لبوں تک آیا زباں سے مگر کہا نہ گیا فسانہ درد کا المختصر کہا نہ گیا
Read MoreCategory: آج کا شعر
صفی لکھنوی
جو بڑھے حدِ طریقت سے وہ تھک جائیں گے کفر و ایماں کے دو راہے پہ بھٹک جائیں گے
Read Moreابراہیم اشک
بس ایک بار ہی توڑا جہاں نے عہدِ وفا کسی سے ہم نے پھر عہدِ وفا کیا ہی نہیں
Read Moreابراہیم اشک
نہ دل میں کوئی غم رہے نہ میری آنکھ نم رہے ہر ایک درد کو مٹا شراب لا شراب دے
Read Moreابراہیم اشک
تھی حوصلے کی بات زمانے میں زندگی قدموں کا فاصلہ بھی یہاں ایک جست تھا
Read Moreابراہیم اشک
خود اپنے آپ سے لینا تھا انتقام مجھے میں اپنے ہاتھ کے پتھر سے سنگسار ہوا
Read Moreابراہیم اشک
مجھے نہ دیکھو مرے جسم کا دھواں دیکھو جلا ہے کیسے یہ آباد سا مکاں دیکھو
Read Moreصفی لکھنوی
وہ عالم ہے کہ منہ پھیرے ہوۓ عالم نکلتا ہے شبِ فرقت کے غم جھیلے ہوؤں کا دم نکلتا ہے
Read Moreڈاکٹر امام اعظم
جو مزے آج ترے غم کے عذابوں میں ملے ایسی لذت کہاں ساقی کی شرابوں میں ملے
Read Moreفراغ روہوی
نہ چاند نے کیا روشن مجھے نہ سورج نے تو میں جہاں میں منور ہوا تو کیسے ہوا
Read More