فیض رسول فیضان ۔۔۔ دعا

فضل کر پروردگار اب کے برس چہرئہ ہستی نکھار اب کے برس جان میں تیرے کرم سے آئے جان دان کر دل کو قرار اب کے برس واسطہ تجھ کو ترے محبوبؐ کا ہم کو پستی سے اُبھار اب کے برس ایک مدت سے ہے ملت پائمال مرحمت فرما وقار اب کے برس ہو نگاہِ لطف، پاکستان پر جگمگا لیل و نہار اب کے برس بھیک دے شیرازہ بندی کی ہمیں ختم ہو دورِ فشار اب کے برس التجا فیضانؔ کی ہو باریاب نجش دے امن و قرار اب کے…

Read More

ازہر ندیم ۔۔۔ گیان

گیان ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم سانجھ سویر کے یہ چھل بل پہچانتے ہیں ہم جانتے ہیں یہ موہ مایا، یہ چھب، یہ پھبن کچھ ایسے گہرے بھید نہیں کہ روگ بنیں یہ جیون کا یہ روپ نیارا موسم ہے بس کچھ پل میں ڈھل جائے گا یہ برہا ، جوگ، وجوگ سبھی اک یاد بنیں گے آخر میں یہ دھونی ،سادھنا اور پوجا اک جنگل میں رہ جائیں گے اور انت سمے یہ سارے یُگ خاموشی سے بھر جائیں گے ہم جانتے ہیں ہر ایک جنم یہ لِیلا لیکھ میں لکھی ہے…

Read More

جمیل یوسف ۔۔۔ رافی

رافی ۔۔۔۔ برگِ گُل سے بنائی مورت ہو ہائے تم کتنی خوبصورت ہو میرے احساس کی تجلی ہو میرے وجدان کی بشارت ہو نبضِ ہستی کو جو رواں رکھے تم مرے خوں میں وہ حرارت ہو میں جسے آج تک سمجھ نہ سکا تم محبت کی وہ بجھارت ہو میرے فکر و خیال کی رفعت میرے جذبات کی طہارت ہو شعر و عرفاں کی روشنی ہو تم کس قدر خوشنما عبارت ہو دھیان جس کا طواف کرتا ہے دل کی نگری میں وہ زیارت ہو دل کو پھر زندہ کر…

Read More

پروین شاکر ۔۔۔ احمد جلیل

پروین شاکر ۔۔۔۔۔۔۔ وہ جس کے نام کی بکھری نگر نگر خوشبو ادب سے روٹھ گئی آج وہ مگر خوشبو ہر ایک رنگ تھا اس کے سخن اجالے میں دھنک گلاب شفق تتلیوں کے پر خوشبو اسے قرینہ تھا ہر ایک بات کہنے کا سماعتوں کے وہ سب کھولتی تھی در خوشبو وہ خود کلامی تری تیرا جبر سے انکار ہیں تیری سوچ کے صد برگ نامہ بر خوشبو جو تیرے پھول سے بکھری ہے ان ہوائوں میں ہمیشہ کرتی رہے گی وہ اب سفر خوشبو نہ جانے اتریں کہاں…

Read More

محترمہ بے نظیر بھٹو کی نذر ۔۔۔ خالق آرزو

محترمہ بے نظیر بھٹو کی نذر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اے ذوالفقار رب نے تجھے دی وہ ذوالفقار فوجِ غنیم کو جو کرے پل میں تار تار ٹھہرا نہیں ہے سامنے جس کے کوئی عیار جس نے وطن کی شان پہ کنبہ دیا ہے وار جس کی جہاں میں ملتی نہیں کوئی بھی نظیر وہ دخترِ عظیم ، ہماری ہے بینظیر اپنے وطن سے اس کو نکالا دیا گیا اُس چاند کو بھی خون کا ہالہ دیا گیا اہلِ وطن کو جھوٹا سنبھالا دیا گیا ہم کو سیاہ رنگ اُجالا دیا گیا بیٹی…

Read More

Slvester’s Dying Bed by Langston Hughes

I woke up this mornin ’Bout half-past three All the womens in town Was gathered round me Sweet gals was a-moanin “Sylvester’s gonna die” And a hundred pretty mamas Bowed their heads to cry I woke up little later Bout half-past fo The doctor ‘n’ undertaker’s Both at ma do Black gals was a-beggin “You can’t leave us here” Brown-skins cryin’, “Daddy Honey! Baby! Don’t go, dear” But I felt ma time’s a-comin And I know’d I’s dyin’ fast I seed the River Jerden A-creepin’ muddy past But I’s still…

Read More

خاور اعجاز ۔۔۔ ہبوط

ہبوط ۔۔۔۔۔۔۔۔ زمانے! تِری لوح پر خواب لِکھا ہُوا ہے مِرا اِس زمیں سے مگر چاند لگتا ہے وہ تیرے ماتھے پہ جھومر کی صورت چمکتا ہے آدھی جوانی اور آدھے بڑھاپے میں لپٹی ہُوئی خاک پر جب دمکتا ہے تصویر پانی کی، نیلے سمندر کی البم سے باہر اُچھلتی ہے مٹی کی عینک لگائے کنارے پہ بیٹھے ہُوئے آدمی کے قدم چومتی ہے۔ زمیں گھومتی ہے تو تصویر رہتی ہے پانی نہ وہ آدمی سارا منظر پھسل کر کسی دائمی بیکرانی کے جَل میں سما جاتا ہے آسمانی پہاڑی…

Read More

ظہور چوہان ۔۔۔ بولتی تصویریں

بولتی تصویریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جذبہ و احساس سے خالی اِن میں محبت نام کی کوئی چیز نہیں ہے چلتی پھرتی، جیتی جاگتی، بولتی ہیں تصویریں انسانوں کے روپ میں ہیں اور سینوں میں ہیں پتھر دل کا کام دھڑکنا جبکہ پتھر ہے اک بوجھ جسے اُٹھا کر پھرتے رہنا سَر ٹکراتے رہنا لیکن میرے کمرے میں ہیں کچھ ایسی تصویریں گھر میں رہنے والے جب سَو جاتے ہیں اُن کے رات کو نقش نمایاں ہو جاتے ہیں پھر وہ کاغذ کی تصویریں بولنے لگتی ہیں اور مرے دکھ درد ٹٹولنے لگتی…

Read More

نظم ۔۔۔ زعیم رشید

یہ چادر کیوں نہیں ہٹتی نہ جانے کیوں بڑی ماں کو جنوں تھا حکمرانی کا مِرے گھر کے سبھی کردار کہتے تھے انھی کی حکمرانی ہے انھی کی راجدھانی ہے انھی کا یہ وتیرہ ہے حویلی بھر کی جتنی چابیاں تھیں اُن کے پلو سے بندھی رہتی تھیں اور کس میں یہ جرأت تھی کہ اُن کو چھو بھی سکتا ہو یہ خوش بختی مقدر تھی تو میرا تھی کہ وہ صندوق جب کھولیں تو کمرے میں فقط مجھ کو بلاتی تھیں تو میں یوں بے نیازی میں کچھ ایسے…

Read More

اک کتھا انوکھی ۔۔۔ ڈاکٹر وزیر آغا

اک جنگل تھاگھنی گھنیری جھاڑیوں والابہت پرانا جنگلجس کے اندر اک کُٹیا میںاپنے بدن کی چھال میں لپٹااپنی کھال کے اندر گم صُمجانے کب سےکتنے جگوں سےپھٹے پرانے چوغے پہنےوہ اک خستہ بیج کی صورتبے سُدھبے آواز پڑا تھا! بادل آتےکڑک گرج کر اُسے بلاتےبِن برسے ہی پچھم کی جانب مڑ جاتےہوا دہکتی آنکھیںٹھنڈی پوریں لے کراس کے چاروں جانب پھرتیپر کیا کرتیگیدڑ، مور، ہرن اور بندرسب کُٹیا کے باہر ملتے، سبھا جماتےاس سے کہتے:’’اب تو اُٹھ جاآخری جُگ بھی بیت چکاسورج میں کالک اُگ آئیچاند کا ہالہ ٹوٹ گیادیکھ…

Read More