کوئی تو بات ہے کہ دن آج بھی ختم ہو گیا
یوں ہی یہ رات ہے رواں ، پھر بھی رواں یونہی نہیں
Related posts
-
راحت اندوری
بہت غرور ہے دریا کو اپنے ہونے پر جو میری پیاس سے الجھے تو دھجیاں اڑ... -
-
