وہ کہ جو دھونس جمانے آگ سا برسا ہے
کہتے ہیں ہم محتاجوں کا مسیحا ہے
بہرِ تحفّظ، گنتی کی کچھ راتوں کو
بھیڑ نے چِیتے کو مہماں ٹھہرایا ہے
جو چڑیا سونے کا انڈا دیتی تھی
غاصب اب کے اُس چڑیا پر جھپٹا ہے
کیا کہیے کس کس نے مستقبل اپنا
ہاتھ کسی کے کیونکر گروی رکھا ہے
بپھری خلق کے دھیان کو جس نے بدلا وہ
شعبدہ بازوں کی ڈفلی کا کرشمہ ہے
چودھری اور انداز سے خانہ بدوشوں سے
اپنا بھتّہ ہتھیانے آ پہنچا ہے
Related posts
-
بسمل صابری ۔۔۔ حیراں ہوں کہ اب لاؤں کہاں سے میں زباں اور
حیراں ہوں کہ اب لاؤں کہاں سے میں زباں اور لب کہتے ہیں کچھ اور انھیں... -
بسمل صابری ۔۔۔ سحر ہوئی تو خیالوں نے مجھ کو گھیر لیا
سحر ہوئی تو خیالوں نے مجھ کو گھیر لیا جب آئی شب ترے خوابوں نے مجھ... -
حفیظ ہوشیارپوری ۔۔۔ محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے
محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے تری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے میں...
