اُم حبیبہ ۔۔۔۔ بوڑھے پیر کی کہانی (نثری نظم)

بوڑھے پیر کی کہانی (نثری نظم) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تخیل کی اڑان میں تصورات محوِ رقص ہیں خاکی صحراوؤں کی گزر گاہیں کتنی دلکش ہیں کہ ان کے مبہم راستے فریبِ امید ہیں جیسے دور کسی خزاں کی بھینٹ چڑھتا بے برگ پیڑ جس کی سرد چھاؤں میں آس کی ضعیفہ جس کے بالوں میں چاندنی اتر آئی ہے کسی پرانی عمارت کی عکاس ہے ہوا میں سانحے ہونے سے قبل وہ اکلوتا چراغ جو ہم نے بوسیدہ کمرے کی شیلف پہ سجا کے رکھا ہے اس کی لو کی آہٹوں میں…

Read More

راجہ عبدالقیوم ۔۔۔ خواب در خواب

چل رہی ہے بڑے انداز سے آہستہ خرام لگ رہا ہے ترے کوچے سے صبا آئی ہے یوں مہک اُٹھا ہے گھر کا مرے گوشہ گوشہ جیسے اُٹھ کر ترے پہلو سے بہار آئی ہے پھول چن کر ترے پہلو سے ابھی لائی ہے کس نے دیکھا ہے کہ تارے بھی چمک اُٹھے ہیں چاند بھی جیسے سرِ بام اُتر آیا ہے ایک منظر جو تہہِ خواب تھا آسودہ کہیں اب حقیقت کی طرح مجھ کو نظر آیا ہے خواب در خواب پسِ عکس جو منظر ابھرے لاکھ چاہوں بھی…

Read More

نسیمِ سحر ۔۔۔ ’’آفتاب آمد دلیلِ آفتاب‘‘ ( نعتیہ نظم)

جِس کے لئے زمین دلیل،آسماں دلیل جس کے لئے ہوئے ہیں یہ کون و مکاں دلیل جس کے لئے ہیں بحر کی گہرائیاں دلیل جس کے لئے پہاڑوں کی اونچائیاں دلیل صحرا میں جس کے فیض کی زرخیزیاں دلیل گلپوش پیڑ اور حسیں وادیاں دلیل جس کی گواہ بحر کی سب بے کرانیاں چشموںسے پھوٹتا ہؤا آبِ رواں دلیل یثرب تھا جو ، مدینۂ طیبہ کہا گیا اُس بے مثال کے لئے ہے وہ مکاں دلیل جس کی صداقتوںکے لئے وقف ہر یقیں ہر اعتقاد جس کے لئے بے گماں…

Read More

امجد اسلام امجد ۔۔۔ منظر کیسے بدل سکے!

منظر کیسے بدل سکے! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمارے اِرد گرد اور قدم قدم پہ نت نئے ، سوال ہی سوال ہیں کہ جن کا شجرۂ نسب ہے دُور تک رواں دواں اُس ایک پَل کی موج میں کہ جس میں ایک جا ہوئیں زماں مکاں کی وسعتیں اور اُس کے بعد چل پڑا یہ اجنبی سا سلسلہ ، سوال اور خیال کا فروغِ زخم جستجو اور اس کے اندمال کا گئی رُتوں کی کھڑکیوں سے جھانکتے ملال کا ابھی کسی سوال کا جواب ڈھونڈنے پہ ہم نہ لے سکے تھے اک سکوں…

Read More

غلام حسین ساجد ۔۔۔ اپنے جیسی ایک مثال

اپنے جیسی ایک مثال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوا جب رقص کرتی ہے نئے موسم کی بانہوں میں تو پیڑوں اور بیلوں کی تھکن سے چور آنکھیں بھی نئے پتوں، شگوفوں کے سہانے خواب سے بوجھل خزاں کے زرد بستر سے بہارِ سرخ کی جانب لہو کے گرم دھارے میں عجب اِک کیف میں لرزاں بہت تیزی سے بہتی ہیں مگر خاموش رہتی ہیں

Read More

حامدؔ یزدانی … خود۔جزیرہ رات کاآخری مشورہ

خود۔جزیرہ رات کاآخری مشورہ …………………… بس اب بھاگنابند کرو کیارات ہے! نوکیلے تاروں میں الجھا تاج نما اک چاند ہے اوربے رنگ۔۔۔ کہ پل پل رنگ بدلتا اک ہالہ ہے! رک جاؤ اب رک جاؤ بھاگنے سے کیا فاصلے کم ہو جائیں گے؟ سچ مانو، تم تھک ٹوٹ چکے ہو بریف کیس کو تھامے ایسے بھاگتے بھاگتے، ہانپتے ہانپتے یہیں، یہیں، بس یہیں رُکو اس مین ہول کا ڈھکن کھینچو ہاتھ میں تھامے بریف کیس کو اندر پھینکو وہ بے رنگ۔۔۔ کہ پل پل رنگ بدلتا ہالہ نیم غنودہ ہے…

Read More

صفدر صدیق رضی ۔۔۔۔

بڑا آدمی ۔۔۔۔۔۔۔۔ پسرزادے یقیناً ایک دن جب تم بھی دنیا کے بڑے لوگوں میں ہو گے میں منوں مٹی تلے، اتنی بلندی پر تمہاری عظمت و رفعت کے منظر کو نہ شاید دیکھ پاؤں سو تم اپنے پیشرو مرحوم دادا کیلئے جا کر ضرور اس دن دعائے مغفرت کرنا کہ مجھ چھوٹے سے بندے نے سنا ہے وہ خدائے لم یزل سب سے بڑا ہے اور بڑے لوگوں کی سنتا ہے !

Read More

دردانہ نوشین خان ۔۔۔۔ 22ویں صدی کے آدم زادو

22ویں صدی کے آدم زادو ۔۔۔۔۔۔۔……………………. 22ویں صدی کے آدم زادو! تم کیسے ہو گے؟؟ ہم جیسے ہو گے؟؟ کیسے اُڑتے ، اُترتے ، زمین پہ چلتے ہو گے کیا پہنتے ، کیا بولتے کیا خواب رکھتے ہو گے تمھاری محفلیں بھی تو ہوں گی وہ کیسی ہوں گی؟؟ لمبی مسافتوں کی کہانیاں تو مر چکیں نئی ایجادوں پہ اُنگلیوں کا یا انگلیوں کابھی نہیں… رگوں میں مدخول نظریوں کا عجب کوئی اسرار ہو گا متروک جذبوں کی مسند پہ حکم کوئی سردار ہو گا 22ویں صدی کے آدم زادو!…

Read More

فیض رسول فیضان ۔۔۔ دعا

فضل کر پروردگار اب کے برس چہرئہ ہستی نکھار اب کے برس جان میں تیرے کرم سے آئے جان دان کر دل کو قرار اب کے برس واسطہ تجھ کو ترے محبوبؐ کا ہم کو پستی سے اُبھار اب کے برس ایک مدت سے ہے ملت پائمال مرحمت فرما وقار اب کے برس ہو نگاہِ لطف، پاکستان پر جگمگا لیل و نہار اب کے برس بھیک دے شیرازہ بندی کی ہمیں ختم ہو دورِ فشار اب کے برس التجا فیضانؔ کی ہو باریاب نجش دے امن و قرار اب کے…

Read More

ازہر ندیم ۔۔۔ گیان

گیان ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم سانجھ سویر کے یہ چھل بل پہچانتے ہیں ہم جانتے ہیں یہ موہ مایا، یہ چھب، یہ پھبن کچھ ایسے گہرے بھید نہیں کہ روگ بنیں یہ جیون کا یہ روپ نیارا موسم ہے بس کچھ پل میں ڈھل جائے گا یہ برہا ، جوگ، وجوگ سبھی اک یاد بنیں گے آخر میں یہ دھونی ،سادھنا اور پوجا اک جنگل میں رہ جائیں گے اور انت سمے یہ سارے یُگ خاموشی سے بھر جائیں گے ہم جانتے ہیں ہر ایک جنم یہ لِیلا لیکھ میں لکھی ہے…

Read More