ارشد عباس ذکی … نظم

کہیں ملے تو اسے بتانا کہ زندگی میں بہت سی چیزیں بدل گئی ہیں اگر کہوں کہ یہ زندگی ہی بدل گئی ہے ۔۔۔۔۔۔ غلط نہ ہو گا نئے سِرے سے میں اس کو ترتیب دے رہا ہوں مگر یہ کیسا طلسم ہے کہ میں جس سِرے کو بھی چھیڑتا ہوں اُلجھ رہا ہے ۔۔۔۔۔ میں زندگی کے اس امتحاں سے گزر رہا ہوں جہاں پہ ہر روز آرزوؤں کا خون اپنی جبیں پہ مَلنا نصیب ٹھہرا مگر میں پھر بھی ۔۔۔ کٹے پھٹے ہونٹ، منتشر سوچ، اداس آنکھوں میں…

Read More

محمد نوید مرزا ۔۔۔ غزل کے رنگ سچّے ہیں (شکیب جلالی کے ایک نظم)

غزل کے رنگ سچّے ہیں (شکیب جلالی کے ایک نظم) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اُسے ہر شعر میں اپنے تخیل کو نئے مفہوم سے آراستہ کرنے کا یارا تھا وہ اک ایسا ستارا تھا کہ جس کی روشنی میں اک صدی کے بعد بھی کرنیں اُبھرنی تھیں غزل کو تازگی کے حسن سے اُس نے نوازا تھا بہت سے زخم تھے جو ذہن کی بھٹی میں ڈالے تو نئے اشعار نکلے تھے جو اُس کی روح تک پھیلے ہوئے ہر کرب کا اظہار نکلے تھے اُسی نے اس شکستہ زندگی میں بوجھ برسوں…

Read More

جمیل یوسف ۔۔۔ دعا

مرے سفر کا یوں ہی اختتام ہو جائے ترے دیار سے گزروں تو شام ہو جائے یہ لطفِ خاص ہو مجھ پر بھی اے مرے آقاؐ ترے غلاموں میں میرا بھی نام ہو جائے کرم ہو آقاؐ! مرا دیس بھی مدینہ بنے جو کام ہو نہیں پایا ، وہ کام ہو جائے یہ سرزمین بھی جنت سے کم نہیں ہے اگر یہاں ہر آدمی کا احترام ہو جائے ہر ایک شخص ہو حضرت معاذؓ کی مانند تو حُسنِ فکر و عمل شاد کام ہو جائے وہی نظام جو سارے جہاں…

Read More

نعمان فاروق … سالگرہ

سالگرہ نہ تو ہجر کا سورج ڈھلنانہ ہی وصل کی رات ہے آنیآنکھوں کی دہلیز نہ چھوڑےاجڑے خوابوں کی ویرانیچاہت غم کا راج بھنور ہےسو باتوں کی ایک کہانیوہ اک سندر ناری جس کےدم سے ہے یہ ریت پرانیاس کو خبر یہ کب ہوتی ہےدھرتی کے سینے پر میریپہلی صدا کا پہلا دن تھااس کو خبر بھی ہو جائے تونہ سندیس کوئی بھیجے گینہ ہی اس کی کال ہے آنیپھر کیا سوچ کے یارو ہم نےاب سالگرہ کی شام منانی

Read More

خالق آرزو ۔۔۔ آہٹیں واہمہ ہیں

آہٹیں واہمہ ہیں ہمنوا سوچنے تو دے مجھ کو ہمنوا سوچنے تو دے مجھ کو کس کی خوشبو فضا میں پھیلی ہے کون دیتا ہے دستکیں در پر کس کے لہجے کی دلنشینی کا سحر طاری ہوا سماعت پر عہدِماضی کے آشیانے سے فاختائیں حسین یادوں کی ذہن کی ملگجی فضاؤں میں پرکُشاہو گئی مسرت سے آہٹوں دستکوں کی شدت سے روح بیتاب ہوتی جاتی ہے ہمنوا سوچنے تو دے مجھ کو ہمنوا سوچنے تو دے مجھ کو سانس بے ربط ہوتی جاتی ہے دھڑکنیں تیز تر ہیں سینے میں…

Read More

طالب انصاری ۔۔۔ کہاں جاؤں

کہاں جاؤں ۔۔۔۔۔۔۔ مجھے اپنے لیے اک گھر بنانا ہے کہ اب سرکار کی جو نوکری ہے چُھٹنے والی ہے پرانی گلیوں میں واپس چلا جاؤں یہ جی تو کرتا ہے لیکن وہاں سے تو جڑیں ہی ایسی اکھڑی ہیں وہ مٹّی اجنبی نظروں سے مجھ کو گھورتی ہے اور مری پہچان سے انکار کرتی ہے مرے بیٹے نے جو نقشہ بنایا ہے تو اس میں کوئی ڈیوڑھی ہی نہیں ہے (اب کہیں تعمیر کی ہر ممکنہ صورت میں ڈیوڑھی کا تصوّر ہی نہیں ملتا) نہ لوہے کی سلاخوں والی…

Read More

محمد نوید مرزا ۔۔۔ جس کو احمد فراز کہتے ہیں (احمد فراز کے لیے نظم)

جس کے شعروں میں دل دھڑکتا تھا جس کی باتوں میں رنگ ہوتے تھے اُس کے لفظوں کے دائرے اندر ان گنت تتلیاں بھی ہوتی تھیں پھول ، خوشبو ، ہوا ، سبھی موسم دسترس میں وہ اپنی رکھتا تھا حرف اُس کے غلام تھے سارے وہ اُنھیں دم بدم پرکھتا تھا ظلمتوں کے خلاف بھی اُس نے روشنی کے پیام لکھے تھے جو صفِ دشمناں میں رہتے ہیں ایسے لوگوں کے نام لکھے تھے عام لوگوں میں خاص تھا کوئی زندگی کی اساس تھا کوئی اُس کی یادوں میں…

Read More

ابنِ انشا ۔۔۔ آتی ہے پون، جاتی ہے پون

جوگن کا بنا کر بھیس پھرےبرہن ہے کوئی ، چو دیس پھرےسینے میں لیے سینے کی دُکھنآتی ہے پوَ ن ، جاتی ہے پوَن پھولوں نے کہا، کانٹوں نے کہاکچھ دیر ٹھہر، دامن نہ چھڑاپر اِس کا چلن، وحشی کا چلنآتی ہے پوَ ن ، جاتی ہے پوَن اس کا تو کہیں مسکن نہ مکاںآوارہ بہ دل ، آوارہ بہ جاںلوگوں کے ہیں گھر، لوگوں کے وطنآتی ہے پوَ ن ، جاتی ہے پوَن یہاں کون پوَن کی نگاہ میں ہےوہ جو راہ میں ہے، بس راہ میں ہےپربت کہ…

Read More