ہر تماشے میں جا گزیں ہو تم
کتنی اچھی تماشبیں ہو تم
میں تو گزرا ہوا زمانہ ہوں
کیوں مجھے بھولتی نہیں ہو تم
اس قدر بولنا نہیں آتا
ورنہ کہتا بہت حسیں ہو تم
خوش ہوا خود کو میں فنا کر کے
اس جہأں میں بھی ہم نشیں ہو تم
جب امانت تھیں تم : امیں تھا میں
اب امانت ہوں میں، امیں ہو تم
سیر گاہیں نظر میں ہیں، ورنہ
جانتا ہوں کہاں مکیں ہو تم
یعنی تم اتنی دور تھیں مجھ سے
میں تو سمجھا تھا کہ یہیں ہو تم
میں زمانے سے خود نمٹ لوں گا
تم نہ جھگڑو کہ نازنیں ہو تم
بازو جلنے لگا تمھیں چھو کر
رہنا محتاط آستیں ہو تم
