جلیل عالی ۔۔۔ توبہ پہ بھی جو پاس بٹھائے نہیں گئے

توبہ پہ بھی جو پاس بٹھائے نہیں گئے
اگلے گناہ کے ابھی سائے نہیں گئے

جگ گھوم گھام پھر اسی چھت کے تلے ملے
گھر بیچ باچ دیس پرائے نہیں گئے

جْھٹلا سکا نہ کوئی ہمارا کہا مگر
سمجھے کبھی بھی صاحبِ رائے نہیں گئے

ہارا جفا کے سامنے کیا کیا زرِ انا
انکار ایک دو بھی کمائے نہیں گئے

بارِ معاملات کے ڈھونے کا دَم کہاں
گل حسنِ گفتگو کے اٹھائے نہیں گئے

اک لَو لہو میں شوقِ شہادت کی تھی سو ہم
مقتل میں آپ آئے ہیں‘ لائے نہیں گئے

عالی گھرے ہیں سوچ عذابوں میں ذہن و دل
مدت ہوئی ہے خواب سرائے نہیں گئے

Related posts

Leave a Comment