پر یہ کہتے ہو فرصت نہیں ہے یہ فرصت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
ترے در پہ بے گور کب سے پڑا ہوں نہ فکرِ کفن ہے نہ سامانِ ماتم
اٹھاتا نہیں کوئی بھی میری میت یہ غربت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
میں ان سب میں اک امتیازی نشان  ہوں فلک پر نمایاں ہیں جتنے ستارے
قمر بزمِ انجم کی مجھ کو میسر صدارت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
۔۔۔
ہم اہلِ عشق آساں عشق کی منزل سمجھتے ہیں
نہ جب مشکل سمجھتے تھے نہ اب شکل سمھتے ہیں
ہم اس مشکل سے بچنا ناخدا مشکل سمجھتے ہیں
ادھر طوفان ہوتا ہے جدھر ساحل سمجھتے ہیں
یہ کہہ دے دل کی مجبوری ہمیں اٹھنے نہیں دیتی
اشارے ورنہ ہم اے بانیِ محفل سمجھتے ہیں
تعلق جب نہیں ہے آپ کی محفل میں کیوں آؤں
مجھے سرکار کیا پروانۂ محفل سمجھتے ہیں
ہماری وضع داری ہے جو ہم خاموش ہیں ورنہ
یہ رہزن ہیں جنھیں ہم رہبرِ منزل سمجھتے ہیں
۔۔۔
اس تفکر میں سرِ بزم سحر ہوتی ہے
کس کو وہ دیکھتے ہیں کس پہ نظر ہوتی ہے
مسکرا کر مجھے یوں دیکھ کے دھوکا تو دو
جانتا ہوں جو محبت کی نظر ہوتی ہے
تم تو  کیا چیز ہو کونین سمٹ آتے ہیں
ایک وہ بھی کششِ ذوقِ نظر ہوتی ہے
آئنہ دیکھنے والے یہ خبر ہے تجھ کو
کبھی انسان پہ اپنی ہی نظر ہوتی ہے
تم مرے سامنے گیسو کو سنوارا نہ کرو
تم تو اٹھ جاتے ہو دنیا مرے سر ہوتی ہے
عشق میں وجہ تباہی نہیں ہوتا کوئی
اپنا دل ہوتا ہے یا اپنی نظر ہوتی ہے
نزع میں سامنے بیمار کے تم بھی آؤ
یہ وہ عالم ہے کہ  اک اک پہ نظر ہوتی ہے
دل تڑپتا ہے تو پھر جاتی ہے موت آنکھوں میں
کس غضب کی خلشِ تیرِ نظر ہوتی ہے
جان دے دیں گے کسی دامنِ صحرا میں قمر
مر گیا کون کہاں کس کو خبر ہوتی ہے
۔۔۔
دل کو خبر نہیں ہے اور درد ہے جگر میں
ہمسایہ سو رہا ہے بے فکر اپنے گھر میں
اتنا سبک نہ کیجے احباب کی نظر میں
اٹھتی ہے میری میت بیٹھے ہیں آپ گھر میں
رسوائیوں کا ڈر بھی میری قضا کا غم ہے
میت سے کچھ الگ ہی آنسو ہیں چشمِ تر میں
حالانکہ اور بھی تھے نغمہ طرازِ گلشن
اک میں کھٹک رہا تھا صیاد کی نظر میں
دیکھا جو صبح فرقت اترا سا منہ قمر کا
بولے کہ ہو گیا ہے کیا حال رات بھر میں
۔۔۔
انھیں پردے کی اب سوجھی ہے اب صورت چھپائی ہے
نگاہِ شوق جب تصویر ان کی کھینچ لائی ہے
وہ یکتا حسن میں ہو کر کہیں آگے نہ بڑھ جائیں
خدا بننے میں کیا ہے جب کہ قبضہ میں خدائی ہے
خبر بھی ہے زمانہ اب سلامت رہ نہیں سکتا
جوانی تجھ پہ او ظالم قیامت بن کے آئی ہے
یہی دن تھے یہی عالم تھا بجلی ٹوٹ پڑنے کا
چمن کی خیر ہو یا رب ہنسی پھولوں کو آئی ہے
ہمارا آشیاں دیکھو بلندیِ فلک دیکھو
کہاں سے چار تنکے پھونکنے کو برق آئی ہے
یہاں تک پڑ چکے ہیں وقت مایوسِ تمنا پر
تری تصویر کو رودادِ شامِ غم سنائی ہے
اڑا لے ہم غریبوں کا مذاق آخر کو زر والے
ترے رونے پہ اے شبنم ہنسی پھولوں کو آئی ہے
تم اپنا حسن دیکھو اپنی فطرت پہ نظر ڈالو
گریباں دیکھ کر کہتے ہو کیا صورت بنائی ہے
قمر ان کو تو مستحکم ہے وعدہ شب کو آنے کا
نہ جانے کیوں اداسی شام سے تاروں پہ چھائی ہے
۔۔۔
آنسو کسی کا دیکھ کے بیمار مر گیا
جامِ حیات ایک ہی قطرے میں بھر گیا
چھوڑو وفا کا نام وفادار مر گیا
تم جس ہوا میں ہو وہ زمانہ بدل گیا
وقت آگیا ہے یار کے وعدے کا اے قمر
دیکھو وہ آسمان ستاروں سے بھر گیا
۔۔۔
کون سے تھے جو تمھارے عہد کہ ٹوٹے نہ تھے
خیر ان باتوں میں کیا رکھا ہے تم جھوٹے نہ تھے
باغباں کچھ سوچ کہ ہم قید سے چھوٹے نہ تھے
ورنہ کچھ پاؤں نہ تھے بیکار، پر ٹوٹے نہ تھے
خار جب اہلِ جنوں کے پاؤں میں ٹوٹے نہ تھے
دامنِ صحرا پہ یہ رنگین گل بوٹے نہ تھے
رہ گئی محروم آزادی کے نغموں سے بہار
کیا کریں قیدِ زباں بندی سے ہم چھوٹے نہ تھے
اس جوانی سے تو اچھی تھی تمھاری کم سنی
بھول تو جاتے وعدوں کو مگر جھوٹے نہ تھے
اس زمانے سے دعا کی ہے بہاروں کے لئے
جب فقط ذکرِ چمن بندی تھا گل بوٹے نہ تھے
کیا یہ سچ ہے اے مرے صیاد گلشن لٹ گیا
جب تو میرے سامنے دو پھول بھی ٹوٹے نہ تھے
چھوڑ تو دیتے تھے رستے میں ذرا سی بات پر
رہبروں نے منزلوں پر قافلے لوٹے نہ تھے
کس قدر آنسو بہائے تم نے شامِ غم قمر
اتنے تارے تو فلک سے بھی کبھی ٹوٹے نہ تھے
۔۔۔
فصلِ گلشن وہی فصلِ گلشن رہی لاکھ گلچیں ستم روز ڈھاتے رہے
رونق گلستاں میں نہ آئی کمی پھول آتے رہے پھول جاتے رہے
یوں نہ اہلِ محبت کو برباد کر ختم ہو جائیں گی حسن کی منتیں
کون پھر تیرے قدموں پہ رکھے گا سر ہم اگر تیرے ہاتھوں سے جاتے رہے
جرأتِ عشقِ گلشن ذرا دیکھئے سر پہ دیکھی بلا اور پروا  نہ کی
برق ادھر آسماں پر چمکتی رہی ہم ادھر آشیانہ بناتے رہے
اف پسِ قتل وہ عالمِ بے کسی کوئی مصروفِ ماتم نہ گور و کفن
لاش جب تک مری رہگزر میں رہی راستہ چھوڑ کر لوگ جاتے رہے
ہجر کی رات ہے مانگئے یہ دعا ابر چھا جائے اندازۂ شب نہ ہو
اے قمر صبح دشوار ہو جائے گی یہ ستارے اگر جگمگاتے رہے
۔۔۔
جب آئے تھے مجھے وحشت میں لوگ سمجھانے
نہ جانے آپ کو کیا کیا کہا تھا دنیا نے
سنائے کوئی کہاں تک جنوں کے افسانے
نہ جانے ہو گئے آباد کتنے ویرانے
زمینِ عشق میں ہیں دفن وہ بھی دیوانے
نہ جن کے نام کی شہرت نہ جن کے افسانے
کمالِ حسن بناتا ہے عشق کو دشمن
فروغِ شمع سے جلنے لگے ہیں پروانے
نہ رکھ قفس میں مگر طعنۂ قفس تو نہ دے
کہ ہم بھی چھوڑ کر آئیں ہیں اپنے خس خانے
جہاں سے عشق نے رودادِ غم کو چھوڑ دیا
شروع میں نے وہاں سے کئے ہیں افسانے
وہ چار چاند فلک کو لگا چلا ہوں قمر
کہ میرے بعد ستارے کہیں گے افسانے

۔۔۔
اگر زندہ رہے  تو آئیں گے اے باغباں پھر بھی
اسی گلشن اسی ڈالی پہ ہو گا آشیاں پھر بھی
سمجھتا ہے کہ اب میں پا شکستہ اٹھ نہیں سکتا
مگر مڑ مڑ کہ تکتا جا رہا ہے کارواں پھر بھی
بہت کچھ یاد کرتا ہوں کہ یا رب ماجرا کیا ہے
وہ مجھ کو بھول بیٹھے آ رہی ہیں ہچکیاں پھر بھی
سمجھتا ہوں انھیں نیند آ گئی ہے اب نہ چونکیں گے
مگر میں ہوں سنائے جا رہا ہوں داستاں پھر بھی
قمر حالانکہ طعنے روز دیتا ہوں جفاؤں کے
جدا کرتا نہیں سینہ سے مجھ کو آسماں پھر بھی
۔۔۔
ہم کو ہم خاک نشینوں کا خیال آنے تک
شہر تو شہر بدل جائیں گے ویرانے تک
دیکھیے محفلِ ساقی کا نتیجہ کیا ہوا
بات شیشے کی پہنچنے لگی پیمانے تک
صبح ہوتی نہیں اے عشق یہ کیسی شب ہے
قیس و فرہاد کے دہرا لئے افسانے تک
پھر نہ طوفان اٹھیں گے نہ گرے گی بجلی
یہ حوادث ہیں غریبوں ہی کے مٹ جانے تک
میں نے ہر چند بلا ٹالنی چاہی لیکن
شیخ نے ساتھ نہ چھوڑا مرا میخانے تک
وہ بھی کیا دن تھے کہ گھر سے کہیں جاتے ہی نہ تھے
اور گئے بھی تو فقط شام کو میخانے تک
میں وہاں کیسے حقیقت کو سلامت رکھوں
جس جگہ رد و بدل ہو گئے افسانے تک
باغباں فصلِ بہار آنے کا وعدہ تو قبول
اور اگر ہم نہ  رہے فصلِ بہار آنے تک
اور تو کیا کہیں اے شیخ تری ہمت پر
کوئی کافر ہی گیا ہو ترے میخانے تک
اے قمر شام کا وعدہ ہے وہ آتے ہوں گے
شام کہلاتی ہے تاروں کے نکل آنے تک
۔۔۔

نشاں کیونکر مٹا دیں یہ پریشانی نہیں جاتی
بگولوں سے ہماری قبر پہچانی نہیں جاتی
ہزاروں بار مانی حسن نے ان کی وفاداری
مگر اہلِ محبت ہیں کہ قربانی نہیں جاتی
سحر کے وقت منہ کلیوں نے کھولا ہے پئے شبنم
ہوا ٹھنڈی ہے لیکن  پیاس بے پانی نہیں جاتی
قمر کل ان کے ہونے سے ستارے کتنے روشن تھے
وہی یہ رات ہے جو آج پہچانی نہیں جاتی
۔۔۔
بیمار کو کیا خاک ہوا امید سحر کی
دو سانس کا دم اور یہ شب چار پہر کی
مہماں ہے کبھی میری کبھی غیر کے گھر کی
تو اے شبِ فرقت ادھر کی نہ ادھر کی
اللہ رے الفت بتِ کافر ترے در کی
منت مجھے درباں کی نہ کرنی تھی مگر کی
بیمار شبِ ہجر کی ہو خیر الٰہی
اتری ہوئی صورت نظر آتی ہے سحر کی
اس وعدہ فراموش کے آنسو نکل آئے
بیمار نے  چہرے پہ جو حسرت سے نظر کی
اے شمع مرے حال پہ تو روئے گی کب تک
مجھ پر تو مصیبت ہے ابھی چار پہر کی
یہ وقت وہ ہے غیر بھی اٹھ کر نہیں جاتے
آنکھوں میں مرا دم ہے تمہیں سوجھی ہے گھر کی
دم توڑنے والا ہے مریضِ خمِ گیسو
سوجھی ہے مسافر کو سرِ شام سفر کی
جاؤ بھی شبِ وعدہ رکھا خوب پریشاں
رہنے دو قسم کھا گئے جھوٹی مرے سر کی
ہر ایک سے کہتے ہو کہ وہ مرتا  ہےمجھ پر
چاہے کبھی صورت بھی نہ دیکھی ہو قمر کی
۔۔۔
ہوا کسی کی بھی اے باغباں نہیں رہتی
تری بہار تو کیا ہے خزاں نہیں رہتی
کئے جو سجدے تو دیر و حرم پکار اٹھے
خدا کی ذات مقید یہاں نہیں رہتی
قمر وہاں سے میں کشتی بچا کے لایا ہوں
کسی کی ناؤ سلامت جہاں نہیں رہتی
۔۔۔
سامنے تصویر رکھ کر اس ستم ایجاد کی
داستاں کہنے کو بیٹھا ہوں دلِ نا شاد کی
کیا کروں چونکے نہ وہ قسمت دلِ نا شاد کی
جس قدر فریاد مجھ سے ہو سکی ، فریاد کی
اس قدر رویا کہ ہچکی بندھ گئی صیاد کی
لاش جب نکلی قفس سے بلبلِ نا شاد کی
دفن سے پہلے اعزا ان سے جا کر پوچھ لیں
اور تو حسرت کوئی باقی نہیں بے دادکی
شام کا ہے وقت قبروں کو نہ ٹھکرا کر چلو
جانے کس عالم میں ہے میت کسی ناشاد کی
دور بیٹھا ہوں ثبوتِ خوں  چھپائے حشر میں
پاس اتنا ہے کہ رسوائی نہ ہو جلاد کی
کیا مجھی کم بخت کی تربت تھی ٹھوکر کے لئے
تم نے جب دیکھا مجھے مٹی مری برباد کی
کہہ رہے ہو اب قمر سابا وفا ملتا نہیں
خاک میں مجھ کو ملا بیٹھے تو میری یاد کی
۔۔۔
مٹ مٹ کے  دل میں اب  کوئی حسرت نہیں رہی
لٹ لٹ کے اب خزانے میں دولت نہیں رہی
ہو کر عزیز مجھ کو ملاتے ہیں خاک میں
دنیا میں نام کو بھی محبت نہیں رہی
اے درد تو ہی اٹھ کہ وہ آئے  ہیں دیکھنے
تعظیم کی  مریض میں طاقت نہیں رہی
کیونکر نبھے گی بعد مرے یہ خیال ہے
غیروں کے گھر کبھی شبِ فرقت نہیں رہی
دیکھا تھا آج ہم نے قمر کو خدا گواہ
پہلی سی اب غریبوں کی صورت نہیں رہی
۔۔۔
مگر ہمیں تو نگاہِ عتاب سے ہی نواز
عدہ کی سمت تری چشمِ التفات سہی
تو پھر بتاؤ یہ آنکھوں میں سر خیال کیوں ہیں
غلط وہ محفل دشمن کی واردات سہی
رقیب چھائے ہوئے ہیں مثال ابر  ان پر
قمر نہ آئیں گے وہ لاکھ چاند رات سہی
۔۔۔
حقیقت جب تجھے معلوم اے دیوانہ خو ہو گی
جب ان کی جستجو کے بعد اپنی جستجو ہو گی
ملیں گے ہو بہو تجھ سے حسیں آئینہ خانے میں
کسی سے کچھ نہ کہنا ورنہ تم سے دو بدو ہو گی
مآلِ گل کو جب تک آنکھ سے دیکھا نہیں ہو گا
کلی کو پھول بن جانے کی کیا کیا آرزو ہو گی
حریمِ ناز تک تو آگیا ہوں کس سے کیا پوچھوں
یہاں جلوہ دکھایا جائے گا یا گفتگو ہو گی
ہمارا کیا ہے ارمانِ وفا میں جان دے دیں گے
مگر تم کیا کرو گے جب تمھیں یہ آرزو ہو گی
یہ بلبل جس کی آوازیں خزاں میں اتنی دلکش ہیں
بہاروں میں خدا معلوم کتنی خوش گلو ہو گی
۔۔۔
میں کون ہوں بتا دوں او بھولنے کے عادی
تو نے جسے ستایا تو نے جسے دغا دی
مجھ تشنہ لب کی ساقی تشنہ لبی بڑھا دی
دے کر ذرا سا پانی اک آگ سی لگا دی
ایسی بھی کیا جفائیں برہم ہو نظمِ الفت
تو نے تو قصرِ دل کی بنیاد ہی ہلا دی
جب چاہا رخ پہ چن لی اس  مہ جبیں نے افشاں
جب چاہا دن میں دنیا تاروں سے جگمگا دی
اہلِ چمن نے اتنا پوچھا نہ بوئے گل سے
آوارہ پھر رہی ہے کیوں اے حسین زادی
۔۔۔
مجھے پھول صبر کر لیں مجھے باغباں بھلا دے
کہ قفس میں تنگ آ کر مرے اور ہیں ارادے
مرے بعد گر کے بجلی نہ قفس میں دل دکھا دے
مجھے قید کرنے والے مرا آشیاں جلا دے
میرا منہ کفن سے کھولا مجھے دیکھ کر وہ بولے
یہ نیا لباس کیوں ہے یہ کہاں کے ہیں ارادے
میں قفس میں مطمئن ہوں کہ سمجھ لیا ہے میں نے
یہ چمن نہیں کہ بجلی مرا آشیاں جلا دے
مجھے پھول سے زیادہ ہے قفس میں یادِ شبنم
جو چمن میں چار آنسو مِرے نام پر بہا دے
نہیں ہم ہی جب چمن میں تو چمن سے پھر غرض کیا
کوئی پھول توڑ ڈالے کوئی آشیاں جلا دے
مری زندگی ہی کیا ہے میں چراغِ رہگزر ہوں
جسے اک ہوا کا جھونکا ابھی آئے ابھی بجھا دے
وہ ہر اک سے پوچھتے ہیں کہ فدا ہے کیوں زمانہ
انہیں حسن کی خبر کیا کوئی آئنہ دکھا دے
تجھے خود خبر ہے ظالم کہ جہانِ رنگ و بو میں
ترے حسن کے ہیں چرچے مرے عِشق کو دعا دے
۔۔۔
قیدِ قفس سے چھٹ کے پہنچ جاؤں گھر ابھی
اتنے کہاں ہوئے ہیں مرے بال و پر ابھی
بیمارِ ہجر آئی کہاں سے سحر ابھی
تارہ کوئی نہیں ہے ادھر سے ادھر ابھی
صیاد صرف پاسِ وفا ہے جو ہوں خموش
ورنہ خدا کے فضل سے ہیں بال و پر ابھی
کیا آ رہے ہو واقعی تم میرے ساتھ ساتھ
یہ کام کر رہا ہے فریبِ نظر ابھی
کیوں روتے روتے ہو گئے چپ شامِ غم قمر
تارے بتا رہے ہیں نہیں ہے سحر ابھی
۔۔۔
ان کے جاتے ہی  یہ وحشت کا اثر دیکھا کیے
سوئے در دیکھا تو پہروں سوئے در دیکھا کیے
دل کو وہ کیا دیکھتے سوزِ جگر دیکھا کیے
لگ رہی تھی آگ جس گھر میں وہ گھر دیکھا کے
ان کی محفل میں انھیں سب رات بھر دیکھا کیے
ایک ہم ہی تھے کہ اک اک کی نظر دیکھا کیے
تم سرہانے سے گھڑی بھر کے لیے منہ پھیر لو
دم نہ نکلے گا مری صورت اگر دیکھا کیے
میں کچھ اس حالت سے ان کے سامنے پہنچا کہ وہ
گو مری صورت سے نفرت تھی مگر دیکھا کیے
فائدہ کیا ایسی شرکت سے عدو کی بزم میں
تم ادھر دیکھا کیے اور ہم ادھر دیکھا کیے
شام سے یہ تھی ترے بیمار کی حالت کہ لوگ
رات بھر اٹھ اٹھ کے آثار سحر دیکھا کیے
بس ہی کیا تھا بے زباں کہتے ہی کیا صیاد سے
یاس کی نظروں سے مڑ کر اپنا گھر دیکھا کیے
موت آ کر سامنے سے لے گئی بیمار کو
دیکھئے چارہ گروں کو چارہ گر دیکھا کیے
رات بھر تڑپا کیا ہے دردِ فرقت سے قمر
پوچھ تاروں سے کہ  تارے رات بھر دیکھا کیے
۔۔۔
شکایت وہ نہ کرنے دیں یہ سب کہنے کی باتیں ہیں
سرِ محشر کسی کی روک سکتا ہے زباں کوئی
عبث ہے حشر کا وعدہ ملے بھی تم تو کیا حاصل
یہ سنتے ہیں کہ پہچانا نہیں جاتا وہاں کوئی
انھیں دیرو حرم میں جب کبھی آواز دیتا ہوں
پکار اٹھتی ہے خاموشی نہیں رہتا یہاں کوئی
لحد میں چین دم بھر کو کسی پہلو نہیں ملتا
قمر ہوتا ہے کیا زیرِ زمیں بھی آسماں کوئی
۔۔۔
صبر آگیا یہ کہہ کر دل سے غمِ وطن میں
سب پھول ہی نہیں ہیں  کانٹے بھی تھے چمن میں
بلبل ہے گلستاں میں پروانہ انجمن میں
سب اپنے اپنے گھر ہیں اک ہم نہیں وطن میں
صیاد باغباں کی ہم سے کبھی نہ کھٹکی
جیسے رہے قفس میں ویسے رہے چمن میں
دامانِ آسماں کو تاروں سے کیا تعلق
ٹانکے لگے ہوئے ہیں بوسیدہ پیرہن میں
سنتے ہیں اب وہاں بھی چھائی ہوئی ہے ظلمت
ہم تو چراغ جلتے چھوڑ آئے تھے وطن میں
کچھ اتنے مختلف ہیں احباب جب اور اب کے
ہوتا ہے فرق جتنا رہبر میں راہزن میں
صیاد آج کل میں شاید قفس بدل دے
خوشبو بتا رہی ہے پھول آ گئے چمن میں
اے باغباں تجھے بھی اتنی خبر تو ہو گی
جب ہم چمن میں آئے کچھ بھی نہ تھا چمن میں
سونی پڑی ہے محفل، محفل میں جا کے بیٹھو
آتے نہیں پتنگے بے شمع انجمن میں
دیدار آخری پر روئے قمر وہ کیا کیا
یاد آئیں گی وفائیں منہ دیکھ کر کفن میں
۔۔۔
تیرے طعنے سنے سہے غم بھی
ہم نے مارا نہ آج تک دم بھی
میری میت تو کیا اٹھاؤ گے
تم نہ ہو گے شریکِ ماتم بھی
باغباں برق کیا گلوں پہ گری
تیرے گلشن میں لٹ گئے ہم بھی
جلتے رہتے ہیں تیری محفل میں
یہ پتنگے بھی، شمع بھی، ہم بھی
کاروانِ رہِ عدم والو
ٹھہرو کپڑے بدل چکے  ہم بھی
۔۔۔
عمر بھر خاک ہی کیا چھانتے ویرانوں کی
بات تھی آئی گئی ہو گئی دیوانوں کی
کون کہہ دے گا کہ باتیں ہیں یہ دیوانوں کی
دھجیاں جیب میں رکھی ہیں گریبانوں کی
جا چکے چھوڑ کر آزادیاں ویرانوں کی
اب تو بستی میں خبر جائے گی دیوانوں کی
یادگاریں نہیں کچھ اور تو دیوانوں کی
دھجیاں ملتی ہیں صحرا میں گریبانوں کی
خیر محفل میں نہیں حسن کے دیوانوں کی
شمع کے بھیس میں موت آئی ہے پروانوں کی
تو بھی کب توڑنے کو پھول چلا ہے گلچیں
آنکھ جب کھل گئی گلشن کے نگہبانوں کی
صرف اک اپنی نمودِ سرِ محفل کے لئے
لاکھوں قربانیاں دیں شمع نے پروانوں کی
شمع کے بعد پتنگوں نے کسی کو پوچھا
کہیں پرسش ہوئی ان سوختہ سامانوں کی
لنگر اٹھتا تھا کہ اس طرح سے کشتی بیٹھی
جیسے ساحل سے حدیں مل گئیں طوفانوں کی
اے قمر رات کو مے خانے میں اتنا تھا ہجوم
قسمتیں کھل گئیں ٹوٹے ہوئے پیمانوں کی
۔۔۔
بلا سے ہو شام کی سیاہی کہیں تو منزل مری ملے گی
ادھر اندھیرے میں چل پڑوں گا جدھر مجھے روشنی ملے گی
ہجومِ محشر میں کیسا ملنا نظر فریبی بڑی ملے گی
کسی سے صورت تری ملے گی کسی سے صورت مری ملے گی
تمھاری فرقت میں تنگ آ کر یہ مرنے والوں کا فیصلہ ہے
قضا سے جو ہمکنار ہو گا اسے نئی زندگی ملے گی
قفس سے جب چھٹ کے جائیں گے ہم تو سب ملیں گے بجز نشیمن
چمن کا ایک ایک گل ملے گا چمن کی اک اک کلی ملے گی
تمھاری فرقت میں کیا ملے گا، تمھارے ملنے سے کیا ملے گا
قمر کے ہوں گے ہزار ہا غم رقیب کو اک خوشی ملے گی
۔۔۔
باز آگیا شاید اب فلک ستانے سے
بجلیاں نکلتی ہیں بچ کے آشیانے سے
خاک لے گئی بجلی میرے آشیانے سے
صرف چار چھ تنکے وہ بھی کچھ پرانے سے
کچھ نظر نہیں آتا ان کے منہ چھپانے سے
ہر طرف اندھیرا ہے چاند ڈوب جانے سے
حالِ باغ اے گلچیں فائدہ چھپانے سے
ہم تو ہاتھ دھو بیٹھے اپنے آشیانے سے
باغ ہو کہ صحرا ہو جی کہیں نہیں لگتا
آپ سے ملے کیا ہم چھٹ گئے زمانے سے
صبح سے یہ وقت آیا وہ ہیں بزمِ دشمن ہے
مٹ گئی ہیں کیا یا رب گردشیں زمانے سے
یہ سوال پھر کا ہے کب قیامت آئے گی
پہلے بچ تو لے دنیا آپ کے زمانے سے
ان کے حسن پر تہمت رکھ نہ اپنے مرنے کی
وہ تو موت آنی تھی اک نہ اک بہانے سے
آگ لگ کے تنکوں میں کیا بہار آئی ہے
پھول سے برستے ہیں میرے آشیانے سے
جو جفائیں پہلے تھیں وہ جفائیں اب بھی ہیں
انقلاب کیا یا رب اٹھ گئے زمانے سے
مبتلا ہوئے ایسے آسماں کی گردش میں
اے قمر نہ بیٹھے ہم آج تک ٹھکانے سے
۔۔۔
حکم بے سوچے جو سرکار دیے دیتے ہیں
کیوں مجھے جرأتِ گفتار دیے دیتے ہیں
خانہ بربادوں کو سائے میں بٹھانے کے لئے
آپ گرتی ہوئے دیوار دیئے دیتے ہیں
عشق اور ابروئے خمدار کا اس دل کے سپرد
آپ  دیوانے کو تلوار دیے دیتے ہیں
آپ اک پھول بھی دیں گے تو اس احسان کے ساتھ
جیسے گلزار کا گلزار دئیے دیتے ہیں
۔۔۔
گیسو ہیں ان کے عارضِ تاباں کے ساتھ ساتھ
کافر لگے ہوئے ہیں مسلماں کے ساتھ ساتھ
سامان خاک آیا تھا انساں کے ساتھ ساتھ
صرف ایک روح تھی تنِ عریاں کے ساتھ ساتھ
اے ناخدا وہ حکمِ خدا تھا جو بچ گئی
کشتی کو اب تو چھوڑ دے  طوفاں کے ساتھ ساتھ
اے باغباں گلوں پہ ہی بجلی نہیں گری
ہم بھی لٹے ہیں تیرے گلستاں کے ساتھ ساتھ
دو چار ٹانکے اور لگے ہاتھ بخیہ گر
دامن بھی کچھ پھٹا ہے گریباں کے ساتھ ساتھ
تم میرا خوں چھپا تو رہے ہو خبر بھی ہے
دو دو فرشتے رہتے ہیں انساں کے ساتھ ساتھ
اہلِ قفس کا اور تو کچھ بس نہ چل سکا
آہیں بھریں نسیمِ گلستاں کے ساتھ ساتھ
دیوانے شاد ہیں کہ وہ آئے ہیں دیکھنے
تقدیر کھل گئی درِ زنداں کے ساتھ ساتھ
واعظ مٹے گا تجھ سے غمِ روزگار کیا
ساغر چلے گا گردشِ دوراں کے ساتھ ساتھ
اک شمع کیا کوئی شبِ فرقت نہیں قمر
تارے بھی چھپ گئے  مہِ تاباں کے ساتھ ساتھ
۔۔۔
بجا ہے حکم کی تعمیل مانتا ہوں میں
اگر حضور نے کل  کہہ دیا  خدا ہوں میں
پڑے گا اور بھی کیا وقت میری کشتی پر
کہ ناخدا نہیں کہتا کہ ناخدا ہوں میں
تمھارے تیرِ نظر نے غریب کی نہ سنی
ہزار دل نے پکارا کہ بے خطا ہوں میں
سمجھ رہا ہوں قمر راہزن بجھا دے گا
چراغِ راہ ہوں رستے میں جل رہا ہوں میں
۔۔۔
یہاں تنگیِ قفس ہے وہاں فکرِ آشیانہ
نہ یہاں مرا ٹھکانہ نہ وہاں مرا ٹھکانہ
مجھے یاد ہے ابھی تک ترے جور کا فسانہ
جو میں راز فاش کر دوں تجھے کیا کہے زمانہ
نہ وہ پھول ہیں چمن میں نہ وہ شاخِ آشیانہ
فقط ایک برق چمکی کہ بدل گیا زمانہ
یہ رقیب اور تم سے رہ و رسمِ دوستانہ
ابھی جس ہوا میں تم ہو وہ بدل گیا زمانہ
مرے سامنے چمن کا نہ فسانہ چھیڑ ہمدم
مجھے یاد آ نہ جائے کہیں اپنا آشیانہ
کسی سر نگوں سی ڈالی پہ رکھیں گے چار تنکے
نہ بلند شاخ ہو گی نہ جلے گا آشیانہ
نہ سنا سکے مسلسل غمِ دوریِ وطن کو
کبھی رو لئے گھڑی بھر کبھی کہہ دیا فسانہ
مرے روٹھ جانے والے تجھے یوں منا رہا ہوں
کہ قضا کے واسطے بھی کوئی چاہئے بہانہ
کہیں میکشوں سے ساقی نہ نگاہ پھیر لینا
کہ انھی کے دم سے قائم ہے ترا شراب خانہ
قمر اپنے داغِ دل کی وہ کہانی میں نے چھیڑی
کہ سنا کیے ستارے مرا رات بھر فسانہ
۔۔۔
ہم بھی انھیں کے ساتھ چلے وہ جہاں چلے
جیسے غبارِ راہ پسِ کارواں چلے
چاہوں تو میرے ساتھ تصور میں تا قفس
گلشن چلے، بہار چلے، آشیاں چلے
اے راہبر یقیں جو تری رہبری میں ہو
مڑ مڑ کے دیکھتا ہوا کیوں کارواں چلے
۔۔۔
متفق کیونکر ہوں ایسے مشورے پر دل سے ہم
راہبر تو لوٹ لے شکوہ کریں منزل سے ہم
راہبر کا ہو بھلا پہلے ہی گھر لٹوا  دئیے
لوٹ کر جائیں تو جائیں بھی کہاں منزل سے ہم
شمع گل کر دینے والے ہو گئی روشن یہ بات
ٹھوکریں کھاتے ہوئے نکلیں تری محفل سے ہم
ہم کو دریا برد کرنے والے وہ دن یاد کر
تجھ کو طوفاں میں بچانے آئے تھے ساحل سے ہم
یہ نہیں کہتے کہ دولت رات میں لٹ جائے گی
ہم پہ احساں ہے کہ سوتے ہیں بڑی مشکل سے ہم
یہ  نہ کہیے غم ہوا کشتی کا یوں فرمائیے
اک تماشہ تھا جسے دیکھا کیے ساحل سے ہم
اب تو قتلِ عام اس صورت سے روکا جائے گا
بڑھ کے خنجر چھین لیں گے پنجۂ قاتل سے ہم
رسمِ حسن و عشق میں ہوتی ہیں کیا پابندیاں
آپ پوچھیں شمع سے پروانۂ محفل سے ہم
کس خطا پر خوں کیے اے مالکِ روزِ جزا
تو اگر کہہ دے تو اتنا پوچھ لیں قاتل سے ہم
موجِ طوفاں سے بچا لانے پہ اتنا خوش نہ ہو
اور اگر اے ناخدا ٹکرا گئے ساحل سے ہم
نام تو اپنا چھپا سکتے ہیں لیکن کیا کریں
اے قمر مجبور ہو جاتے ہیں داغِ دل سے ہم
۔۔۔
تعلق مجھ سے کیا اے درد کیوں مجھ کو ستاتا ہے
نہ تجھ سے دوستی میری نہ تجھ سے دشمنی میری
لڑکپن دیکھئے گلگشت میں وہ مجھ سے کہتے ہیں
چمن میں پھول جتنے ہیں وہ سب تیرے کلی میری
کوئی اتنا نہیں ہے آ کے جو دو پھول رکھ جائے
قمر تربت پر بیٹھی رو رہی ہے بے کسی میری
۔۔۔
اب مجھے دشمن سے کیا جب زیرِ دام آ ہی گیا
اک نشیمن تھا سو وہ بجلی کے کام آ ہی گیا
سن مآلِ سوزِ الفت جب یہ نام آ ہی گیا
شمع آخر جل بجھی پروانہ کام آ ہی گیا
طالبِ دیدار کا اصرار کام آ ہی گیا
سامنے کوئی بحسنِ انتظام آ ہی گیا
ہم نہ کہتے تھے کہ صبح شام کے وعدے نہ کر
اک مریضِ غم قریبِ صبح شام آ ہی گیا
کوششِ منزل سے تو اچھی رہی دیوانگی
چلتے پھرتے ان سے ملنے کا مقام آ ہی گیا
رازِ الفت مرنے والے نے چھپایا تو بہت
دم نکلتے وقت لب پر ان کا نام آ ہی گیا
کر دیا مشہور پردے میں تجھے زحمت نہ دی
آج کا ہونا ہمارا تیرے کام آ ہی گیا
جب اٹھا ساقی تو واعظ کی نہ کچھ بھی چل سکی
میری قسمت کی طرح گردش میں جام آ ہی گیا
حسن کو بھی عشق کی ضد رکھنی پڑتی ہے کبھی
طور پر موسی سے ملنے کا پیام آ ہی گیا
دیر تک بابِ حرم پر رک کے اک مجبورِ عشق
سوئے بت خانہ خدا کا لے کے نام آ ہی گیا
رات بھر مانگی دعا ان کے نہ جانے کی قمر
صبح کا تارہ مگر لے کر پیام آ ہی گیا
۔۔۔
بلا بلائے حسینوں کا آنا جانا تھا
قمر خدا کی قسم وہ بھی کیا زمانہ تھا
قفس میں رو دیے یہ کہہ کے  ذکرِ گلشن پر
کبھی چمن میں ہمارا بھی آشیانہ تھا
نہ کہتے تھے کہ نہ دے دیکھ دل حسینوں کے
قمر یہ اس کی سزا ہے جو تو نہ مانا تھا
۔۔۔
منزلیں غربت میں مجھ کو آفتِ جاں ہو گئیں
وسعتیں ایک ایک ذرے کی بیاباں ہو گئیں
چارہ گر کیونکر نکالے دل میں پنہاں ہو گئیں
ٹوٹ کر نوکیں ترے تیروں کی ارماں ہو گئیں
کیا کروں جو آہیں رسوائی کا ساماں ہو گئیں
مشکلیں ایسی مجھے کیوں دیں جو آساں ہو گئیں
ہم نفس صیاد کی عادت کو میں سمجھا نہ تھا
بھول کر نظریں مری سوئے گلستاں ہو گئیں
آشیاں اپنا اٹھاتے ہیں سلام اے باغباں
بجلیاں اب دشمنِ جانِ گلستاں ہو گئیں
میری حسرت کی نظر سے رازِ الفت کھل گیا
آرزوئیں اشک بن بن کر نمایا ں ہو گئیں
وہ اٹھی عاشق کی میت لے مبارک ہو تجھے
اب تو پوری حسرتیں او دشمنِ جاں ہو گئیں
کائناتِ دل ہی کیا تھی چار بوندیں خون کی
دو غذائے غم ہوئیں دو نذرِ پیکاں ہو گئیں
آسماں پر ڈھونڈتا ہوں ان دعاؤں کو قمر
صبح کو جو ڈوبتے تاروں میں پنہاں ہو گئیں
۔۔۔
جنوں میں بھی یہاں تک ہے کسی کا پاسِ رسوائی
گریباں پھاڑتا ہوں اور رکھ لیتا ہوں دامن میں
قمر جن کو بڑے مجھ سے وفاداری کے دعوے تھے
وہی احباب تنہا چھوڑ کر جاتے ہیں مدفن میں
۔۔۔
بنتا نہیں ہے حسن ستمگر شباب میں
ہوتے ہیں ابتدا ہی سے کانٹے گلاب میں
جلوے ہوئے نہ جذب رخِ بے نقاب میں
کرنیں سمٹ کے آ نہ سکیں آفتاب میں
بچپن میں یہ سوال قیامت کب آئے گی
بندہ نواز آپ کے عہدِ شباب میں
صیاد آج میرے نشیمن کی خیر ہو
بجلی قفس پہ ٹوٹتی دیکھی ہے خواب میں
آغازِ شوق دید میں اتنی خطا ہوئی
انجام پر نگاہ نہ کی اضطراب میں
اب چھپ رہے ہو سامنے آ کر خبر بھی ہے
تصویر کھنچ گئی نگہِ انتخاب میں
کشتی کسی غریب کی ڈوبی ضرور ہے
آنسو دکھائے دیتا ہے چشمِ حباب میں
محشر میں ایک اشکِ ندامت نے دھو دیئے
جتنے گناہ تھے مری فردِ حساب میں
اس وقت تک رہے گی قیامت رکی ہوئی
جب تک رہے گا آپ کا چہرہ نقاب میں
ایسے میں وہ ہوں، باغ ہو، ساقی ہو اے قمر
لگ جائیں چار چاند شبِ ماہتاب میں
۔۔۔
خشکی و تری پر قادر ہے آسان مری مشکل کر دے
ساحل کی طرف کشتی نہ سہی کشتی کی طرف ساحل کر دے
اس رہروِ راہِ الفت کو دیکھے کوئی شام کے عالم میں
جب اٹھ کے غبارِ راہگذر نظروں سے نہاں منزل کر دے
گر ذوقِ طلب ہی دیکھنا ہے منظور تجھے دیوانے کا
ہر نقش بنے زنجیرِ قدم اتنی تو کڑی منزل کر دے
۔۔۔
ہٹی زلف ان کے چہرے سے مگر آہستہ آہستہ
عیاں سورج ہوا وقتِ سحر آہستہ آہستہ
چٹک کر دی صدا غنچہ نے شاخِ گل کی جنبش پر
یہ گلشن ہے ذرا بادِ سحر آہستہ آہستہ
قفس میں دیکھ کر بازو اسیر آپس میں کہتے ہیں
بہارِ گل تک آ جائیں گے پر آہستہ آہستہ
کوئی چھپ جائے گا بیمارِ شامِ ہجر کا مرنا
پہنچ جائے گی ان تک بھی خبر آہستہ آہستہ
غمِ تبدیلی گلشن کہاں تک پھر یہ گلشن ہے
قفس بھی ہو تو بن جاتا ہے گھر آہستہ آہستہ
ہمارے باغباں نے کہہ دیا گلچیں کے شکوے پر
نئے اشجار بھی دیں گے ثمر آہستہ آہستہ
الٰہی کو نسا وقت آگیا بیمارِ فرقت پر
کہ اٹھ کر چل دیے سب چارہ گر آہستہ آہستہ
خفا بھی ہیں ارادہ بھی ہے شاید بات کرنے کا
وہ چل نکلے ہیں مجھ کو دیکھ کر آہستہ آہستہ
جوانی آ گئی دل چھیدنے کی بڑھ گئیں مشقیں
چلانا آگیا تیرِ نظر آہستہ آہستہ
جسے اب دیکھ کر اک جان پڑتی ہے محبت میں
یہی بن جائے گی قاتل نظر آہستہ آہستہ
ابھی تک یاد ہے کل کی شبِ غم اور تنہائی
پھر اس پر چاند کا ڈھلنا قمر آہستہ آہستہ
۔۔۔
نگاہِ دنیائے عاشقی میں وجودِ دل محترم نہ ہوتا
اگر خدائی بتوں کی ہوتی تو دیر ہوتا حرم نہ ہوتا
رہِ محبت میں دل کو کب تک فریبِ دیرو حرم نہ ہوتا
ہزاروں سجدے بھٹکتے پھرتے جو تیرا نقشِ قدم نہ ہوتا
نہ پوچھ صیاد حال مجھ سے کہ کیوں مقدر پہ رو رہا ہوں
قفس میں گر بال و پر نہ کٹتے مجھے اسیری کا غم نہ ہوتا
۔۔۔
ہمارے بعد جو چھوڑے ستم تو کیا ہوگا
خجل ہوئے پہ یہ توڑی قسم تو کیا ہوگا
۔۔۔
سجدے ترے کہنے سے میں کر لوں بھی تو کیا
تو اے بتِ کافر نہ خدا ہے نہ خدا ہو
کھا اس کی قسم جو نہ تجھے دیکھ چکا ہو
تیرے تو فرشتوں سے بھی وعدہ نہ وفا ہو
اس حشر میں کچھ داد نہ فریاد کسی کی
جو حشر کے ظالم ترے کوچے سے اٹھا ہو
اترا کہ یہ رفتارِ جوانی نہیں اچھی
چال ایسی چلا کرتے ہیں جیسے کہ ہوا ہو
میخانے میں جب ہم سے فقیروں کو نہ پوچھا
یہ کہتے ہوئے چل دیئے ساقی کا بھلا ہو
اللہ رے او دشمنِ اظہارِ محبت
وہ درد دیا ہے جو کسی سے نہ دوا ہو
تنہا وہ مری قبر پہ ہیں چاک گریباں
جیسے کسی صحرا میں کوئی پھول کھلا ہو
منصور سے کہتی ہے یہی دارِ محبت
اس کی یہ سزا ہے جو گنہگارِ وفا ہو
جب لطف ہو اللہ ستم والوں سے پوچھے
تو یاس کی نظروں سے مجھے دیکھ رہا ہو
فرماتے ہیں وہ سن کے شبِ غم کی شکایت
کس نے یہ کہا تھا کہ قمر تم ہمیں چاہو
۔۔۔
فکریں تمام ہو گئیں برقِ تپاں سے دور
خس کم جہاں  پاک غمِ آشیاں سے دور
مژگاں کہاں ہیں ابروئے چشمِ بتاں سے دور
یہ تیر وہ ہیں جو نہیں ہوتے کماں سے دور
یادِ شباب یوں ہے دلِ ناتواں سے دور
جیسے کوئی غریب مسافر مکاں سے دور
دیر و حرم میں شیخ و برہمن سے پوچھ لے
سجدے اگر کئے ہوں ترے آستاں سے دور
اٹھ اٹھ کے دیکھتا ہے کسے راہ میں غبار
کوئی شکستہ پا تو نہیں کارواں سے دور
جب گھر سے چل کھڑے ہوئے پھر پوچھنا ہی کیا
منزل کہاں ہے پاس پڑے گی کہاں سے دور
ہو جاؤ آج کل کے جو وعدے سے منحرف
یہ بھی نہیں حضور تمھاری زباں سے دور
خوشبو کا ساتھ چھٹ نہ سکا تا حیات گل
لے بھی گئی شمیم تو کیا گلستاں سے دور
دیر و حرم سے ان کا برابر ہے فاصلہ
جتنے یہاں سے دور ہیں اتنے وہاں سے دور
صیاد یہ جلے ہوئے تنکے کہاں کے  ہیں
بجلی اگر گری ہے مرے آشیاں سے دور
مجھ پر ہی اے قمر نہیں پابندیِ فلک
تارے بھی جا سکے نہ حدِ آسماں سے دور
۔۔۔
چلے آؤ یہاں گورِ غریباں میں نہیں کوئی
فقط اک بے کسی ہے جو بتاتی ہے نشاں میرا
قمر میں شاہِ شب ہوں فوق رکھتا ہوں ستاروں پر
زمانے بھر پہ روشن ہے کہ ہے تخت آسماں میرا
۔۔۔
جا رہے ہیں راہ میں کہتے ہوئے یوں دل سے ہم
تو نہ رہ جانا کہیں اٹھیں اگر محفل سے ہم
وہ سبق آئے  ہیں لے کر اضطرابِ دل سے ہم
یاد رکھیں گے کہ اٹھے  تھے تری محفل سے ہم
اب نہ آوازِ جرس ہے اور نہ گردِ کارواں
یا تو منزل رہ گئی یا رہ گئے منزل سے ہم
روکتا تھا نا خدا کشتی کہ طوفاں آگیا
تم جہاں پر ہو بس اتنی دور تھے ساحل سے ہم
شکریہ اے قبر تک پہنچانے والو شکریہ
اب اکیلے ہی چلے جائیں گے اس منزل سے ہم
لاکھ کوشش کی مگر پھر بھی نکل کر ہی رہے
گھر سے یوسفؑ خلد سے آدمؑ تری محفل سے ہم
ڈوب جانے کی خبر لائی تھیں موجیں تم نہ تھے
یہ گوا ہی بھی دلا دیں گے لبِ ساحل سے ہم
شام کی باتیں سحر تک خواب میں دیکھا کیے
جیسے سچ مچ اٹھ رہے ہیں آپ کی محفل سے ہم
کیسی دریا کی شکایت کیسا طوفاں  سے گلہ
اپنی کشتی آپ لے کر آئے تھے ساحل سے ہم
جور میں رازِ کرم طرزِ کرم میں رازِ جور
آپ کی نظروں کو سمجھے ہیں بڑی مشکل سے ہم
وہ نہیں تو اے قمر ان کی نشانی ہی سہی
داغِ فرقت کو لگائے  پھر رہے ہیں دل سے  ہم
۔۔۔
دیکھتے ہیں رقص میں دن رات پیمانے کو ہم
ساقیا راس آ گئے ہیں تیرے میخانے کو ہم
لے کے اپنے ساتھ اک خاموش دیوانے کو ہم
جا رہے ہیں حضرتِ ناصح کو سمجھانے کو ہم
یاد رکھیں گے تمھاری بزم میں آنے کو ہم
بیٹھنے کے واسطے اغیار اٹھ جانے کو ہم
حسن مجبورِ ستم ہے عشق مجبورِ وفا
شمع کو سمجھائیں یا سمجھائیں پروانے کو ہم
رکھ کے تنکے ڈر رہے ہیں کیا کہے گا باغباں
دیکھتے ہیں آشیاں کی شاخ جھک جانے کو ہم
الجھنیں طولِ شبِ فرقت کی آگے آ گئیں
جب کبھی بیٹھے کسی کی زلف سلجھانے کو ہم
راستے میں رات کو مڈ بھیڑ ساقی کچھ نہ پوچھ
مڑ رہے تھے شیخ جی مسجد کو بت خانے کو ہم
شیخ جی ہوتا ہے اپنا کام اپنے ہاتھ سے
اپنی مسجد کو سنبھالیں آپ بت خانے کو ہم
دو گھڑی کے واسطے تکلیف غیروں کو نہ دے
خود ہی بیٹھے ہیں تری محفل سے اٹھ جانے کو ہم
آپ قاتل سے مسیحا بن گئے اچھا ہوا
ورنہ اپنی زندگی سمجھے تھے مر جانے کو ہم
سن کہ شکوہ حشر میں کہتے ہو شرماتے نہیں
تم ستم کرتے پھرو دنیا پہ شرمانے کو ہم
اے قمر ڈر تو یہ اغیار دیکھیں گے انھیں
چاندنی شب میں بلا لائیں بلا لانے کو ہم
۔۔۔
ان کے لبوں پہ آج محبت کی بات ہے
اللہ خیر ہو کہ نئی واردات ہے
صرف اک امیدِ وعدہ پہ قائم حیات ہے
محشر میں تم ملو گے قیامت کی بات ہے
آخر بشر ہوں ہو گیا جرمِ وفا تو کیا
کوئی خطا نہ ہو یہ فرشتے کی بات ہے
۔۔۔
بیمار تجھے نزع میں وہ بت ہی رہا یاد
کافر کو بھی آ جاتا ہے ایسے میں خدا یاد
جب تک رہا بیمار میں دم تم کو کیا یاد
تھی اور کسے دردِ محبت کی دوا یاد
۔۔۔
تری گلی میں بیاں کس سے آرزو کرتے
کسی کو جانتے ہوئے تو گفتگو کرتے
لحد میں جا کے بھی ہم مئے کی جستجو کرتے
فرشتے پوچھتے کچھ، ہم سبو سبو کرتے
حفاظتِ گل و غنچہ نہ چار سو کرتے
اگر یہ خار نہ احساسِ رنگ و بو کرتے
قفس میں کیسے بیاں حالِ رنگ و بو کرتے
پروں کی خیر مناتے کہ گفتگو کرتے
یہاں نمازِ جنازہ ہے ختم ہونے کو
حضور ہیں کہ ابھی تک نہیں وضو کرتے
بہار دیکھ کے کیا کیا ہنسے ہیں دیوانے
کہ پھول چاک گریباں نہیں، رفو کرتے
جنوں میں  ہوش جب  آیا تو ہوش ہی نہ رہا
کہ اپنے چاکِ گریباں کو ہم رفو کرتے
نہ ملتی خاک میں دامن سے گر کے یوں شبنم
چمن کے پھول اگر پاسِ آبرو کرتے
قمر یقین جو کرتے ہم ان کے وعدے پر
تمام رات ستاروں سے گفتگو کرتے
۔۔۔
ممکن ہے کوئی موج ہو ساحل ادھر نہ ہو
اے نا خدا کہیں یہ فریبِ نظر نہ ہو
یہ تو نہیں کہ  آہ میں کچھ بھی اثر نہ ہو
ممکن  ہے آج رات کوئی اپنے گھر نہ ہو
تاروں کی سیر دیکھ رہے ہیں نقاب سے
ڈر بھی رہے ہیں مجھ پہ قمر کی نظر نہ ہو
۔۔۔
لحد والے امیدِ فاتحہ اور تجھ کو قاتل سے
کہیں ڈوبی ہوئی کشتی ملا کرتی ہے ساحل سے
نہ تھے جب آپ تو یہ حال تھا بیتابیِ دل سے
کبھی جاتا تھا محفل میں کبھی آتا تھا محفل سے
نگاہیں ان کو دیکھیں دیکھ کر یہ کہہ دیا دل سے
جو تو بیٹھا تو فتنے سینکڑوں اٹھیں گے محفل سے
دلوں میں آگئے جب فرق تو جاتے نہیں دل سے
کہ یہ ٹوٹے ہوئے شیشے جڑا کرتے ہیں مشکل سے
چمن مل جائے گا اہلِ چمن مل جائیں گے چھٹ کر
مگر تنکے نشیمن کے ملیں گے مجھ کو مشکل سے
ہماری کچھ نہ پوچھو ہم بری تقدیر والے ہیں
کہ جیتے ہیں تو مشکل سے جو مرتے ہیں تو مشکل سے
بگولا جب اٹھا میں راہ گم کردہ یہی سمجھا
کوئی رستہ بتانے آرہا ہے مجھ کو منزل سے
خموشی پر یہ حالت ہے خدا معلوم کیا کرتا
کوئی آواز آ جاتی اگر مجنوں کو محمل سے
صدا سن کر نہ طوفاں میں کسی نے دستگیری کی
کھڑے دیکھا کیے سب ڈوبنے والے کو ساحل سے
نہ ہو بیزار مجھ سے د یکھ لینا ورنہ اے دنیا
نہ آؤں گا کبھی ایسا اٹھوں گا تیری محفل سے
۔۔۔
مری وحشت کی شہرت جب زمانے میں کہیں ہوتی
گریباں پاؤں میں ہوتا گلے میں آستیں ہوتی
مشیت اے بتو، اللہ کی خالی نہیں ہوتی
خدائی تم نہ کر لیتے اگر دنیا حسیں ہوتی
پسِ مردن مجھے تڑپانے والے دل یہ بہتر تھا
تری تربت کہیں ہوتی مری تربت کہیں ہوتی
اثر ہے کس قدر قاتل تری نیچی نگاہوں کا
شکایت تک خدا کے سامنے مجھ سے نہیں ہوتی
ہمیشہ کا تعلق اور اس پر غیر کی محفل
یہاں تو پردہ پوشِ چشمِ گریاں آستیں ہوتی
نہ رو اے بلبل ناشاد مجھ کمبخت کے آگے
کہ تابِ ضبط اب دکھتے ہوئے دل سے نہیں ہوتی
شبِ فرقت یہ کہہ کر آسماں سے مر گیا کوئی
سحر اب اس طرح ہو گی اگر ایسے نہیں ہوتی
قسم کھاتے ہو میرے سامنے وعدے پہ آنے کی
چلو بیٹھو وفا داروں کی یہ صورت نہیں ہوتی
ترے کوچے کے باہر یہ سمجھ کر جان دیتا ہوں
کہ مرتا ہے جہاں کوئی وہیں تربت نہیں ہوتی
شبِ مہتاب بھی تاریک ہو جاتی ہے آنکھوں میں
قمر جب میرے گھر وہ چاند سی صورت نہیں ہوتی
۔۔۔
کسی کو دل مجھے دینا تو ناگوار نہیں
مگر حضور زمانے کا اعتبار نہیں
وہ آئیں فاتحہ پڑھنے اب اعتبار نہیں
کہ رات ہو گئی دیکھا ہوا مزار نہیں
کفن ہٹا کے وہ منہ بار بار دیکھتے ہیں
ابھی انھیں مرے مرنے کا اعتبار نہیں
۔۔۔
داستاں اوراقِ گل پر تھی مجھی ناشاد کی
بلبلوں نے عمر بھر میری کہانی یاد کی
مجھ سے روٹھا ہے خودی دیکھو بتِ جلاد کی
مدعا یہ ہے کہ کیوں اللہ سے فریاد کی
قبر ٹھوکر سے مٹا دی عاشقِ ناشاد کی
یہ بھی اک تاریخ تھی ظالم تری بیداد کی
کیا ملے دیکھیں اسیروں کو سزا فریاد کی
آج کچھ بدلی ہوئی سی ہے نظر صیاد کی
رات میں بلبل تجھے سوجھی تو ہے فریاد کی
آنکھ سوتے سے نہ کھل جائے کہیں صیاد کی
جس جگہ پہنچا وہیں آمد سنی صیاد کی
کیا بری تقدیر ہے مجھے خانماں برباد کی
فصلِ گل آتے ہی میرے چار تنکوں کے لیے
بجلیاں بے تاب ہیں چرخِ ستم ایجاد کی
ہو گیا بیمار کا دو ہچکیوں میں فیصلہ
ایک ہچکی موت کی اور اک تمھاری یاد کی
جاؤ بس رہنے بھی دو آئے نہ تم تو کیا ہوا
کیا کوئی میت نہ اٹھی عاشقِ ناشاد کی
اب مرے اجڑے نشیمن کی الٰہی خیر ہو
آج پھر دیکھی ہے صورت خواب میں صیاد کی
کس طرح گزری شبِ فرقت قمر سے یہ نہ پوچھ
کچھ ستارے گن لئے، کچھ روئے، کچھ فریاد کی
۔۔۔
ڈھونڈنے پر بھی نہ دل پایا گیا
سوچتا ہوں کون کون آیا گیا
ناصحا میں یہ نا سمجھا آج تک
کیا سمجھ کر مجھ کو سمجھایا گیا
۔۔۔
ہے وعدہ خلافی کے علاوہ بھی ستم اور
گر تم نہ خفا ہو تو بتا دیں تمھیں ہم اور
یہ مئے ہے ذرا سوچ لے اے شیخِ حرم اور
تو پہلے پہل پیتا ہے کم اور ارے کم اور
وہ پوچھتے ہیں دیکھئے یہ طرفہ ستم اور
کس کس نے ستایا ہے تجھے ایک تو ہم اور
وہ دیکھ لو احباب لیے جاتے ہیں میت
لو کھاؤ مریضِ غم فرقت کی قسم اور
اب قبر بھی کیا دور ہے جاتے ہو جو واپس
جب اتنے چلے آئے ہو دو چار قدم اور
قاصد یہ جواب ان کا ہے کس طرح یقیں ہو
تو اور بیاں کرتا ہے خط میں ہے رقم اور
موسیٰؑ سے ضرور آج کوئی بات ہوئی ہے
جاتے میں قدم اور تھے آتے میں قدم اور
تربت میں رکے ہیں کہ کمر سیدھی تو کر لیں
منزل ہے بہت دور کی لے لیں ذرا دم اور
یہ بات ابھی کل کی ہے جو کچھ تھے ہمیں تھے
اللہ تری شان کہ اب ہو گئے ہم اور
بے وقت عیادت کا نتیجہ یہی ہو گا
دوچار گھڑی کے لیے رک جائے گا دم اور
اچھا ہوا میں رک گیا آ کر تہِ تربت
پھر آگے قیامت تھی جو بڑھ جاتے قدم اور
ہوتا ہے  قمر کثرت و وحدت میں بڑا فرق
بت خانے بہت سے ہیں نہیں ہے تو حرم اور
۔۔۔
یہ مانا برق کے شعلے مرا گھر پھونک کر جاتے
مگر کچھ حادثے پھولوں کے اوپر بھی گزر جاتے
مرے کہنے سے گر اے ہم قفس خاموش ہو جاتا
نہ تیرے بال و پَر جاتے نہ میرے بال و پر جاتے
۔۔۔
کریں گے شکوۂ جورو جفا دل کھول کر اپنا
کہ یہ میدان محشر ہے نہ گھر ان کا نہ گھر اپنا
مکاں دیکھا کیے مڑ مڑ کے تا حدِ نظر اپنا
جو بس چلتا تو لے آتے قفس میں گھر کا گھر اپنا
بہے جب آنکھ سے آنسو بڑھا سوزِ جگر اپنا
ہمیشہ مینہ برستے میں جلا کرتا ہے گھر اپنا
پسینہ، اشکِ حسرت، بے قراری، آخری ہچکی
اکٹھا کر رہا ہوں آج سامانِ سفر اپنا
یہ شب کا خواب یا رب فصلِ گل میں سچ نہ ہو جائے
قفس کے سامنے جلتے ہوئے دیکھا ہے گھر اپنا
دمِ آخر علاجِ سوزِ غم کہنے کی باتیں ہیں
مرا رستہ نہ روکیں راستہ لیں چارہ گر اپنا
نشاناتِ جبیں جوشِ عقیدت خود بتائیں گے
نہ پوچھو مجھ سے سجدے جا کے دیکھو سنگِ در اپنا
جوابِ خط کا ان کے سامنے کب ہوش رہتا ہے
بتاتے ہیں پتہ میری بجائے نامہ بر اپنا
مجھ اے قبر دنیا چین سے رہنے نہیں دیتی
چلا آیا ہوں اتنی بات پر گھر چھوڑ کر اپنا
شکن آلود بستر، ہر شکن پر خون کے دھبے
یہ حالِ شامِ غم لکھا ہے ہم نے تا سحر اپنا
قمر ان کو نہ آنا تھا نہ آئے صبح ہو نے تک
شبِ وعدہ سجاتے ہی رہے گھر رات بھر اپنا
۔۔۔
توبہ کیجے اب فریبِ دوستی کھائیں گے کیا
آج تک پچھتا رہے ہیں اور پچھتائیں گے کیا
کل بہار آئے گی یہ سن کر قفس بدلو نہ تم
رات بھر میں قیدیوں کے پر نکل آئیں گے کیا
اے دلِ مضطر انھی باتوں سے چھوٹا تھا چمن
اب ترے نالے قفس سے بھی نکلوائیں گے کیا
اے قفس والو رہائی کی تمنا ہے فضول
فصلِ گل آنے سے پہلے پر نہ کٹ جائیں گے کیا
شامِ غم جل جل کے مثلِ شمع ہو جاؤں گا ختم
صبح کو احباب آئیں گے تو  دفنائیں گے کیا
جانتا ہوں پھونک دے گا تیرے گھر کو باغباں
آشیاں کے پاس والے پھول رہ جائیں گے کیا
ان کی محفل میں چلا آیا ہے دشمن خیر ہو
مثلِ آدم ہم بھی جنت سے نکل جائیں گے کیا
ناخدا موجوں میں کشتی ہے تو ہم کو نہ دیکھ
جن کو طوفانوں نے پالا ہے وہ گھبرائیں گے کیا
تو نے طوفاں دیکھتے ہی کیوں نگاہیں پھیر لیں
ناخدا یہ اہل کشتی ڈوب ہی جائیں گے کیا
کیوں یہ بیرونِ چمن جلتے ہوئے تنکے گئے
میرے گھر کی بات  دنیا بھر میں پھیلائیں گے کیا
کوئی تو مونس رہے گا اے قمر شامِ فراق
شمع گل ہوگی تو یہ تارے بھی چھپ جائیں گے کیا
۔۔۔
ضد ہے ساقی سے کہ بھر دے مرا پیمانہ ابھی
شیخ صاحب سیکھیئے آدابِ میخانہ ابھی
باغباں توہینِ گلشن چار تنکوں کے لئے
برق سے کہہ دے بنا جاتا ہے کاشانہ ابھی
۔۔۔
ہم خیالِ قیس ہوں ہم مشربِ فرہاد ہوں
حسن اتنا سوچ لے دو بیکسوں کی یاد ہوں
پاشکستہ، دل حزیں، شوریدہ سر، برباد ہوں
سر سے لے کر پاؤں تک فریاد ہی فریاد ہوں
حالِ گلشن کیا ہے اے نوواردِ کنجِ قفس
میں تو  مدت سے اسیرِ خانۂ صیاد ہوں
خیریت سن لی گل و غنچے کی لیکن اے صبا
یاد ہیں مجھ کو تو سب میں بھی کسی کو یاد ہوں
تم سرِ محفل جو چھیڑو گے مجھے پچھتاؤ گے
جس کو سن سکتا نہیں کوئی میں وہ فریاد ہوں
تجھ سے میں واقف تو تھا گندم نما اوجَو فروش
فطرتاً کھانا پڑا دھوکا  کہ آدم زاد ہوں
گُلشنِ عالم میں اپنوں سے تو اچھے غیر ہیں
پھول ہیں بھولےہوئے کانٹوں کو لیکن یاد ہوں
قید میں صیاد کی پھر بھی ہیں نغمے رات دن
اس قدر پابندیوں پر کس قدر آزاد ہوں
بولنے کی دیر ہے میری ہر اک تصویر ہیں
میں زمانے کا ہوں مانی وقت کا بہزاد ہوں
صفحۂ ہستی سے کیا دنیا مٹائے گی مجھے
میں کوئے نقش و نگار مانی و بہزاد ہوں
فصلِ گل آنے کی کیا خوشیاں نشیمن جب نہ ہو
باغ کا مالک ہوں لیکن خانماں برباد ہوں
میں نے دانستہ چھپائے تھے ترے جور و ستم
تو نے یہ سمجھا کہ میں نا واقفِ فریاد ہوں
کیا پتہ پوچھو ہو میرا نام روشن ہے قمر
جس جگہ تاروں کی بستی ہے وہاں آباد ہوں
تم نے دیکھا تھا قمر کو بزم میں وقتِ سحر
جس کا منہ اترا ہوا تھا میں وہی ناشاد ہوں
۔۔۔
منانے کو مجھے آئے ہو دشمن سے خفا ہو کر
وفاداری کے وعدے کر رہے ہو بے وفا ہو کر
نہ ابھری گردشِ تقدیر سے یہ ڈوبتی کشتی
میں خود شرما گیا منت گزارِ ناخدا ہو کر
۔۔۔
اگر صیاد یہ بجلی نشیمن پہ گری ہو گی
دھواں تنکوں سے اٹھے گا چمن میں روشنی ہو گی
ستم گر حشر میں وہ بھی قیامت کی گھڑی ہو گی
ترے دامن پہ ہوگا ہاتھ دنیا دیکھتی ہو گی
مجھے شکوے بھی آتے ہیں مجھے نالے بھی آتے ہیں
مگر یہ سوچ کر چپ ہوں کی رسوا عاشقی ہو گی
تو ہی انصاف کر جلوہ ترا دیکھا نہیں جاتا
نظر کا جب یہ عالم ہے تو دل پر کیا بنی ہو گی
اگر آ جائے پہلو میں قمر وہ ماہِ کامل بھی
دو عالم جگمگا اٹھیں گے دوہری چاندنی ہو گی
۔۔۔
کیا سے کیا او  دشمن جاں تیرا پیکاں ہو گیا
تھا کماں تک تیر دل میں آ کے ارماں ہو گیا
کیا خبر تھی یہ بلائیں سامنے آ جائیں گی
میری شامت مائلِ زلفِ پریشاں ہو گیا
کچھ گلوں کو ہی نہیں میری اسیری کا الم
سوکھ کر کانٹا ہر اک خارِ گلستاں ہو گیا
۔۔۔
سرِ شام تجھ سے ملنے ترے در پہ آ گئے ہیں
یہ وہی ہیں لوگ شاید جو فریب کھا گئے ہیں
میں اگر قفس سے چھوٹا تو چلے گی باغباں سے
جہاں میرا آشیاں تھا وہاں پھول آ گئے ہیں
کوئی ان سے جا کےکہہ دے سرِ بام پھر تجلی
جنہیں کر چکے ہو بے خود انھیں ہوش آ گئے ہیں
یہ پتا بتا رہے ہیں رہِ عشق کے بگولے
کہ ہزاروں تم سے پہلے یہاں خاک اڑا گئے ہیں
شبِ ہجر شمع گل ہے مجھے اس سے کیا تعلق
قمر آسماں کے تارے کہاں منہ چھپا گئے ہیں
۔۔ ۔
دل انھیں کیا دیا قرار نہیں
عشق کو حسن ساز گار نہیں
دل کے اوپر نگاہِ یار نہیں
تیر منت کشِ شکار نہیں
اب انھیں انتظار ہے میرا
جب مجھے ان کا انتظار نہیں
شکوۂ بزمِ غیر ان سے عبث
اب انھیں اپنا اعتبار نہیں
منتظر شام کے رہو نہ قمر
ان کے آنے کا اعتبار نہیں
۔۔۔
کچھ تو کہہ دے کیا کریں اے ساقیِ مے خانہ ہم
اپنی توبہ توڑ دیں یا توڑ دیں پیمانہ ہم
دل عجب شے ہے یہ پھر کہتے ہیں آزادانہ ہم
چاہے جب کعبہ بنا لیں چاہے جب بت خانہ ہم
داستانِ غم پہ وہ کہتے ہیں یوں ہے یوں نہیں
بھول جاتے ہیں جو دانستہ کہیں افسانہ ہم
مسکرا دیتا ہے ہر تارا ہماری یاد پر
بھول جاتے ہیں قمر اپنا اگر افسانہ ہم

Related posts

Leave a Comment